Book Name:Qabar ki Pehli Raat

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

قبر کی پہلی رات [1]

شیطان ہرگز نہیں چاہے گا کہ یہ رسالہ(36صفحات )مکمّل پڑھ کر قبر کی پہلی

رات کی تیّاری کا آپ کا ذِہن بنے ، شیطان کا وار ناکام بنادیجئے

دُرُود شریف کی فضیلت

    دو جہاں  کے  سلطان ، سرورِ ذیشان ، محبوبِ رَحمٰنصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ مغفِرت نِشان ہے :  مجھ پر دُرُودِپاک پڑھنا پُلصِراط پر نور ہے جو روزِ جُمُعہ مجھ پر اَسّی بار دُرُودِپاک پڑھے اُس  کے  اَسّی سال  کے  گناہ مُعاف ہوجائیں گے (اَلْجامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوطی ص۳۲۰ حدیث ۵۱۹۱دار الکتب العلمیۃ بیروت)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                 صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

کوئی گُل باقی رہے گا نہ چمن رہ جائیگا              پر رسولُ اللّٰہ کا دینِ حَسَن رہ جائیگا

ہم صفیر و باغ میں ہے کوئی دم کا چہچہا             بُلبلیں اُڑ جائیں گی سُونا چمن رہ جائیگا

اَطلَس کمخواب کی پُوشاک پر نازاں نہ ہو

اِس تنِ بے جان پر خاکی کفن رہ جائیگا

          جلیلُ القدر تابِعی حضرت سیِّدنا حَسَن بَصری عَلَیْہِ رَحمۃُ اللّٰہِ الْقَوِی  اپنے گھر  کے  دروازے پرتشریف فرما تھے کہ وہاں سے ایک جنازہ گزرا، آپ رَحمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہ بھی اُٹھے اور جنازے  کے  پیچھے چل دئیے ۔  جنازے  کے  نیچے ایک مَدَنی مُنّیزاروقِطار روتی ہوئی دوڑی چلی جارہی تھی، وہ کہہ رہی تھی : اے بابا جان ! آج مجھ پر وہ وَقت آیا ہے کہ پہلے کبھی نہ آیاتھا ۔  حضرتِ سیِّدُنا حَسَن بصری عَلَیْہِ رَحمۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے جب یہ درد بھری آواز سنی توآنکھیں اشکبار، دل بیقرار ہوگیا، دستِ شفقت اُس غمگین ویتیم بچی  کے  سر پر پھیرا اور فرمایا  : بیٹی! تم پر نہیں بلکہ تمہارے مرحوم بابا جان پر وہ وقت آیا ہے کہ آج سے پہلے کبھی نہ آیا تھا ۔  دوسرے دن آپ رَ حمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اُسی مَدَنی مُنّی کو دیکھا کہ آنسو بہاتی قَبْرِستان کی طرف جا رہی ہے ۔ حضرت سیِّدُنا حَسَن بصری عَلَیْہِ رَحمۃُ اللّٰہِ الْقَوِیبھی حُصولِ عبرت کیلئے اُس  کے  پیچھے پیچھے چل دئیے ۔  قَبرِستان پَہُنچ کر مَدَنی مُنّی اپنے والدِ مرحوم کی قَبرسے لِپٹ گئی ۔ حضرت سیِّدُنا حَسَن بصری عَلَیْہِ رَحمۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ایک جھاڑی  کے  پیچھے چُھپ گئے ۔ مَدَنی مُنّی اپنے رُخسار مٹّی پر رکھ کررو رو کر کہنے لگی :  اے بابا جان! آپ نے اندھیرے میں چَراغ اور غمخوار  کے  بغیر قَبْرکی پہلی رات کیسے گزاری؟ اے بابا جان! کل رات تو میں نے گھر میں آپ  کے  لئے چَراغ جلایا تھا، آج رات قَبْر میں چَراغ کس نے روشن کیا ہوگا! اے بابا جان! کل رات گھر  کے  اندرمیں نے آپ  کے  لئے بچھونا  بچھایا تھا آج راتقَبْر میں بچھونا کس نے بچھایا ہو گا! اے بابا جان! کل رات گھر  کے  اندرمیں نے آپ  کے  ہاتھ پاؤں دبائے تھے آج راتقَبْر میں ہاتھ پاؤں کس نے دبائے ہوں گے !اے بابا جان! کل رات گھر  کے  اندر میں نے آپ کو پانی پلایا تھا آ ج رات قَبْر میں جب پیاس لگی ہوگی اورآپ نے پانی مانگا ہوگا تو پانی کو ن لایا ہوگا ! اے بابا جان! کل رات توآپ  کے  جسم پر چادرمیں نے اُڑھائی تھی آج رات کس نے اُڑھائی ہو گی؟اے بابا جان! کل رات توگھر  کے  اندر آپ  کے  چہرے سے پسینہ میں پُونچھتی رہی ہوں آج رات قبر میں



1    یہ بیان امیر اہلسنّت حضرت علّامہ مولانا محمد الیاس عطّارقادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ نے دعوتِ اسلامی  کے  تین روزہ  سنّتوں بھرے ا جتماع (صحرائے مدینہ باب المدینہ کراچی)میں ۲۷ربیع النور ۱۴۳۱ھ(14-3-2010) اتوار  کے  روزفرمایا جو ضرورتاً ترمیم  کے  ساتھ طبع کیا گیا۔مجلس مکتبۃ المدینہ



Total Pages: 15

Go To