Book Name:101 Madani Phool

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

101 مَدَنی پھول

شیطٰن لاکھ روکے مگر یہ رسالہ (32صفحات) مکمَّل پڑھیں ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ    وَجَلَّ  کافی سنّتیں سیکھنے کوملیں  ۔

دُرُود شریف کی فضیلت

     رسولِ اکرم،  نُورِ مُجَسَّم ، رَحمتِ عالَم ، شاہِ بنی آدم ، رسولِ مُحتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ رحمت نشان ہے : قِیامت کے روز  اللہ  عَزَّوَجَلَّ  کے عرش کے سِوا کوئی سایہ نہیں ہو گا، تین شخص  اللہ  عَزَّوَجَلَّ  کے عرش کے سائے میں ہوں گے ۔  عرض کی گئی :  یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وہ کون لوگ ہوں گے ؟ارشاد فرمایا : (1)وہ شخص جو میرے اُمّتی کی پریشانی دُور کرے  (2) میری سُنّت کو زِندہ کرنے والا(3) مجھ پر کثرت سے دُرود شریف پڑھنے والا ۔        (البدور السّافرۃ فی امور الا خرۃ للسیوطی ص ۱۳۱حدیث ۳۶۶ )

صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !                 صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

             تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت ، مصطَفٰے جانِ رحمت، شمعِ بزمِ ہدایت ، نَوشَۂ بزمِ جنّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ جنّت نشان ہے :  جس نے میری سُنّت سے  مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی اور جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ   جنّت  میں میرے ساتھ ہو گا ۔   (مِشْکاۃُ الْمَصابِیح ، ج۱ ص۵۵ حدیث ۱۷۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت  )

سینہ تِری سُنّت کا مدینہ بنے آقا

جنّت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا

صَلُّوا  عَلَی الْحَبِیب !                 صلَّی اللہ تعالٰی علٰی محمَّد

            اب مختلف عنوانات پر مَدَنی پھول قبول فرمایئے ، پیش کردہ ہر ہر مَدَنی پھول کو سنّتِ رسولِ مقبولعلٰی صاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پرمَحمول نہ فرمایئے ، ان میں سنّتوں کے علاوہ بُزُرگارنِ دین  رَحِمَہُمُ اللہ المبین سے منقول مَدَنی پھول کا بھی شُمُول ہے ۔ جب تک یقینی طور پر معلوم نہ ہو کسی عمل کو ’’ سنّتِ رسول ‘‘ نہیں کہہ سکتے  ۔

’’السَّلامُ علیکُم‘‘ کے گیارہ حُرُوف کی

 نسبت سے سلام کے 11 مَدَنی پھول

    {1}مسلمان سے ملاقات کرتے وقت اُسے سلام کرنا سنّت ہے {2} مکتبۃ المدینہکی مطبوعہ بہارِ شریعت حصہ 16صَفْحَہ 102 پر لکھے ہوئے جُزیئے کا خلاصہ ہے : ’’ سلام کرتے وَقت دل میں یہ نیّت ہو کہ جس کو سلام کرنے لگا ہوں اِس کا مال اور عزّت



Total Pages: 16

Go To