Book Name:Hussaini Dulha

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

حُسینی دُولھا ([1])   

شیطٰن لاکھ سُستی دلائے16 صفحات کا یہ بیان مکمل پڑھ لیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّآپ اپنے دل میں مَدَنی انقِلاب برپا ہوتا محسوس فرمائیں گے ۔

باکمال مَدَنی مُنّی  

        حضرتِ سیِّدُناشیخ محمد بن سُلیمان جَزُولیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :  میں سفر پر تھا،  ایک مقام پر نَماز کا وقت ہو گیا،  وہاں کُنواں تو تھا مگر ڈَول اور رسی نَدارَد ( یعنی غائب)  میں اِسی فکر میں تھا کہ ایک مکان کے اوپر سے ایک مَدَنی مُنّی نے جھانکا اور پوچھا:  آپ کیا تلاش کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا :  بیٹی !  رسّی اور ڈَول ۔  اُس نے پوچھا:  آپ کا نام ؟ فرمایا:  محمد بن سُلیمان جَزُولی ۔   مَدَنی مُنّی نے حیرت سے کہا:  اچّھا آپ ہی ہیں جن کی شُہرت کے ڈنکے بج رہے ہیں اور حال یہ ہے کہ کُنویں سے پانی بھی نہیں نکال سکتے !  یہ کہہ کر اُس نے کُنویں میں تھوک دیا۔  کمال ہو گیا!  آناً فاناً پانی اوپر آگیا اور کنویں سے چھلکنے لگا ۔  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے وُضُو سے فراغت کے بعد اُس باکمال مَدَنی مُنّی سے فرمایا:

بیٹی!  سچ بتاؤتم نے یہ کمال کس طرح حاصِل کیا؟ کہنے لگی:  ’’  میں دُرُودِ پاک پڑھتی ہوں ،  اِسی کی بَرَکت سے یہ کرم ہوا ہے۔‘‘  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :  اُس باکمال مَدَنی مُنّی سے مُتأَثِّر ہو کر میں نے وَہیں عہد کیا کہ میں دُرُود شریف کے متعلِّق کتاب لکھوں گا۔  (سعادۃُ الدّارین ص ۱۵۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت) چُنانچِہ آپ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے دُرُود شریف کے بارے میں کتاب لکھی جو بے حد مقبول ہوئی اور اُس کتاب کانام ہے:   ’’دلائلُ الخیرات‘‘

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!           صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ابھی پچھلے دنوں ہم نے کربلا کے عظیم شہیدوں عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی یاد منائی ہے۔  آئیے! میں آپ کو کربلا کے حُسینی دُولھا کی درد انگیز داستان سناؤں۔  چُنانچہ صدرُالْاَ فاضِل حضرت علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی اپنی مشہور کتاب  ’’سوانِحِ کربلا‘‘   میں نقل کرتے ہیں :

حُسینی دُولھا

      حضرتِ سیِّدنا وَہب ابن عبداللہ کلبیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قبیلہ بنی کلب کے نیک خُو  اور خوبرو جوان تھے ،  عُنفُوانِ شباب،  اُمنگوں کا وَقت اور بہاروں کے دن تھے ۔   صِرف سترہ روز شادی کو ہوئے تھے اور ابھی بِساطِ عِشرت ونَشاط گرم ہی تھی کہ والد ۂ ماجِدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاتشریف لائیں جو ایک بیوہ خاتون تھیں اور جن کی ساری کمائی اور گھر کا چَراغ یہی ایک نو جوان بیٹا تھا۔  مادرِ مُشْفِقَہ نے رونا شروع کر دیا۔   بیٹا حیرت میں آ کر ماں سے پوچھتا ہے:  پیاری ماں !  رنج و ملال کا سبب کیا ہے؟ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے اپنی عمر میں کبھی آپ کی نافرمانی کی ہو،  نہ آئندہ ایسی جرأت کر سکتا ہوں۔  آپ کی اطاعت و فرماں برداری مجھ پر فرض ہے اور میں اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ تابہ زندگی مُطیع و فرمانبردار ہی رہوں گا۔  ماں !  آپ کے دل کو کیا صدمہ پہنچا اور آپ کو کس غم نے رُلایا؟  میری پیاری ماں !  میں آپ کے حکم پر جان بھی فِدا کرنے کو تیّار ہوں آپ غمگین نہ ہوں۔   

      سعادت مند اکلوتے بیٹے کی یہ سعادت مندانہ گفتگو سُن کر ماں اوربھی چیخ ما ر کر رونے لگی اور کہنے لگی:  اے فرزندِدِلبند !  تُو میری آنکھ کا نور،  میرے دل کا سُرور ہے اے میرے گھر کے روشن چَراغ اور میرے باغ کے مَہکتے پھول !  میں نے اپنی جان گھلا گھلا کر تیری جوانی کی بہار پائی ہے۔  تُو ہی میرے دل کا



[1]   یہ بیان امیرِ اہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے تبلیغِ قراٰن و سنت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے  کراچی میں سندھ سطح پر ہونے والے تین روزہ سنتوں بھرے اجتماع ۱۴۲۰؁ ھ میں فرمایاتھا۔ترمیم و اضافے کے ساتھ تحریراً حاضرِ خدمت ہے۔   ۔مجلسِ مکتبۃُ المدینہ



Total Pages: 6

Go To