Book Name:Namaz e Eid Ka Tariqa

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

نمازِ عید کا طریقہ (حنفی)

شیطان لاکھ سُستی دلائے یہ رسالہ (10صَفحات)  مکمّل پڑھ لیجئے۔

اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کے فوائد خود ہی دیکھ لیں گے۔

دُرُود شریف کی فضیلت

       دو عالم کے مالِک و مختار،  مکّی مَدَنی سرکار،  محبوبِ پرورد گار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اِرشاد فرمایا: جو مجھ پر شبِ جُمُعہ اور روزِ جُمُعہ سو بار دُرُود شریف پڑھے اللہ تعالیٰ اُس کی سو حاجتیں پوری فرمائے گا ستّرآخِرت کی اور تیس دنیا کی۔      (تاریخ دِمشق لابن عَساکِر ج۵۴ص۳۰۱دارالفکربیروت)   

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                             صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

دِل زندہ رہے گا

        تاجدارِ مدینہ قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے: جس نے عیدَین کی رات (یعنی شبِ عیدُالفطر اورشبِ عیدُ الاضحیٰ)  طلبِ ثواب کیلئے قِیام کیا  (یعنی عبادت میں گزارا) اُس دن اُس کا دِل نہیں مَرے گا، جس دن لوگوں کے دِل مَر جائیں گے۔  ( سُنَنِ اِبن ماجہ ج۲ص۳۶۵ حدیث۱۷۸۲ دارالمعرفۃ بیروت)

جَنَّت واجِب ہو جاتی ہے

          ایک اور مَقام پر حضرتِ سیِّدُنا مُعاذبن جَبَل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مَروی ہے،  فرماتے ہیں : جو پانچ راتوں میں شب بیداری کرے (یعنی جاگ کر عبادت میں گزارے)  اُس کے لئے جنَّت واجِب ہو جاتی ہے۔ ذِی الْحجَّہ شریف کی آٹھویں ،  نویں اوردسویں رات  (اس طرح تین راتیں تو یہ ہوئیں )  اور چوتھی عیدُ الفِطر کی رات ،  پانچویں شَعبانُ المُعظَّم کی پندرہویں رات ( یعنی شبِ بَرَ اءَ ت) ۔  (اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب ج۲ص۹۸حدیث۲)

نَمازِعید کیلئے جانے سے قَبل کی سنَّت

       حضرتِ سیِّدُنا بُرَیدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ حُضورِ انور ، شافِعِ مَحشر،  مدینے کے تاجور ، باِذنِ ربِّ اکبر غیبوں سے باخبر ، محبوبِ داوَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عِیدُ الفِطْر کے دِن کچھ کھا کر نَمازکیلئے تشریف لے جاتے تھے اور عیدِ اَضحٰیکے روز نہیں کھاتے تھے جب تک نَماز سے فارِغ نہ ہو جاتے ۔ (سُنَنِ تِرمِذی ج۲ ص۷۰حدیث۵۴۲  دارالفکربیروت)  اور  ’’  بخاری‘‘ کی رِوایت حضرتِ سیِّدُنا اَنَس رضی اللہُ تعالٰی عنہ سے ہے کہ عِیدُ الفِطْر کے دِن تشریف نہ لے جاتے جب تک چند کَھجوریں نہ تَناوُل فرما لیتے اور وہ طاق ہوتیں۔  ( بُخاری ج۱ص۳۲۸حدیث۹۵۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

نَمازِ عید کیلئے آنے جانے کی سنَّت

 



Total Pages: 5

Go To