Book Name:Rafiq ul Haramain

لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ

حج وعمرہ کا مفصَّل طریقہ

رفیقُ الحَرمین

 

 

مُؤَلِّف:

شیخِ طریقت ،  امیرِ اہلسنّت ،  بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا

ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادِری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ

 

 

 

 

ناشِر

مکتبۃُ المد ینہ بابُ المدینہ کراچی

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

حج و عمرے والے  کیلئے 56نیّتیں  (مع روایات ،  حکایات و مدنی پھول)

 (حجّاج و مُعتَمِرین ان میں سے موقع کی مُناسَبَت سے وہ نیتیں کر لیں جن پر عمل کرنے کا واقِعی ذِہن ہو)

 [1] :  صِرْف رِضائے الٰہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ پانے کے لئے حج کروں گا۔ (قَبولیَّت کیلئے اِخلاص شرط ہے اور اخلاص حاصل کرنے میں یہ بات بہت معاون ہے کہ جب ریا کاری اور شہرت کے تمام اسباب تَرْک کر دیئے جائیں ۔فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے: لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ میری اُمّت کے اَغنِیاء (یعنی مالدار) سَیر و تفریح کے لیے اور درمِیانے دَرَجے کے لوگ تجارت کے لیے اور قُرّاء  ( یعنی قاری) دِکھانے اور سنانے کیلئے اور فُقَرا مانگنے کے لئے حج کریں گے۔ (تاریخ بغداد ج ۱۰  ص ۲۹۵)

 [ 2] :  اِس آیتِ مبارَکہ پر عمل کروں گا :

وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ۲ ،  البقرۃ: ۱۹۶)

ترجَمۂ کنزالایمان :  حج  اورعمرہ اللہ کے لئے پورا کرو ۔

 [3] :   (یہ نیّت صِرْف فرض حج کرنے والا کرے)  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت کی نیَّت سے اِس حکمِ قراٰنی:  وَ  لِلّٰهِ  عَلَى  النَّاسِ   حِجُّ  الْبَیْتِ  مَنِ  اسْتَطَاعَ  اِلَیْهِ  سَبِیْلًا ترجَمۂ کنزالایمان: اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے ۔  (پ۴ ،  اٰل عمران: ۹۷)  پرعمل کرنے کی سعادت حاصل کروں گا۔

 [4] :  حُضُورِاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پیروی میں حج کروں گا۔

 [5] :  ماں باپ کی رِضا مندی لے لوں گا ۔

 (بیوی شوہر کو رِضا مندکرے  ،  مقروض جو ابھی قرض ادانہیں کر سکتا تو اُس ( قرض خواہ) سے بھی اجازت لے ،  اگر حج فرض ہوچکا ہے تو اِجازت نہ بھی ہو تب بھی جانا ہوگا ،   (مُلَخَّص ازبہارِ شریعت ج ا ص ۱۰۵۱)  ہاں عُمرہ یانَفلی حج کے لئے والِدَین سے اِجازت لئے بِغیر سفرنہ کریں ۔ یہ بات غَلَط مشہورہے کہ جب تک والِدَین نے حج نہیں کیا اولاد بھی حج نہیں کرسکتی) ۔

 [6] : مالِ حلال سے حج کروں گا ۔ ( ورنہ حج قَبول ہونے کی اُمّید نہیں اگرچِہ فرض اُتر جائے گا۔ اگر اپنے مال میں کچھ شُبہ ہو تو قرض لے کر حج کو جائے اور وہ قرض اپنے  (اُسی مشکوک)  مال سے ادا کردے۔  (ایضاً) حدیث شریف میں ہے:   جو مالِ حرام لے کر حج کو جاتا ہے جب لَبَّیْک کہتا ہے ،  ہاتِف غیب سے جواب دیتا ہے : نہ تیری لَبَّیْک قَبول ،  نہ خدمت پذیر  (یعنی منظور)  اور تیرا حج تیرے منہ پر مردود ہے ،  یہاں تک کہ تُو یہ مالِ حرام کہ تیرے قبضے میں ہے اُس کے مستحقوں کو واپَس دے۔ (فتاویٰ رضویہ ج۲۳ ص ۵۴۱) )

 [7] : سفرِ حج کی خریداریوں میں بھاؤ کم کروانے سے بچوں گا۔  ( میرے آقااعلیٰ حضرت  ، امام احمد رضاخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : بھاؤ (میں کمی)  کے لئے حُجَّت ( یعنی بَحث و تکرار)  کرنا بہتر ہے بلکہ سنّت ،  سوا اُس چیز کے جو سفرِ حج کے لئے خریدی جائے  ،  اِس  (یعنی سفرِ حج کی خریداریوں )  میں بہتر یہ ہے کہ جو مانگے دیدے۔ (فتاویٰ رضویہ ج۱۷ ص ۱۲۸ ) )  {8}   چلتے وقت گھروالوں  ،  رشتے داروں اور دوستوں سے قُصور مُعاف کرواؤں گا ، ان سے دعا کرواؤں گا۔ ( دوسروں سے دعا کروانے سے بَرَکت حاصِل ہوتی ہے  ،  اپنے حق میں دوسرے کی دُعا قَبول ہونے کی زیادہ امّید ہوتی ہے۔دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 326صَفْحات پر مشتمل کتاب  ’’  فضائلِ دُعا ‘‘ صَفْحَہ 111پر ہے : منقول ہے ،  حضرتِ موسیٰ عَلَیْہَ



Total Pages: 73

Go To