Book Name:Aaqa Ka Mahina

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ؕ

آقا كامہینا  ([1])

 شیطٰن لاکھ سستی دلائے یہ بیان (32 صَفْحات) مکمَّل پڑھ لیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ                              روزوں اور عبادتِ الہٰی کے جذبے سے مالا مال ہو جائیں گے۔   

عاشِقِ دُرُود و سلام کا مقام

حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابو بکر شبلیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الولی ایک روز بغد ادِمعلّٰی کے جَیِّد عالِم حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر بن مجاہدعلیہ رَحمۃُ اللہِ الْواحِد کے پاس تشریف لائے، انہوں نے فوراً کھڑے ہو کر اُن کو گلے لگا لیا اور پیشانی چوم کر بڑی تعظیم کے ساتھ اپنے پاس بٹھایا۔    حاضرین نے عرض کیا: یا سیِّدی!    آپ اور اہلِ بغداد آج تک اِ نہیں دیوانہ کہتے رہے ہیں مگر آج ان کی اِس    قَدَر تعظیم کیوں ؟  جواب دیا:  میں نے یوں ہی ایسا نہیں کیا، اَلْحَمْدُلِلّٰہآج رات میں نے خواب میں یہ ایمان افروز منظر دیکھا کہ حضرتِ سیِّدُ نا ابو بکرشبلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الولی بارگاہِ رسالتمیں حاضِر ہوئے تو سرکار ِدو عالم،  نُورِ مُجَسَّم،  شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے کھڑے ہوکر ان کو سینے سے لگا لیا اور پیشانی کو بوسہ دے کر اپنے پہلو میں بٹھا لیا۔    میں نے عرض کی:  یَارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!    شبلی پر اِس قَدَر شفقت کی وجہ؟  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب،  دانائے غُیُوب،  مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے  (غیب کی خبر دیتے ہوئے)  فرمایا کہ یہ ہر نَماز کے بعد یہ آیت پڑھتا ہے:  لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ (۱۲۸)  ۱۱،  التوبہ:  ۱۲۸)  اوراس کے بعد مجھ پر دُرُود پڑھتا ہے۔    (اَلْقَوْلُ الْبَدِ یع ص ۳۴۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مہینا

          رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا شعبانُ الْمُعظَّم کے بارے میں فرمانِ مکرم ہے: شَعْبَانُ شَہْرِیْ وَرَمَضَانُ شَہْرُ اللہ۔    یعنی شعبان میرا مہیناہے اور رَمضان اللہ کا مہینا ہے۔    (اَلْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوطی ص۳۰۱حدیث۴۸۸۹)

شعبان کے پانچ حروف کی بہاریں

          سُبحٰنَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ!    ماہِ شعبانُ الْمعظَّم کی عظمتوں پر قربان !    اِ س کی فضیلت کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ ہمارے میٹھے میٹھے آقا مکّی مَدَنی مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اسے ’’ میرا مہینا‘ ‘فرمایا۔    سرکارِغوثِ اعظم شیخ عبدُ القادِر جِیلانی حنبلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الولی لفظ  ’’شعبان‘‘ کے پانچ حروف:  ’’ش،   ع،  ب ،  ا ،  ن‘‘ کے مُتعلِّق نقل فرماتے ہیں :  ش سے مراد ’’شَرف‘‘ یعنی بزرگی ، ع سے مراد ’’ علو‘‘ یعنی بلندی، ب سے مراد ’’بِر‘‘  یعنی اِحسان،    ’’ا‘‘  سے مراد ’’ اُلْفت‘‘ اور ن سے مراد ’’نور‘‘ ہے تو یہ تمام چیزیں اللہ تَعَالٰی اپنے بندوں کو اِس مہینے میں عطا فرماتا ہے،  یہ وہ مہیناہے جس میں نیکیوں کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ،   برکتوں کانزول ہوتا ہے،  خطائیں مٹا دی جاتی ہیں اور گناہوں کا کَفارہ ادا کیا جاتا ہے،  اورخیرُالْبَرِیَّہ،  سَیِّدُ الْوَریٰ جنابِ محمدِمُصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر دُرُودِ پاک کی کثرت کی جاتی ہے اور یہ نبیِّ مختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر دُرُود بھیجنے کا مہینا ہے۔     (غُنْیَۃُ الطّالِبین ج۱ص۳۴۱، ۳۴۲)

 



[1]     یہ بیان امیرِ اہلسنّتدامت برکاتہم العالیہ نے تبلیغِ قراٰن و سنت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکز  فیضانِ مدینہ باب المدینہ کراچی میں ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اِجتِماع  (۲۶رَجَبُ المُرَجَّب ۱۴۳۱؁ ھ  /   8-07-10)  میں فرمایا تھا۔  ترمیم و اضافے کے ساتھ تحریراً حاضرِ خدمت ہے۔  مجلسِ مکتبۃُ المدینہ



Total Pages: 13

Go To