$header_html

Book Name:Qurbani Kiyon Kartay Hain

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

قربانی کیوں کرتے ہیں ؟

دُعائے عطار : یا اللہ پاک!جو کوئی 17صفحات کا رسالہ’’قربانی کیوں کرتے ہیں؟‘‘پڑھ یا سُن لے ، اُسےہر سال خوش دِلی سے قربانی کرنے کی سعادت عطافرما اوراُس کی قربانی کو اُس کے لئے پُل صراط کی سواری بنا ۔   اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم۔

دُرُود شریف کی فضیلت

                             سرکارِمدینہ  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  کا فرمان ہے : اے لوگو! بے شک بروزِ قِیامت اس کی دَہشتوں اورحساب کتاب سے جلد نَجات پانے والا شخص وہ ہوگا جس نے تم میں سے مجھ پر دنیا کے اندر بکثرت دُرود شریف پڑھے ہوں گے۔   (مسند الفردوس ، 2 / 471 ، حدیث : 8210) 

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیب                                                        صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد

قربانی حکمِ خُداوندی پرعمل کرنے کیلئے کی جاتی ہے

سُوال : ہم قربانى کىوں کرتے ہىں؟

جواب : قربانی کا حکم اللہ پاک اور اُس کے پیارے رَسول  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   نے دیا ہے اور یہ چند شرائط کے ساتھ مسلمان پر واجِب ہوتی ہے اس لیے ہم قربانی کرتے ہیں اور اِن شاءَ اللہ  کرتے رہیں گے۔ اللہ پاک نے قربانی کا حکم دیتے ہوئے قرآنِ کرىم مىں اِرشاد فرمایا :  ( فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْؕ(۲) ) (پ30 ، الکوثر : 2)ترجَمۂ کنز الایمان : “ توتم اپنے رب کے لئے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ “ تو اِس حکمِ خُداوندی پر عمل کرنے کے لیے ہم قربانی کرتے ہیں۔ (اِس موقع پر مَدَنی مذاکرے میں شریک مفتی صاحب نے فرمایا : )اِس آیتِ مُبارَکہ میں بھی قربانی کا ذِکر ہے :

(قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱۶۲)(پ8 ، الانعام : 162)

ترجَمۂ کنز الایمان : “ تم فرماؤ بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مَرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رَبّ سارے جہان کا۔ “ اِسی طرح جب نبیِ کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   کی بارگاہ میں صَحابۂ کِرام  رضی اللہُ عنہم  نے عرض کى کہ ىہ قربانىاں کىا ہیں؟تو آپ   صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   نے اِرشاد فرماىا : سُنَّةُ اَبِیْكُمْ اِبْرَاھِیْم(یعنی قربانی کرنا)تمہارے باپ ابراہىم علیہ السّلام  کا طرىقۂ کار ہے۔ (ابن ماجہ ، 3 / 531 ، حدیث : 3127) ایک اور حدیث ِ پاک میں ہے : جو قربانى کى وُسعت رکھتا ہو اور قربانى نہ کرے تو وہ ہمارى عىد گاہ کے قرىب نہ آئے۔

 ( ابن ماجہ ، 3 / 529 ، حدیث : 3123)

قربانى کس پر واجب ہے ؟

سُوال : قربانى کرنا کس پر واجب ہے ؟

جواب : 10ذُوالْحِجّةِالْحَرام کى صبحِ صادِق سے لے کر 12ذُوالْحِجّةِالْحَرام کے غُروبِ آفتاب کے دَرمىان اگر کوئى مسلمان عاقِل ، بالغ ، مقیم اور صاحبِ نِصاب ہو اور وہ نِصاب اس کے قرض اور ضَروریاتِ زندگی مىں مُسْتَغْرَق (یعنی ڈوبا ہوا ) نہ ہو تو اِس صورت مىں قربانى واجب ہو گى ۔

کیا مُسافِر پر قربانی واجب ہے ؟

سُوال : کیا مُسافر پر قربانی واجب ہے ؟

جواب : جوشَرعاً مُسافِر ہے اس پر قربانی واجب نہیں ۔

قربانی کے جانور کی عمر کا اِعتبار ہے یا دانت نکالنے کا ؟

سُوال : کیا ایسے جانور کی قربانی جائز ہے جو اپنی قربانی کی عمر پوری کر چکا ہو مگر اس نے دانت نہ نکالے ہوں؟بقر عید کے موقع پر بیوپاری گاہکوں سے کہتے ہیں کہ ہمارے اس جانور نے

اگرچہ دانت نہیں نکالے مگر یہ اپنی قربانی کی عمر پوری کر چکا ہے تو گاہک وہ جانور خَریدنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور کہتے ہیں کہ دانت نکالنا ضَروری ہے ، اگر وہی جانور بیوپاری آدھی قیمت پر دینے کے لیے تیار ہو جائے تو گاہک اسے خَرید لیتے ہیں ، ان کا ایسا کرنا کیسا؟

جواب : جو جانور قربانی کی عمر پوری کر چکے ہوں ان کی قربانی جائز ہے اگرچہ انہوں نے دانت نہ نکالے ہوں ۔ قربانی کے جائز ہونے کے لیے اُونٹ کی عمر کم ازکم پانچ سال ، گائے کی دو سال اور بکرا ، بکری ، دُنبہ ، دُنبی اور بھیڑ کی ایک سال ہونا ضَروری ہے ۔ اَلبتّہ اگر دُنبہ یا بھیڑ کا چھ مہینے کا بچہ اتنا بڑا ہو کہ دُور سے دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو توا س کی قربانی بھی جائز ہے ۔ یاد رکھیے ! قربانی جائز ہونے کے لیے جانوروں کی عمر پوری ہونا ضَروری ہے نہ کہ دانت نکالنا کیونکہ جو جانور آزاد گھوم پھر کر چَرتے اور نوچ نوچ کر گھاس کھاتے ہیں وہ مسلسل دانتوں سے گھاس کھینچتے رہنے کے سبب اپنی قربانی کی عمر پوری ہونے سے پہلے ہی دانت نکال دیتے ہیں اور جو جانور بندھے ہوئے ہوتے ہیں وہ بسااوقات عمر پوری



Total Pages: 6

Go To
$footer_html