Book Name:Sayyidi Qutb e Madina

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

سیِّدی قُطبِ مدینہ

شیطٰن لاکھ سُستی دلائے  مگر آپ یہ رِسالہ(20صفحات)  مکمَّل   پڑھ کر ایک ولیٔ کامل کی برکتوں سے  اپنا ایمان تازہ کیجئے  ۔

100 حاجَتیں پوری ہو ں گی

        سلطانِ دوجہان، مدینے  کے  سلطان، رَحمتِ عالَمِیان، سروَرِ ذیشانصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ جنَّت نشان ہے  :  جو مجھ پر جُمُعہ کے  دن اور رات 100 مرتبہ دُرُود شریف پڑھے  اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس کی 100 حاجتیں پوری فرمائے  گا، 70 آخِرت کی اور30 دُنیا کی اور اللہ عَزَّوَجَلَّ ایک فِرِشتہ مقرَّر فرمادے  گا جو اُس دُرُودِ پاک کو میری قبر میں یوں پہنچائے  گا جیسے  تمہیں تحائف پیش کئے  جاتے  ہیں، بِلاشبہ میرا علم میرے  وِصال کے  بعد وَیسا ہی ہوگا جیسا میری حیات میں ہے  ۔    (جَمْعُ الْجَوامِع لِلسُّیُوطی  ج۷ ص۱۹۹ حدیث۲۲۳۵۵ )

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

        اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ  میں سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہُ ( رَاقِمُ الْحُرُوف )بچپن ہی سے اِمامِ اَہْلسُنّت،  ولیِ نِعمت، عظیمُ البَرَکَت، عظیمُ المَرْتَبت، پروانۂِ شَمْعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین  ومِلَّت، حامیِ سنّت ، ماحِیِ بِدعت، عالِمِ شَرِیْعَت ،  پیرِ طریقت، باعثِ خَیْر وبَرَکت، امامِ عشق ومحبّت حضرتِ علامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رَضا خانعَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحمٰن سے  مُتعارِف ہوچکا تھا، پھر جُوں جُوں شُعُور آتا گیا، اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی مَحَبَّت دل میں گھر کرتی چلی گئی ۔  میں بِلا خوفِ لَومَۃِ لائِم (یعنی مَلامت کرنیوالے  کی ملامت سے  ڈرے  بِغیر) کہتا ہوں کہ ربُّ العلیعَزَّوَجَلَّ کی پہچان میٹھے  میٹھے  مصطَفٰیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے  ذَرِیعے  ہوئی تو مجھے  میٹھے  میٹھے  مصطَفٰیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی پہچان امام احمد رضا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے  سبب نصیب ہوئی ۔  مجھے  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے  سلسلے  میں داخِل ہونے  کا شوق پیدا ہوا تو ایک ہی ہستی مرکزِ توجُّہُّ بنی، گو مشائخِ اہلسنّت کی کمی تھی نہ ہے ، مگر’’ پسند اپنی اپنی خیال اپنا اپنا ۔ ‘‘ اِس ـمقدّس ہستی کا دامن تھام کر ایک ہی واسِطے  سے  اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے  نسبت ہوجانی تھی اور اُس ہستی میں ایک کشِش یہ بھی تھی کہ اُ س پر براہِ راست گنبدِخَضرا کا سایہ پڑ رہا تھا ۔  اُس مقدس ہستی سے  میری مُراد حضرت شیخُ الفضیلت، آفتابِ رضویت، ضیاءُ الملّت، مُقتَدائے  اہلسنّت، مُرید و خلیفۂ اعلٰی حضرت، پیرِ طریقت، رہبرِ شریعت، شیخُ العربِ وَ الْعَجَم، میزبانِ مہمانانِ مدینہ ، قطبِ مدینہ ،  حضرتِ علامہ مولٰینا ضیاءُ الدّین احمد مَدَنی قادری رضوی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہِ القوی کی ذاتِ گرامی ہے  ۔  میں نے  عزمِ مصمم (مُ ۔  صَمْ  ۔  مَمْ ) کر لیا کہ اب کسی نہ کسی طرح مجھے  ان کا مرید بننا ہے ، چُنانچِہ میں نے  غالباً۱۳۹۶ھ (یعنی 1976 ء )میں  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکامدینۂ منوَّرہ زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماًکا پتا حاصل کیا ۔  پتا حاصل کرنے  کے  بعد اپنے  ایک کرم فرما مرحوم محمد آدم برکاتی صاحِب کو بتایا کہ میں نے  حضرتِ سیِّدی قطبِ مدینہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے  بذریعۂ ڈاک بیعت(بَے  ۔ عَت) کرنے  کا تَہِیَّہ کیا ہے  ۔  مرحوم آدم بھائی نے  کہا :  تم کراچی میں رہتے  ہو اور وہ مدینۂ منوَّرہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً میں ۔  تم نے  ابھی تک انہیں دیکھا تک نہیں ہے  آخِر تصوُّرِ شیخ کس طرح کرو گے ؟ میں نے  کہا : اس میں کون سی بڑی بات ہے  اگر پیر کامل ہو تو خواب کے  ذَرِیعے  بھی یہ مسئلہ حل کرسکتا ہے  ظاہِری دُوری فیوض و بَرَکات میں رُکاوٹ نہیں بن سکتی ۔  

        اُسی رات (یعنی ربیعُ النّور شریف کی دسویں شب) جب سویا تو سوئی ہوئی قسمت انگڑائی لیکر جاگ اٹھی اوراَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ   سچ مچ میرے  ہونے  والے  پیر ومُرشِد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  میرے  خواب میں تشریف لے  آئے  اور اتنی دیر تک جلوہ افروز رہے  کہ ان کا نقشہ میرے  ذِہن میں اچّھی طرح محفوظ ہوگیا اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ   آج بھی محفوظ ہے  ۔  

میں نے  خوشی خوشی حضرتِ سیِّدی قطبِ مدینہ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے  خلیفۂ مجاز پیرِ طریقت حضرت الحاج علّامہ مولیٰنا حافِظ قاری محمدمُصلحُ الدین صدّیقی القادری  عَلَیْہِ رَحمَۃُاللّٰہِ القوی   کی خدمت میں حاضِر ہوکر اپنا خواب سنایا ۔  انہوں نے  مجھ سے  حضرتِ سیِّدی قطبِ مدینہ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کاحُلیہ دریافت کیا، میں نے  جو دیکھا تھا بیان کر دیا ۔  اُنہوں نے  اس کی تصدیق فرمائی کیوں کہ قبلہ قاری صاحِب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  بارہا مدینۂ منوَّرہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماًمیں حضرتِ سیِّدی قطبِ مدینہ  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی خدمت میں حاضِری دے  چکے  تھے  ۔  پھرقاری صا حِبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہہی سے  بسلسلۂ بیعت عریضہ لکھوا کر کراچی سیمدینۂ طیِّبہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً روانہ کیا ۔  جواب نہ ملا ۔  چند بار اِسی طرح عریضے  بھیجے  مگر جواب نَدارَد ۔  میں بھی ہمّت ہارنے  والا نہیں تھا ۔  آخِر کار ایک سال اور پانچ روز گزرنے  کے  بعد پھر قسمت چمکی، رات خواب میں زیارت ہوئی ۔  میں حیران تھا کہ مُرید بھی نہیں بناتے ، توجُّہ بھی نہیں ہٹاتے  آخِرمُعامَلہ کیا ہے ؟ مجھے  کیا معلوم تھاکہ انتِظار کی گھڑیاں خَتْم ہوچکی ہیں ۔  رات کو زِیارت کی پھر دن آیا اور مغرِب کی نَماز کے  بعد پتا چلا کہ مدینۂ پا ک زادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماً  کی مشکبار فَضاؤں کو چومتا ہوا جھومتا ہوا مُرشدی  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہِ عِطر بیز و عنبر خیز سے  قَبولیَّت کا مُژدۂ جانفِزا آپہنچا ہے  ۔  اَلحمدُللّٰہِ علٰی اِحسانِہٖ ۔  پھر جب  ۱۴۰۰ ھ میں مُقدَّر نے  یاوَری کی، سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے  کرم فرمایا تو جَدّہ شریف کے  ایئرپورٹ پر اتر کرمُحسن و کرم فرما اور اپنے  پیر بھائی ساکنِ مدینہ الحاج صوفی محمد اقبال قادِری رضوی ضیائی سَلَّمَهٗ الْبَارِىْ کی کار میں بیٹھ کر سیدھا مدینۂ منوَّرہزادَھَااللّٰہُ شَرَفًاوَّ تَعظِیْماًحاضِر ہوا ۔  بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں صلوٰۃ و سلام عرض کرنے  کے  بعدمُرشِدی  رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے  آستانۂ عالیہ پر حاضِر ہوا، جب بے  تاب نگاہیں مُرشِدی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے  چِہرۂ زیبا پر پڑیں تو دل کو گواہی دینی پڑی کہ یہ تو وُہی نورانی چہرہ ہے  جسے  بابُ المدینہ کراچی میں خواب میں دیکھ چکا ہوں ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ   

تصوُّر جماؤں تو موجو



Total Pages: 6

Go To