Book Name:Namaz e Eid Ka Tariqa

کیلئے ایک راستے سے جانا اوردوسرے راستے سے واپَس آنا٭عِید کی نَماز سے پہلے صَدَقَۂ فِطر ادا کرنا (اَفضل تو یہی ہے مگر عید کی نَماز سے قَبل نہ دے سکے تو بعد میں دیدیجئے)  ٭ خُوشی ظاہِر کرنا٭کثرت سے صَدَقَہ دینا٭ عید گاہ کو اِطمینان و وَقار اور نیچی نِگاہ کئے جانا٭ آپَس میں مُبارک باد دینا٭ بعدِ نَماز عِید مُصَافَحہ  ( یعنی ہاتھ مِلانا)  اور مُعانَقَہ  (یعنی گلے ملنا)  جیسا کہ عُمُوماً مسلمانوں میں رائج ہے بہتر ہے کہ اِس میں اِظہارِمَسرَّت ہے۔ مگر اَمرَد خوبصورت سے گلے ملنا مَحَلِّ فِتنہہے٭ عِیدُ الفِطر  ( یعنی میٹھی عِید)  کی نَماز کیلئے جاتے ہوئے راستے میں آہستہ سے تکبیر کہیں اور نَمازِ عِیدِ اَضحٰی کیلئے جاتے ہوئے راستے میں بُلند آواز سے تکبیر کہیں۔ تکبیریہ ہے:

اللہُ اَکْبَرْ ط اللہُ اَکْبَرْط لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَ اللہُ اَکْبَرْ ط اللہُ اَکْبَرْط وَلِلّٰہِ الْحَمْد

ترجَمہ : اللہ عَزَّ وَجَلَّ سب سے بڑا ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ  سب سے بڑا ہے،  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سِوا کوئی عِبادت کے لائق نہیں اوراللہ  عَزَّ وَجَلَّ سب سے بڑا ہے ،  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ سب سے بڑا ہے اوراللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہی کے لئے تمام خوبیاں ہیں۔  (بہارِ شریعت ج۱ص۷۷۹تا۷۸۱،  عالمگیری ج۱ص۱۴۹، ۱۵۰ وغیرہ)

بَقَر عید کا ایک مُستَحَب

        عیدِ اَضْحٰی  ( یعنی بَقَر عید)  تمام اَحکام میں عیدُ الفِطر  ( یعنی میٹھی عید)  کی طرح ہے۔ صِرف بعض باتوں میں فَرق ہے،  مَثَلاً اِس میں  ( یعنی بَقَر عید میں )  مُستَحَب یہ ہے کہ نَماز سے پہلے کچھ نہ کھائے چاہے قُربانی کرے یا نہ کرے اور اگر کھا لیا تو کَراہت بھی نہیں۔  (عالمگیری ج۱ص۱۵۲ دارالفکربیروت)

 ’’ اللہُ اکبر‘‘کے آٹھ حُروف کی نسبت

سے تکبیر تشریق کے 8مَدَنی پھول

٭ نویں ذُوالحجَّۃِ الحرام کی فَجر سے تیرھویں کی عصر تک پانچوں وقت کی فرض نمازیں جو مسجد کی جماعتِ مستحبہ کے ساتھ ادا کی گئیں ان میں ایک بار بلند آواز سے تکبیر کہنا واجب ہے اور تین بار افضل اسے تکبیرِ تشریق کہتے ہیں۔اور وہ یہ ہے:

اللہُ اَکْبَرْ ط اللہُ اَکْبَرْط لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَ اللہُ اَکْبَرْ ط اللہُ اَکْبَرْط وَلِلّٰہِ الْحَمْد  (بہارِ شریعت ج۱ص۷۷۹تا۷۸۵،  تَنوِیرُ الْاَبصار ج۳ص۷۱)

٭ تکبیرِ تشریق سلام پھیرنے کے بعد فوراًکہنا واجِب ہے ۔ یعنی جب تک کوئی ایسافِعل نہ کیا ہو کہ اُس پر نَماز کی بِنا نہ کر سکے مَثَلاًاگر مسجِدسے باہَر ہو گیا یاقَصداً وضو توڑ دیا یا چاہے بھُول کر ہی کلام کیا تو تکبیر ساقِط ہو گئی اوربِلاقَصد وُضو ٹوٹ گیا تو کہہ لے۔  (دُرِّمُختار ورَدُّالْمُحتار ج۳ص۷۳  دارالمعرفۃ بیروت)  

٭ تکبیرِ تشریق اُس پر واجِب ہے جو شہر میں مُقیم ہو یا جس نے اِس مقیم کی اِقتِدا کی۔ وہ اِقتِدا کرنے والا چاہے مسافِر ہو یا گاؤں کا رَہنے والا اور اگر اس کی اِقتِدا نہ کریں تو ان پر  (یعنی مسافر اور گاؤں کے رَہنے والے پر)  واجِب نہیں۔  (دُرِّمُختار ج۳ص۷۴)

٭مُقیم نے اگر مسافر کی اِقتِدا کی تو مُقیم پر واجِب ہے اگرچِہ اس مسافر امام پر واجِب نہیں۔  (دُرِّمُختار ورَدُّالْمُحتار ج۳ص۷۴)  

٭نَفل،  سنّت اور وِتر کے بعد تکبیر واجِب نہیں۔ (بہارِ شریعت ج۱ص۷۸۵، رَدُّالْمُحتار ج۳ص۷۳)

 



Total Pages: 5

Go To