Book Name:Tazkirah e Sadr us Shariah

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

تَذْکِرَۂ صَدْرُ الشَّرِیْعَہ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  رَبِّ الْوَرٰی [1]

شیطان لاکھ سُستی دلائے  مگر آپ یہ رسالہ(52صفحات)  مکمَّل پڑھ

لیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّآپ کا دل سینے میں  جھوم اُٹھے گا ۔

دُرُود شریف کی فضیلت

            رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدم، نبیِّ مُحتَشَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ معظم ہے : جس نے مجھ پر سو مرتبہ دُرُودِپاک پڑھا اللہ تعالیٰ اُس کی دونوں   آنکھوں   کے درمیان لکھ دیتا ہے کہ یہ نِفاق اور جہنَّم کی آگ سے آزاد ہے اور اُسے بروزِ قیامت شُہَداء کے ساتھ رکھے گا ۔  (مَجْمَعُ الزَّوَائِد  ج۱۰ ص۲۵۳حدیث ۱۷۲۹۸ دار الفکر بیروت)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب !                                               صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سگِِ مدینہ کے بچپن کی ایک دُھندلی یاد

            تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک  ’’ دعوتِ اسلامی  ‘‘ کے قیام سے بہت پہلے میرے عہدِطُفُولیت (یعنی بچپن یا لڑکپن)کا واقعہ ہے ۔ جب ہم بابُ المدینہ کے اندر گؤ گلی، اولڈ ٹاؤن میں   رہائش پذیر تھے، محلّے میں   بادامی مسجِد تھی جو کہ کافی آباد تھی ، پیش امام صاحِب بَہُت پیارے عالم تھے ، روزانہ نَمازِ عشاء کے بعد نَماز کے دو ایک مسائل بیان فرما یا کرتے تھے(کاش ! ہر امامِ مسجِد روزانہ کم از کم کسی ایک نَماز کے بعد اسی طرح کیا کرے) جس سے کافی سیکھنے کو ملتا تھا ۔

             ایک دن میں   اپنے بڑے بھائی جان(مرحوم) کے ساتھ غالِباً نَمازِ ظہر اِسی بادامی مسجِد میں   ادا کرکے باہَر نکلا تھا، پیشِ امام صاحِب فارِغ ہو کر مسجِد کے باہَر تشریف لا چکے تھے ۔  کسی نے کوئی مسئلہ پوچھا ہو گا اِس پر انہوں   نے کسی کو حکم فرمایا :  بہارِ شریعت لے آؤ ۔  چُنانچِہ ایک کتاب ان کے ہاتھوں   میں   دی گئی اُس پر جلی حُرُوف سے بہارِ شریعت لکھا تھا، سرِوَرَق پر سورج کی کرنوں   کے مُشابہ خوبصورت دھاریاں   بنی ہوئی تھیں   ، امام صاحِب نے وَرَق گردانی شروع کی، مجھے اُس وَقت خاص پڑھنا تو آتا نہیں   تھا ۔ جگہ جگہ جلی جلی حُرُوف میں   لفظِ مسئلہ لکھا تھا، چُونکہ مسائل سُن کربَہُت سُکون ملتا تھا اِس لئے میرے منہ میں   پانی آ رہا تھا کہ کاش ! یہ کتاب مجھے حاصِل ہو جاتی ! لیکن نہ میں   نے مذہبی کتابوں   کی کوئی دکان دیکھی تھی نہ ہی یہ شُعُور تھا کہ یہ کتاب خریدی بھی جا سکتی ہے، خیر اگر مَول ملتی بھی تو میں   کہاں   سے خریدتا ! اتنے پیسے کس کے پاس ہوتے تھے ! بَہَرحال بہارِشریعت مجھے یاد رَہ گئی اور آخِر کار وہ دن بھی آہی گیا کہ  اللّٰہُ رَبُّ الْعِزَّتعَزَّوَجَلّ کی رحمت سے میں   بہارِشریعت خریدنے کے قابل ہو گیا ۔

             اُن دنوں   مکمَّل بہارِشریعت (دو جلدوں   میں  ) کا ہدِیَّہ پاکستانی 32روپیہ تھا جبکہ بِغیرجِلد کی 28 روپیہ ۔  چُنانچِہ میں  نے مکمَّل بہارِشریعت (غیرمُجلّد) 28 روپے میں   خریدنے کی سعادت حاصِل کی ۔  اُس وقت بہارِ شریعت  کے 17حصے تھے البتَّہ اب 20ہیں   ۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ  میں   نے بہارِ شریعت سے وہ فُیوض و بَرَکات حاصِل کئے کہ بیان سے باہَر ہیں   ۔

             اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّوَجَلَّ مجھے اس کتاب کی برکات سے معلومات کا وہ اَنمول خزانہ ہاتھ آیا کہ میں   آج تک اس کے گُن گاتا ہوں   ۔ اس عظیمُ الشّان تصنیف کے مُصَنِّفخلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدرُ الشریعہ ، بدرُالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی ہیں   ۔ حضرتِ سیِّدُناسُفْیان بن عُیَیْنہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے فرمان :   ’’ عِنْدَ ذِکْرِ الصَّالِحِیْنَ تَنَزَّلُ الرَّحمَۃُیعنی نیک لوگوں   کے ذِکر کے وقت رحمت نازل ہوتی ہے ۔  ‘‘  (حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء، ج ۷  ص ۳۳۵رقم ۱۰۷۵۰  دارالکتب العلمیۃ بیروت)  پرعمل کرتے ہوئے اپنے مُحسِن حضرت مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی کا تذکرہ پیش کرتا ہوں    ۔

دم سے ترے ’’ بہارِ شریعت  ‘‘  ہے چار سو

باطل تِرے فتاوٰی سے لرزاں   ہے آج بھی

ابتدائی حالات

            صدرِشریعت، بدرِ طریقت ، محسنِ اہلسنّت، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، مصنفِ بہارِ شریعت حضرتِ علّامہ مولانا الحاج مفتی محمد امجد علی اعظمی رضوی سنّی حنفی قادِری برکاتی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی ۱۳۰۰ھ مطابق1882؁ء میں   مشرقی یوپی (ہند)کے قصبے مدینۃُ العُلَماءگھوسی میں  پیدا ہوئے  ۔ آپ کے والدِ ماجد حکیم جمال الدین عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ المُبِیْن اور دادا حُضُور خدابخش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فنِ طِبکے ماہِر تھے  ۔

          اِبتدائی تعلیم اپنے دادا حضرت مولانا خدا بخش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے گھر پر حاصل کی پھراپنے قصبہ ہی میں   مدرَسہ ناصر العلوم میں   جا کر گوپا ل گنج کے مولوی الہٰی بخش



 [1]  شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت ، حضرتِ علامہ مولانا محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی ضیائی دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے ’’ تذکرۂ صدر الشریعہ  ‘‘  مجلس المدینۃ العلمیۃ (دعوتِ اسلامی )کی مَدَنی التجاء پر بہارِ شریعت (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کی پہلی جلد میں   شامل کرنے کے لئے لکھا تھا ، اِس کی افادیت کے پیشِ نظر رسالے کی صورت میں   شائع کیا جارہا ہے ۔ مجلس مکتبۃُ المدینہ



Total Pages: 11

Go To