Book Name:Samandari Gumbad

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

سَمُندری گنبد[1]

شیطٰن لاکھ سُستی دلائے یہ بیان(32صفحات)مکمَّل پڑھ  لیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ    وَجَلَّ آپ خوفِ خدا سے لرز اُٹھیں گے ۔

زور سے دُرُود شریف پڑھنے والا بخشا گیا

          کسی بُزُرگ نے ایک شخص کوانتِقال کے بعد خواب میں دیکھ کرپوچھا : مَا فَعَلَ اللّٰہُ بِک؟ یعنی اللہ عَزَّوَجلَّنے آپ کے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا؟ کہا :  اللہ عَزَّوَجَلَّ  نے مجھے بخش دیا ۔ پو چھا :  کس سبب سے ؟ بولا :  میں ایک مُحدِّث صاحِب کے یہاں حدیثِ پا ک لکھا کرتا تھا ، اُنہوں نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَروَر، دو جہاں کے تاجوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر دُرُودِ پا ک پڑھا تو میں نے بُلند آواز سے دُرُودِ پا ک پڑھا نیز حاضِرِین نے سنا تو اُنھوں نے بھی دُرُودِ پا ک پڑھا تواللّٰہ تعالٰی نے اِس کی  بَرَ کت سے ہم سب کو بخش دیا ہے  ۔ (اَلقَولُ الْبَدِیع ص ۲۵۴)                                                           

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

           اللہ  عَزَّوَجَلَّ نے حضرتِ سیّدُنا سلیمان عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو وحی فرمائی کہ سَمُندر کے کَنارے جائیے اورہماری قدرت کانظارہ کیجئے ۔ آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اپنے مُصاحِبِین کے ہمراہ تشریف لے گئے مگر کوئی ایسی چیز نظر نہ آئی، چُنانچِہ ایک جِنّ کو حکم دیا کہ سَمُندر میں غَوطہ لگا کر اندر کی خبرلاؤ ۔  اُس نے غوطہ لگانے کے بعد واپَس آکر عرض کی :  میں تہ تک نہیں پہنچ سکا اورنہ ہی کوئی شے نظر آئی ۔ آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے اُس سے طاقتور جِنّ کو حکم دیا، اُس نے پہلے جِنّ کے مقابلے میں دُگنی گہرائی تک غوطہ لگایا مگر وہ بھی کوئی خبر نہ لاسکا ۔ آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے اپنے وزیر حضرتِ آصِف بن بَرخِیا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو حکم دیا، اُس نے تھوڑی ہی دیر میں ایک عالی شان کافُوری چار دروازوں والا سفید سَمُندری گنبد(گُم ۔ بَد)لاکر سیِّدُ نا سلیمان عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی خدمتِ سراپاعَظَمت میں حاضِرکردیا!اس کاایک دروازہ موتیکا ، دوسرا یاقوت کا ، تیسرا ہیرے کا اورچوتھا زَمَرُّد کاتھا، چاروں دروازے کُھلے ہونے کے باوُجُودسَمُندر کے پانی کا کوئی قَطرہ اندر نہیں تھا ۔  اس سَمُندری گنبد کے اندر ایک حسین نوجوان صاف ستھرے لباس میں ملبوس مشغولِ نَما ز تھا ، جب وہ نَماز سے فارغ ہوا ۔  آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے سلام کر کے اس سے اُس سَمُندری گنبد کا راز دریافت کیا ۔  اُس نے عرض کی  : یا نبیَّ اللّٰہ! میرا باپ معذور اوروالِدہ نابینا تھی، اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ میں نے ستَّر۷۰ سال اُن کی خدمت کی ، میری ماں نے انتِقال سے پہلے دُعا کی :  یااللہ عَزَّ وَجَلَّ !میرے بیٹے کو درازیٔ عمر بالخیر عطا فرما ۔  والِد محترم نے بوقتِ وفات دُعا فرمائی :  یااللہ عَزَّ وَجَلَّ!میرے بیٹے کو ایسی جگہ عبادت پر لگا کہ شیطان مُداخَلَت نہ کرے ۔ والِدِ مرحوم کی تدفین کے بعد جب میں ساحِلِ سَمُندر پر آیا تو مجھے یہ سَمُندر ی گنبدنظر آیا، میں اس کے اندر داخِل ہوگیا ۔ اتنے میں ایک فِرِشتہ آیا اوراس نے اس گنبدکوسَمُندر کی تہ میں اُتاردیا ۔ سیِّدُناسُلَیمان عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے اِستِفسار (یعنی پوچھنے )پر اُس نے عرض کی کہ میں حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم خلیلُ اللّٰہ(عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام)کے مقدَّس دَور میں یہاں آیا ہوں ۔ حضرتِ سیِّدُنا سلیمان عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے جان لیا کہ اس کو دو ہزار۲۰۰۰ سال اس’’ سَمُندری  گنبد ‘‘میں گزر چکے ہیں مگر اب تک جوان ہے ، اُس کا ایک بال بھی سفید نہیں ہوا تھا ۔ غِذا کے متعلِّق اُس نے بتایا :  روزانہ ایک سبز پَرَندہ اپنی چونچ میں کوئی زَرد(یعنی پیلی ) چیز لاتا ہے ، میں اُسے کھالیتا ہوں ، اس میں دنیا کی تمام نعمتوں کی لَذَّت ہوتی ہے ، اس سے میری



[1]     یہ بیان امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے تبلیغِ قرآن و سنت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک دعوتِ اسلامیکے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اِجتِماع (۱۸ رَجبُ المرجب ۱۴۳۱؁ ھ /  10-7-1)  میں فرمایا تھا ۔ ترمیم و اضافے کے ساتھ تحریراً حاضرِ خدمت ہے ۔       ۔ مجلسِ مکتبۃُ المدینہ



Total Pages: 12

Go To