Book Name:Pur asrar Khazana

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

پر اسرار خزانہ ([1])

شیطٰن لاکھ سستی دلائے یہ ر سالہ (24صَفحات)  مکمل پڑھ لیجئے  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ اپنے دل میں مدنی انقلاب برپا ہوتا محسوس فرمائیں گے۔

سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دُرُود خواں  کا رُخسار چوما

          حضرت سیِّدُنا محمد بن سعیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُعِیْد سونے سے قبل ایک مقررہ تعداد میں دُرُود شریف پڑھا کرتے تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں :  ایک بارجب دُرُودشریف پڑھ کر رات کو سویاتو میری قسمت انگڑائی لے کر جاگ اٹھی،  میں جس میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر دُرُودو سلام پڑھا کرتا ہوں وُہی مدینے والے مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میرے خواب میں تشریف لے آئے اورفرمایا:   ’’اپنا وہ منہ جس سے تم مجھ پر دُرُود پڑھتے ہو میرے قریب کرو تاکہ میں اسے چوم لوں۔ ‘‘  یہ سن کر مجھے بڑی شرم آئی ،  میںاپنا منہ سرکارمدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دَہن اقدس  (یعنی مبارک منہ)  کے قریب کیسے کروں ! میں نے اپنارُخسار (یعنی گال)  سرکارِنامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سامنے کردیا اور رَحمت عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے نہایت ہی شفقت کے ساتھ اس پر بوسہ دیا۔ جب میں بیدار ہوا تو سارا گھر مشکبار ہورہا تھا۔اور میرا رخسار آٹھ روز تک خوب خوب خوشبوداررہا۔            (القولُ البدیع ص۲۸۱ ملخّصاً)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!              صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بیان سننے کے آداب

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!نگاہیں نیچی کئے توجہ کے ساتھ بیان سنئے کہ لاپر واہی سے اِدھر اُدھریا پیچھے مڑمڑ کر دیکھتے ہوئے،  زمین پر انگلی سے کھیلتے ہوئے،  اپنے کپڑے،  بدن یا بالوں کو سہلاتے ہوئے،  باتیں کرتے ہوئے یا ٹیک لگا کر سننے سے نیز اَدھورا بیان سن کر چل پڑنے سے اس کی برکتیں زائل ہونے کا اندیشہ ہے۔ بے توجُّہی کے ساتھ قراٰن وسنّت کی بات سننا مسلمانوں کی صفات سے نہیں ہے۔سُوْرَۃُ الْاَنْبِیَاءدوسری اور تیسری آیت کریمہ میں ارشادِربّانی ہے :  مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ (۲)  لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْؕ-

      میرے آقا اعلٰی حضرت،  امامِ اہلسنّت،  ولیِ نعمت،  عظیم البَرَکت،  عظیم المرتبت،  پروانۂِ شمعِ رسالت،  مُجدِّدِ دین و ملّت،  حامیِِ سنّت،  ماحیِ بدعت،  عالمِ شریعت،  پیرِ طریقت،  باعثِ خیر وبَرَکت حضرت علّامہ مولانا الحاج الحافظ القاری شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  اپنے شہرۂ آفاق ترجمۂ قراٰن  ’’کنزالایمان ‘‘ میں اس کا ترجمہ کچھ یوں کرتے ہیں :   ’’جب ان کے رب کے پاس سے انہیں کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے نہیں سنتے مگر کھیلتے ہوئے ان کے دل کھیل میں پڑے ہیں ۔‘‘

یتیموں کی د یوار

 



[1]   الحمدُ لِلّٰہشبِ جمعہ( ۱۴۱۸۔۵۔۱۰)  کو امیرِ اہلسنّت کا یہ بیاناُمُّ الْقَیْوِین، اَلْاِمَارَاتُ الْعَرَبِیَّۃُ الْمُتَّحِدَۃ سے بذریعہ ٹیلفون مرکز الاولیاء لاہور میں دو جگہ رلے ہوا اور وہاں سے مصطفٰے آباد،  منڈی فاروق آباد،  شیخوپورہ،  شکر گڑھ،  اوکاڑہ،  ضیاکوٹ اور چیچہ وطنی میں رلے ہوا جہاں ہزارہا اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں نے یہ بیان سننے کی سعادت حاصل کی۔ ترمیم و اضافے کے ساتھ تحریراً حاضرِ خدمت ہے ۔مجلسِ مکتبۃُ المدینہ



Total Pages: 10

Go To