Book Name:Ghusl ka Tariqa

پہلو دھوئیں ٭پِیٹھ کاہرذرّہ دھوئیں  ٭پیٹ کی بلٹیں  اُٹھاکردھوئیں ٭ناف میں  بھی پانی ڈالیں  اگرپانی بہنے میں  شک ہوتوناف میں  انگلی ڈال کردھوئیں ٭جسم کاہر رُونگٹا جڑ سے نوک تک دھوئیں  ٭ران اور پَیڑو  (ناف سے نیچے کے حصّے) کاجوڑ دھوئیں ٭جب بیٹھ کرنہائیں  تو ران اور پنڈلی کے جوڑپربھی پانی بہانایاد رکھیں  ٭دونوں  سُرِین کے ملنے کی جگہ کاخیال رکھیں ، خُصُوصاً جب کھڑے ہوکر نَہائیں ٭رانوں کی گولائی اور٭ پِنڈلیوں کی کروٹوں  پر پانی بہائیں   ٭ذَکَرو  اُنْثَیَیْن  (اُنْ ۔ثَ ۔یَیْن یعنی فوطوں  )  کی نچلی سطح جوڑ تک اور ٭اُنْثَیَیْنکے نیچے کی جگہ جڑتک دھوئیں ٭جسکاخَتنہ نہ ہوا، وہ اگرکھال چڑھ سکتی ہوتوچڑھاکر دھوئے اورکھال کے اندرپانی چڑھائے۔ (مُلَخَّص ازبہارِ شریعت ج۱ص۳۱۷، ۳۱۸)

مَستُورات کیلئے 6 اِحتِیاطَیں

          {۱}ڈھلکی ہوئی پِستان کواُٹھاکرپانی بہائیں {۲}پِستان اورپیٹ کے جوڑ کی لکیردھوئیں {۳}فَرجِ خارِج (یعنی عورت کی شرم گاہ کے باہَرکے حصّے) کاہرگوشہ ہرٹکڑااُوپرنیچے خوب اِحتیاط سے دھوئیں {۴}فَرجِ داخِل (یعنی شرمگاہ کے اندرونی حصّے ) میں انگلی ڈال کر دھونافرض نہیں مُستَحَبہے{۵}اگرحَیـض یا نِفاس سے فارِغ ہوکر غُسل کریں  توکسی پُرانے کپڑے سے فَرجِ داخِل کے اندرسے خون کا اثرصاف کر لینا مُسْتَحَب ہے (بہارِ شریعت ج۱ص۳۱۸)   {۶}اگرنَیل پالِش ناخُنوں پرلگی ہوئی ہے تواس کابھی چُھڑانافرض ہے ورنہ غسل نہیں ہوگا، ہاں  مہندی کے رنگ میں  حَرَج نہیں  ۔

زَخْم کی پٹّی

           زَخمپرپٹّی وغیرہ بندھی ہواوراسے کھولنے میں نقصان یاحَرَج ہوتوپٹّی پرہی مَسح کرلیناکافی ہے نیزکسی جگہ مرض یادردکی وجہ سے پانی بہانا نقصان دِہ ہو تو اس پورے عُضْوپرمَسح کرلیجئے۔پَٹّی ضَرورت سے زِیادہ جگہ کو گھیرے ہوئے نہیں  ہونی چاہئے ورنہ مَسح کافی نہ ہوگا۔اگر ضَرورت سے زِیادہ جگہ گھیرے بِغیرپٹّی باند ھنا ممکن نہ ہو مَثَلاًبازوپرزخم ہے مگرپٹّی بازوؤں  کی گولائی میں باندھی ہے جس کے سبب بازوکااچھّاحصّہ بھی پٹّی کے اندر چھُپاہواہے ، تواگرکھولناممکِن ہوتو کھو ل کر اُس حصّے کو دھونافرض ہے۔اگر ناممکِن ہے یاکھولنا تو ممکِن ہے مگرپھر وَیسی نہ باند ھ سکے گا اوریوں زَخم وغیرہ کونقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے تو ساری پٹّی پرمَسح کرلیناکافی ہے ،  بدن کاوہ اچھّاحصّہ بھی دھونے سے مُعاف ہوجائیگا ۔ (ایضاًص۳۱۸)

غُسل فرض ہونے کے 5 اسباب

{۱}منی کااپنی جگہ سے شَہوت کے ساتھ جُداہوکرعُضْوْسے نکلنا{۲}اِحتِلام یعنی سوتے میں منی کانکل جانا {۳}شَرمگاہ میں حَشْفہ (سُپاری) داخِل ہوجاناخواہ شہوت ہو یا نہ ہو، اِنزال ہویانہ ہو،  دونوں پرغسل فرض ہے {۴}حَیض سے فارِغ ہونا {۵} نِفاس  (یعنی بچّہ جَننے پرجو خون آتاہے اس) سے فارِغ ہونا۔         (بہارِ شریعت ج۱ ص ۳۲۱تا ۳۲۴)

نِفاس کی ضَروری وَضاحت

          اکثرعورَتوں میں یہ مشہورہے کہ بچّہ جننے کے بعدعورت چالیس دن تک لازِمی طورپرناپاک رَہتی ہے یہ بات باِلکُل غَلَط ہے۔نِفاس کی تفصیل ملا حَظہ ہو۔بچّہ پیدا ہونے کے بعدجوخون آتاہے اُس کونِفاس کہتے ہیں اسکی زیا د ہ سے زیادہ مدّت چالیس دن ہے یعنی اگرچالیس دن کے بعدبھی بندنہ ہوتومَرَض ہے۔ لہٰذا چالیس دن پورے ہوتے ہی غُسل کرلے اورچالیس دن سے پہلے بندہوجائے خواہ بچّہ کی ولادت کے بعد ایک مِنَٹ ہی میں  بندہوجائے توجس وَقت بھی بندہو غسل کرلے اور نَمازوروزہ شُروع ہوگئے۔ اگر چالیس دن کے اندر اندر دوبارہ خون آگیا تو شُروعِ ولادت سے خَتمِ  خون تک سب دن نِفاس ہی کے شمار ہوں  گے ۔مَثَلاً ولادت کے بعد دو مِنَٹ تک خون آکر بند ہوگیا اور عورت غسل کرکے نَماز روزہ وغیرہ کرتی رہی ، چالیس دن پورے ہونے میں  فَقَط دو مِنَٹ باقی تھے کہ پھر خون آگیا تو سارا چِلّہ یعنی مکمّل چالیس دن نِفاس کے ٹھہریں  گے ۔ جو بھی نَمازیں  پڑھیں  یا روزے رکھّے سب بَیکار گئے ، یہاں  تک کہ اگر اس دَوران فرض و واجِب نَمازیں  یا روزے قَضاکئے تھے تو وہ بھی پھر سے ادا کرے۔ (ماخوذ اَزفتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۴ص۳۵۴، ۳۵۶)

 



Total Pages: 10

Go To