Book Name:Waswasay aur in ka Ilaj

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہ  مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

وَسْوَسے اور اُن کا علاج

 شیطٰن لاکھ سُستی دلائے یہ رسالہ(60صفحات) آخر تک پڑھ لیجئے ۔اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ    وَجَلَّ وسوسوں کی ہلاکت خیزیوں سے امان ملے گی۔

دُعائے قُنُوت کے بعد دُرُود شریف پڑھنا بہتر

             حضرتِ سیِّدُنا ابوحَلِیْمَہ مُعاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ (دعائے )’’قُنُوت ‘‘ میں سرکارِ عالی وقار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   پر دُرُودِ پاک پڑھتے تھے ۔ (فَضْلُ ا لصَّلَاۃِ عَلَی النَّبِیّلِلقاضیالْجَہْضَمِی ص۸۷ رقم ۱۰۷) دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ الْمدینہ کی مطبوعہ  1250 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘  جلد اوّل صَفْحَہ 655پرصدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں  : (نَمازِوتر کی تیسری رکعت میں ) دُعائے قُنُوت کے بعد دُرُود شریف پڑھنا بہتر ہے ۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

وسوسے کے لفظی معنی

             میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!’’وسوسہ‘‘ کے لُغوی معنیٰ ہیں  : ’’دھیمی آواز‘‘شریعتمیں بُرے خیالات اورفاسِد فِکر(یعنی بُری سوچ)کووَسوسہ کہتے ہیں ۔(اشعہ ج ا ص۳۰۰) تفسیرِ بَغَوِی میں ہے  :   وَسوسہ اُس بات کو کہتے ہیں جو شیطان انسان کے دل میں ڈالتا ہے ۔(تفسیر بغوی ج۴، ۲ص۵۱۸، ۱۲۷)عام طور پر ’’وسوسے ‘‘ ہر ایک کو آتے ہیں ، کسی کو کم کسی کو زیادہ۔ بعض لوگ بَہُت زِیادہ حَسّاس ہونے کے سبب ’’ وَسوَسوں ‘‘ کے مُتَعلِّق (مُ۔تَ۔عَل۔لق)سوچ سوچ کر انہیں اپنے اوپر مُسلَّط کر لیتے اور پھر خود ہی تکلیف میں آجاتے ہیں ! اگر’’وسوسوں ‘‘ پر غور نہ کیا جائے تو عُمُوماً یہ خودہیخَتْم ہو جاتے ہیں ۔ جُوں ہی وَسوسے آنے شروع ہوں ’’ ذِکرُ اللہ ‘‘ مَثَلاً ’’ اللہ  اللہ ‘‘ کرنا شروع کر دیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ    وَجَلَّ شیطان فِرار ہو جائے گا۔مسلمان جس قَدَر ربُّ الْعٰلمینعَزَّ وَجَلَّ    کی اِطاعَت میں آگے بڑھتا ہے ، اُسی قدرشیطان کی مخالَفَت و عَداوت بھی بڑھ جاتی ہے اور وہ ہَمَہ اَقسام(یعنی طرح طرح) کے مَکرو فریب (اوردھوکے ) کے جال بچھاتا چلا جاتا ہے اوراُس کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت اور اُس کے پیارے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنَّت سے روکنے کی بھی بھرپور کوشش کرتا ہے اور طرح طرح کے وَسْوَسے دِلا کر، گندے خَیالات ذِہن میں لا کر پریشان کرتارہتا ہے ، یہاں تک کہ بسا اوقات جَہالت کی بِنا پرآدمی اِس کے اِن وَسوسوں کا شِکار ہو کر نیکی اور بھلائی کے کام سے رُک جاتا ہے اور یوں شیطان اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  نے قرآنِ مجید پارہ 18 سُورۃُ المؤمنون آیت نمبر 97اور98میں اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے ارشاد فرمایا :

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ(۹۷)وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ(۹۸)

ترجَمۂ کنزالایمان :  اور تم عرض کرو کہ اے میرے رب! تیری پناہ شیاطین کے وسوسو ں سے اور اے میرے رب !تیری پناہ کہ وہ میرے پاس آئیں ۔

نہ وسوسے آئیں نہ کبھی گندے خیالات

ہو ذِہن کا اور دل کا عطا قفلِ مدینہ

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 ہر ایک کے ساتھ ایک فِرِشتہ اور ایک شیطان ہو تا ہے

          دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 344 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’مِنہاجُ العابِدین‘‘ صَفْحَہ79تا80پر تحریر کردہحُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمدبن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی    کے فرمان کاخُلاصہ ہے  : اللہ عَزَّ وَجَلَّ   نے ہر اِنسان کے دل پر ایک فِرِشتہ مقّرر فرمایا ہے جو اسے نیکی کی دعوت دیتا ہے ، اُس فرِشتے کو مُلْھِمْاور اس کی دعوت کو اِلہام کہتے ہیں ۔ اِس کے مقابلے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ   کی طرف سے ایک شیطان مُسَلَّط کردیا گیا ہے ، جو بُرائی کی دعوت دیتاہے ، اِس شیطان کو وَسواس اور اِس کی دعوت کو َوسوسہ کہتے ہیں ۔سیِّدُنا امام محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی مزید فرماتے ہیں  : ’’اگر چِہ اکثر علماء ِ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام   کی یہ رائے ہے کہ فرِشتہ انسان کو نیکیوں  کی طرف بلاتا ہے اور شیطان صِرف بُرائیوں کی طرف۔‘‘ لیکن میرے شیخ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا ہے کہ شیطان بسا اوقات بظاہِر نیکی کی دعوت دیکر بھی بُرائی کی طرف لگا دیتا ہے اوروہ اس طرح کہ بڑی نیکی کے بجائے چھوٹی نیکی کی طرف بُلاتا ہے ، جس سے ایک بڑے گناہ کرنے کا نقصان نیکی کے ثواب سے زیادہ ہو ۔ جیسے عُجْب(یعنی خود پسند ی )  وغیرہ۔

سرورِ دِیں لیجے اپنے ناتوانوں کی خبر

                                    نفس و شیطاں سَیِّدا کب تک دَباتے جائیں گے (حدائقِ بخشش شریف)

 



Total Pages: 18

Go To