Book Name:Madinay ki Machli

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

مدینے کی مچھلی      ([1])

شیطٰن لاکھ سُستی دلائے یہ رِسالہ (44 صَفحات) آخِر تک پڑھ لیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ    وَجَلَّ

اپنی ذات پر دوسرے مسلمان کی خاطر ایثار کا جذبہ بڑھے گا اور حُصُولِ جنَت کا سامان ہو گا۔

دُرُود شریف کی فضیلت

            قیامت کے دن کسی مسلمان کی نیکیاں میزان (یعنی ترازو)  میں ہلکی ہو جائیں گی تو سروَرِ کائنات، شاہِ موجودات،  مَحْبوبِ ربُّ الْارضِِ وَالسَّمٰوٰت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   ایک پرچہ اپنے پاس سے نکال کرنیکیوں کے پلڑے میں رکھ دیں گے تو اس سے نیکیوں کاپلڑا وَزنی ہو جائے گا۔وہ عرض کرے گا:  میرے ماں باپ آپ پر قربان!  آپ کون ہیں ؟ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرمائیں گے: میں تیر ا نبی محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)  ہوں اور یہ تیرا وہ دُرُودِ پاک ہے جو تُونے مجھ پر پڑھا تھا۔ (کتاب حسن الظن باللّٰہ لابی بکر بن ابی الدنیا ج۱ص۹۲حدیث۷۹مُلَخَّصاً)

ہم نے خطا میں نہ کی تم نے عطا میں نہ کی

کوئی کمی سروَرا تم پہ کروڑوں دُرُود

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہبن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیمارتھے ،  اُن کو بھنی ہوئی مچھلی کھانے کی خواہش ہوئی۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے خادِم حضرتِ سیِّدُنا نافِع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : تلاشِ بسیار (یعنی کافی ڈھونڈنے)  کے بعد مجھے ڈیڑھ درہم کی ایک مچھلی مدینۂ منوَّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً میں مل گئی ،  میں نے اُسے بُھون کر خدمتِ سراپا سخاوت میں پیش کر دی ،  اتنے میں ایک سائل آگیا،  آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  نافِع ! یہ مچھلی سائل کو دیدو ۔ میں نے عرض کی: آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو اس کی بڑی خواہِش تھی اس لیے کوشِش کر کے یہ مدینے کی مچھلی میں نے خریدی ہے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اِسے تناوُل فرمالیجئے میں اس مچھلی کی قیمت سائل کو دے دیتاہوں ۔ فرمایا:  نہیں تم یہ مچھلی ہی اس کو دے دو۔ چنانچِہ میں نے وہ  مدینے کی مچھلی سائل کو دے دی اور پھر پیچھے جاکر اُس سے خریدلی اورآکر حاضِر کردی ۔ ارشاد فرمایا:  یہ مچھلی اُسی سائِل کو دے دو اورجو قیمت اُس کو ادا کی ہے وہ بھی اُسی کے پاس رہنے دو۔ میں نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنا ہے : جو شخص کسی چیز کی خواہش رکھتا ہو،  پھر اُ س خواہِش کو روک کر اپنے اوپر (کسی اور کو)  تَرجیح دے،  تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اُسے بخش دیتا ہے۔ (اِحیاءُالْعُلوم ج ص۱۱۴) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری مغفِرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ایثارکی تعریف

          اے عاشقانِ رسول اورمیرے میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھاآپ نے!  حضرتسیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کواپنے نفس پر کس قدر قابو تھاکہ شدید خوا ہِش کے باوُجودآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مدینے کی مچھلی نہ کھائی ، حُصُولِ ثواب کی نیَّت سے اپنی دُنیوی نعمت راہِ خدامیں ایثارفرمادی۔ ایثار کا معنیٰ ہے: ’’ دو سروں کی خواہِش اور حاجت کو اپنی خواہِش وحاجت پر ترجیح دینا۔ ‘‘

انگوروں کا ایثار

          حضرتسیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے ایثار کی ایک اور حکایت ملاحظہ فرمائیے چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا نافِعرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : حضرت سیِّدُنا ا بنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابیمار ہوگئے،  آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو خواہش ہوئی کہ جب انگورکا پہلی بار پھل آئے تواُسے کھائیں ، چنانچہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی زوجۂ محترمہ حضرتِ سیِّدَتُنا صَفِیَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے ایک دِرہم کے انگور منگوا لئے، اتنے میں ایک سائل نے ان انگوروں کا سُوال کیا،  حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہبنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا:  یہ انگور اس سائل کو دے دو،  چُنانچِہ دیدیئے گئے۔بی بی صاحِبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے دوبارہ ایک دِرہم کے انگور منگوائے ۔ اُسی سائل نے پھر آ کرسُوال کیا، آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:  یہ انگور بھی اس کو دے دو، حتی کہ بی بی صاحِبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے تیسری مرتبہ انگور منگوائے ۔ (شُعَبُ الْاِیمان ج۳ ص۲۵۹ حدیث۳۴۸۱) اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے


 



[1]      یہ بیان امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے تبلیغِ قراٰن و سنت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ کے اندر ہفتہ وار سنّتوں بھرے اِجتِماع (۵ربیع الغوث۱۴۳۲؁ ھ /  10-3-11) میں فرمایا تھا۔ترمیم و اضافے کے ساتھ تحریراً حاضرِ خدمت ہے۔       مجلسِ مکتبۃُ المدینہ



Total Pages: 12

Go To