Book Name:Khazanay Kay Ambaar

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

خزانے کے اَنبار  ([1]) 

شیطان لاکھ سُستی دلائے یہ بیان  (39صَفحات)   مکمّل پڑھ لیجئے۔  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ   وَجَلَّ

آپکوفکْرِ آخِرت کی دولت اور دُنیا سے بے رَغبَتی کی نِعمت مُیَسَّر آئے گی ۔

100 حاجَتیں پوری ہو ں گی

            سلطانِ دوجہان،  مدینے کے سلطان، رَحمتِ عالَمِیان،  سروَرِ ذیشان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ جنَّت نشان ہے:  ’’جو مجھ پر جُمُعہ کے دن اور رات 100 مرتبہ دُرُود شریف پڑھے اللہ تَعَالٰیاُس کی 100 حاجتیں پوری فرمائے گا،  70 آخِرت کی اور30 دُنیا کی اور اللہ تَعَالٰی ایک فِرِشتہ مقرَّر فرمادے گا جو اُس دُرُودِ پاک کو میری قبر میں یوں پہنچائے گا جیسے تمہیں تحائف پیش کئے جاتے ہیں ،  بِلاشبہ میرا علْم میرے وِصال کے بعد وَیسا ہی ہوگا جیسا میری حیات میں ہے۔ ‘‘    (جَمْعُ الْجَوامِع لِلسُّیُوطی  ج۷ ص۱۹۹ حدیث۲۲۳۵۵

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

دریا میں گھوڑے دوڑادیئے

امیرُالْمُؤمِنِین،  غَیْظُ الْمُنافقِین، امامُ الْعادِلِین، مُتَمِّمُ الْاَربَعِین،  خلیفۃُ الْمُسلمینحضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دَورِ خِلافت میں حضرتِ سیِّدُنا سَعد بن ابی وقّاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی سِپَہ سالاری میں ’’ جنگِ قادِسِیہ‘‘  میں لشکرِ اسلام نے شاندار کامیابی حاصل کی،  اِس جنگ میں 30ہزارمَجوسی یعنی آتَش پَرَست موت کے گھاٹ اُترے جب کہ 8ہزار مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔  ’’ قادِسِیہ‘‘  کی عظیم ُ الشّان فَتْح کے بعد حضرتِ سیِّدُنا سَعدبن ابی وقّاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بابِل تک آتَش پرستوں کا تعاقُب کیا اور آس پاس کے سارے عَلاقے فَتْح کرلئے۔  ایران کا پایۂ تَخت   (CAPITAL مَدائِن جو کہ دریائے دِجلہ کے مشرِقی کَنارے پرواقِع تھا، یہاں سے قریب ہی تھا۔   امیرُالْمُؤمِنِین حضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ہِدایت کے مطابِق حضرتِ سیِّدُنا سعد  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمَدائِن کی طرف بڑھے،  آتَش پرستوں نے دریا کا پُل توڑ دیا اور تمام کِشتیاں دوسرے کَنارے کی طرف لے گئے۔  اُس وقت دریا میں خوفناک طوفان آیا ہواتھااور اُس کو پار کرنا بظاہِرناممکِن نظر آتا تھا،  حضرتِ سیِّدُنا سَعد بن ابی وقّاصرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ کیفیت دیکھی تو  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا نام لے کر اپنا گھوڑا دریامیں ڈال دیا! دوسرے مجاہِدین نے بھی آپ کے پیچھے پیچھے اپنے گھوڑے دریا میں اُتار دیئے گویا ـ   ؎ 

دَشْت تو دَشْت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے                  بَحرِ ظُلمات میں دَوڑادیئے گھوڑے ہم نے

            دَیو آ گئے!  دَیوآگئے! !

            دُشمنوں نے جب دیکھا کہ مجاہِدین اسلام دریائے دِجلہ کے پھُنکارتے ہوئے پانی کا سینہ چیرتے ہوئے مردانہ وار بڑھے چلے آرہے ہیں تو اُن کے ہوش اُڑ گئے اور  ’’دَیواں آمَدَنْددَیواں آمَدَنْد‘‘   (یعنی دَیوآگئے دَیوآگئے)  کہتے ہوئے سر پر پَیر رکھ کربھاگ کھڑے ہوئے۔  شاہِ کِسریٰ کا بیٹا یَزد  گرد اپنا حَرَم   ( یعنی گھر کی عورَتیں )   اور خزانے کا ایک حِصّہ پہلے ہی ’’ حُلوَان‘‘  بھیج چکا تھا اب خود بھی مَدائِن کے درود یوار پر حسرت بھری نظر ڈالتا ہوا بھاگ نکلا۔  حضرتِ سیِّدُنا سَعد بن ابی وقّاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ’’ مدائن‘‘  میں داخِل ہوئے تو ہر طرف عبرتناک سنّاٹا چھایا ہو اتھا،  کِسریٰ کے پُرشِکوہ   (پُر۔ شِ۔ کَو۔ ہ)   مَحَلّات ،  دوسری بلند و بالا عمارات اور سرسبزو شاداب باغات زَبانِ حال سے دنیائے دُوں   (یعنی حقیر دنیا )    کی بے ثَباتی   (یعنی نا پائیداری )   کا اِعلان کر رہے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر بے اختیار حضرتِ سیِّدُنا سَعد بن ابی وقّاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے کی زَبانِ مبارک پر پارہ 25سُوْرَۃُ الدَّخَان  کی آیت نمبر25تا29جاری ہوگئیں ۔  

كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ  (۲۵)  وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِیْمٍۙ  (۲۶)  وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِیْهَا فٰكِهِیْنَۙ  (۲۷)  كَذٰلِكَ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ  (۲۸)  فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ۠  (۲۹) 

 ترجَمۂ کنزُ الایمان: کتنے چھوڑ گئے باغ اور چشمے او رکھیت اور عمدہ مکانات،  اورنعمتیں جن میں فارِغُ البال تھے،  ہم نے یونہی کیا،  اور ان کا وارِث دوسری قوم کو کردیا،  تو ان پر آسمان اور



[1]    یہ بیان امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے تبلیغِ قرآن و سنت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ کے اندر سنّتوں بھرے اِجتِماع ( شبِ براء ت ۱۴۳۱؁ ھ /  27-7-10) میں فرمایا ۔ترمیم و اضافے کے ساتھ تحریراً حاضرِ خدمت ہے۔     ۔مجلسِ مکتبۃُ المدینہ



Total Pages: 13

Go To