Book Name:Qabr waalon ki 25 Hikayaat

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِالْمُرْسَلِیْنط

اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم طبِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمط

قبروالوں کی25 حکایات  [1]

شیطٰن لاکھ سُستی دلائے یہ رسالہ(48صفحات) آخر تک

پڑھ لیجئے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ایمان تازہ ہو جائیگا ۔

{1}560قبروں سے عذاب اُٹھ گیا

          حضرتِ عَلَّامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالِکی قُرطُبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نَقْل کرتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی کی خدمتِ بابَرَکت میں حاضِر ہو کر ایک عورت نے عَرض کی : میری جوان بیٹی فوت ہوگئی ہے ، کوئی طریقہ ارشاد ہو کہ میں اسے خواب میں دیکھ لوں ۔  آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے اُسے عمل بتا دیا  ۔ اُس نے اپنی مرحومہ بیٹی کو خواب میں تو دیکھا، مگر اِس حال میں دیکھا کہ اُس کے بدن پر تارکَول (یعنی ڈامَر) کا لباس، گردن میں زنجیر اور پاؤں میں بَیڑیاں ہیں!یہ ہَیبتناک منظر دیکھ کر وہ عورت کانپ اُٹھی! اُس نے دوسرے دن یہ خواب حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی کو سنایا ، سن کرآپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ بَہُت مغموم ہوئے  ۔ کچھ عرصے بعد حضرت ِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نے خواب میں ایک لڑکی کو دیکھا، جو جنّت میں ایک تَخت پر اپنے سر پر تاجسجائے بیٹھی ہے ۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کو دیکھ کر وہ کہنے لگی :  ’’ میں اُسی خاتون کی بیٹی ہوں ، جس نے آپ کو میری حالت بتائی تھی ۔  ‘‘آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے فرمایا : اُس کے بَقَول تو تُو عذاب میں تھی، آخِر یہ انقِلاب کس طرح آیا؟ مرحومہ بولی :  قبرِستان کے قریب سے ایک شخص گزرا اور اس نے مصطَفٰے جانِ رَحمت ، شمعِ بزمِ ہدایت، نَوشَۂ بزمِ جنَّت، مَنبع جُود و سخاوت ،  سراپا فضل و رَحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود بھیجا، اُس کے دُرُود شریف پڑھنے کی بَرَکت سے اللہ عَزَّوَجَل نے ہم پانچ سو ساٹھقَبْر والوں سے عذاب اُٹھالیا ۔  (ماخوذاًالتذکرۃ فی احوال الموتٰی واُمور الآخرۃ ج۱ص۷۴)

بَسوئے کُوئے مدینہ بڑھو دُرُود پڑھو

جو تم کو چاہئے جنَّت پڑھو دُرود پڑھو

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

{2}بُزُرگ کی دُعا سے ساراقَبرِستان بخشا گیا

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مَعلوم ہُوا، دُرُود شریف کی بڑی بَرَکت ہے اور وہ بھی کسی عاشقِ رسول کی زَبان سے پڑھا جائے تو اُس کی شان ہی کچھ اور ہوتی ہے ، ہو سکتا ہے وہ کوئی اللہ عَزَّوَجَل کا مقبول بندہ ہو کہ جس کے قبرِستان سے گزرنے اور دُرُود شریف پڑھنے کی بَرَکت سے 560مُردوں سے عذاب اُٹھا لیا گیا ۔ اپنے عزیزوں کی قبروں پرعاشقانِ رسول کو بصد اِحتِرام لے جانا، اُن سے وہاں ایصالِ ثواب کروانا یقیناً نَفع بخش ہے ۔ اللہ والوں کے قدموں کی برکتوں کے کیا کہنے ! حضرتِ سیِّدُناشیخ اسماعیل حَضرمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی قبرِستان سے گزرے اور ایکقَبْرکے قریب کھڑے ہوکر بَہُت روئے پھر تھوڑی دیر بعد بے ساختہ  ہنسنے لگے !جب ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا :  میں نے دیکھا کہ اِس قبرِستان والوں پرعذاب ہورہاہے تومیں نے ان کے لئے اللہ تَعَالٰیسے آہ وزاری (کرتے ہوئے خوب رو رو کر دعائے مغفِرت)کی، تومجھ سے کہا گیا کہ جاؤ ہم نے ان لوگوں کے بارے میں تمہاری شَفاعت قَبول کرلی  ۔ (یہ فرما کرکونے میں بنی ہوئی ایک قَبْر کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : ) اُس قَبْر والی عورت بولی کہ اے فَقِیہ اسماعیل! میں ایک گانے بجانے والی عورت تھی، کیا میری بھی مغفِرت ہوگئی؟تومیں نے کہاکہ ہاں اورتُوبھی انہیں (بخشے جانے والوں ) میں ہے  ۔ یِہی چیز میری ہنسی کا باعِث ہوئی



1  یہ بیان امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے تبلیغِ قراٰن و سنت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ کے اندر ہفتہ وارسنّتوں بھرے اِجتِماع (۱۰ شعبانُ المُعظم  ۱۴۳۱؁ ھ /  10-7-22) میں فرمایا تھا ۔ ترمیم و اضافے کے ساتھ تحریراً حاضرِ خدمت ہے ۔  مجلسِ مکتبۃُ المدینہ ۔



Total Pages: 19

Go To