Book Name:Buland Awaz Say Zikr Karnay Main Hikmat

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

بُلندآواز سے ذِ کْر کرنے میں حکمت

(مع دیگر دِلچسپ سُوال جواب )

اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّشیطان لاکھ سُستی دِلائے یہ رِسالہ(48صَفْحات) مکمل پڑھ لیجئے اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّمعلومات کااَنمول خزانہ ہاتھ آئے گا ۔

دُرُود شریف کی فضیلت

          سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پَروَردگارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکافرمانِ خُوشبودار ہے : ’’جس نے کہا : جَزَی اللّٰہُ عَنَّا مُحَمَّدًا مَّاھُوَاَھْلُہٗ([1])70 فِرِشتے ہزار دن تک اُس کیلئے نیکیاں لکھتے رہیں گے ۔ (مَجْمَعُ الزّوائِد ج۱۰ص۲۵۴حدیث ۱۷۳۰۵دارالفکربیروت)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !         صَلَّی اللّٰہُ تَعالٰی عَلٰی مُحَمَّد

اَعلٰی حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے عقید ت

سُوال :    آپ کو اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّتسے کب عقیدت پیداہوئی ؟

جواب :     بچپن میں آقا  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی نعتوں کے مَقْطَع([2]) میں رضاؔ  سُن کر مَیں سمجھتا تھا کہ یہ کوئی شا عِرہونگے ۔  ایک بارہمارے   محلّے کی بادامی مسجِد کے اندر مرحوم حاجی زکریا جو کہ گونڈل (ھند) کے میمن تھے اور غالباً اِسی مسجِد کے متولّی بھی تھے ، انہوں نے رضاؔکے ساتھ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہا تو مجھے تعجب ہوا، کیونکہ ذِہن بنا ہوا تھا کہ اَولیائے کرام کے نام کے ساتھ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکہا جاتا ہے لہٰذا میں نے بھولپن کے ساتھ مرحوم حاجی زکریا صاحِب سے سُوال کیاکہ کیا ’’رضا‘‘ کوئی وَلِیُّ اللّٰہ تھے ؟ تو اُنہوں نے مجھے اعلیٰ حضرت اِمام  احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  کا بَصَد عَقیدت تَعارُف کروایا ۔ ان کا عقیدتمندانہ اَندازِ تفہیم دِل میں گھر کرگیااور مَیں اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکامُعْتَقِد بن گیا ۔ پھر جب کچھ بڑا ہوا اوراعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوئیں اور ان کی تَصانیف و فتاویٰ کا مُطالَعَہ کیاتو بس اِنہیں کا ہوکر رہ گیا اور یہ ٹھان لی کہ ُمرید بھی بنوں گا تو صِرْف اور صِرْف انہیں کے سلسلے میں بنوں گا ۔  لہٰذا خوش قِسمتی سے اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے مُرید اور خلیفۂ مَجاز سیِّدِی قُطبِ مدینہ حضرت شَیْخُ الفَضِیلَۃ مولانا ضیاء الدین احمدمَدَنی عَلَیہ رَحمۃُ اللّٰہِ الغَنِیکی بَـیْـعَـتسے مُشَّرف ہوگیا ۔  بس اس کے سِوا اور کیا کہوں کہ اگر میرے پاس ’’کچھ‘ہے بھی تو وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی عطا سے بطفیلِ مُصطفٰی  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفَیْضَانِ رَضَا ہے ۔     ؎

کیسے آقاؤں کا ہوں بندہ رضاؔ

بول بالے مِری سرکاروں کے

 



   [1] اللّٰہ تعالٰی ہما ری طرف سے حُضُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ایسی جزا عطافرما ئے جس کے وہ اہل ہیں  ۔

   [2] کلام کے جس آخری شعر میں شاعر اپنا  تخلُّص لکھتا ہے اُس شعر کو مَقْطَع کہتے ہیں ۔



Total Pages: 13

Go To