Book Name:Meethay Bol

میٹھے بول   [1]

غالِبا  شیطان یہ بیان پورا (48صَفَحات)نہیں پڑھنے    دے گا مگر آپ اس کے وار کو ناکام بنا دیجئے ۔  

قَبْر میں سزا کا ایک سبب

          ’’ اَلقَولُ الْبَدِیع‘‘ میں نقل ہے ، حضرت ِسیِّدنا ابو بکر شبلی بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْھَادِی  فرماتے ہیں  : میں نے اپنے مرحوم پڑو سی کو خواب میں دیکھ کرپوچھا،  مَا فَعَلَ اللہ بِکَ؟ یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ وہ بولا :  میں سخت ہولناکیوں سے دو چا ر ہو ا، مُنَکر نکیر کے سُوالات کے جوابات بھی مجھ سے نہیں بن پڑ رہے تھے ، میں نے دل میں خیال کیا کہ شایدمیراخاتمہ ایمان پر نہیں ہوا ! اتنے میں آواز آئی :  ’’دنیامیں زَبان کے غیر ضَروری استِعمال کی وجہ سے تجھے یہ سزا دی جارہی ہے  ۔ ‘‘ اب عذاب کے فِرِ شتے میری طر ف بڑھے ۔  اتنے میں ایک صاحِب جو حُسن و جمال کے پیکر اور مُعَطَّر مُعَطَّر تھے وہ میرے اور عذاب کے درمیان حائل ہوگئے ۔  اورانہوں نے مجھے مُنکَر نکیر کے سُوالات کے جوابات یاد دلا دیئے اور میں نے اُسی طرح جوابات دے دیئے ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ  عذاب مجھ سے دُور ہوا ۔  میں نے اُن بُزُرگ سے عرض کی :  اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے آپ کون ہیں ؟فرمایا :  تیرے کثرت کے ساتھ دُرود شریف پڑھنے کی بَرَ کت سے میں پیدا ہوا ہوں اور مجھے ہر مصیبت کے وقت تیری امداد پر مامور کیاگیا ہے ۔  (اَلْقَوْلُ الْبَدِ یع ص ۲۶۰ مؤسسۃ الرّیان بیروت)

آپ کا نامِ نامی اے صلِّ علیٰ

ہر جگہ ہر مصیبت میں کام آ گیا

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                              صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

          سبحٰنَ اللّٰہ!کثرتِ دُرُود شریف کی بَرَکت سے مدد کرنے کیلئے قبر

 

 میں جب فِرِشتہ آ سکتا ہے تو تمام فِرِشتوں کے بھی آقا مکّی مَدَنی مصطَفٰیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کرم کیوں نہیں فرما سکتے ! کسی نے بالکل بجا تو فریاد کی ہے  ؎

میں گور اندھیری میں گھبراؤں گا تنہا             امداد مری کرنے آجانا مرے آقا

روشن مِری تُربت کو لِلّٰہ شہا کرنا         جب نَزع کاوقت آئے دیدار عطا کرنا

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                              صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

          خُراسان کے ایک بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو خواب میں حکم ہوا :  ’’ تا تا ری قوم میں اسلام کی دعوت پیش کرو !‘‘ اُس وَقت ہلا کو خان کابیٹا تگودار خان بَر سرِ اِقتِدار تھا ۔  وہ بُزُرگ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سفر کر کے تگودار خان کے پاس تشریف لے آئے ۔  سنّتوں کے پیکر بارِیش مسلمان مبلِّغ کو دیکھ کراسے مسخری سوجھی اور کہنے لگا : ’’ میاں ! یہ تو بتا ؤ تمہاری داڑھی کے با ل اچھے یا



[1]    یہ بیان امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے تبلیغِ قراٰن وسنت کی عا لمگیرغیر سیاسی تحریک ’’دعوتِ اسلامی ‘‘ کے سنتوں بھرے اجتماع  (ربیعُ النور شریف۱۴۳۰ 2009)میں بابُ المدینہ کراچی میں فرمایا ۔  ضَروری ترمیم کے ساتھ تحریراً حاضرِ خدمت ہے ۔    



Total Pages: 17

Go To