Book Name:Qurani Surton Ke Fazail

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

قرآنی سورتوں کے فضائل

دُعائے عطار : یا اللہ پاک!جو کوئی 17صفحات کا رِسالہ’’قرآنی سورتوں کے فضائل‘‘پڑھ یا سُن  لے ۔ اُسے قیامت میں قرآنِ کریم کی شفاعت نصیب فرمااوراُسے بے حساب بخش دے ۔                     

اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  

دُرود شریف کی فضیلت 

حضرت ابو المُظَفَّر محمد بن عبدُاللہ خَیّام سَمَر قندی  رحمۃُ اللہ علیہ   فرماتے ہیں : میں ایک روز راستہ بھول گیا ، اچانک ایک صاحب نظر آئے اور اُنہوں نے کہا : ’’میرے ساتھ آؤ۔ ‘‘ میں ان کے ساتھ ہولیا۔ مجھے گمان ہوا کہ یہ حضرت خِضَر   علیہ الصّلوٰۃوالسّلام   ہیں۔ میرے اِستفسار (یعنی پوچھنے) پر اُنہوں نے اپنا نام خِضَربتایا ، ان کے ساتھ ایک اور بزرگ بھی تھے ، میں نے ان کا نام دریافت کیا تو فرمایا : یہ اِلیاس( علیہ الصّلوٰۃوالسّلام  ) ہیں۔ میں نے عرض کی : اللہ پاک آپ پررَ حمت فرمائے ، کیا آپ دونوں حضرات نے حضرت  محمدِ مصطفےٰ  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   کی زیارت کی ہے؟اُنہوں نے فرمایا : ہاں۔ میں نے عرض کی :  نبیٔ پاک  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   سے سُنا ہوا ارشادِ پاک بتایئے تاکہ میں آپ سے رِوایت کر سکوں ۔ اُنہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسولِ خدا   صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   کو یہ فرماتے سنا کہ جو شخص مجھ پردرود ِ پاک پڑھے اُس کا دل نفاق سے اسی طرح پاک کیا جاتا ہے جس طرح پانی سے کپڑا پاک کیا جاتا ہے۔ نیز جو شخص “ صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد‘‘ پڑھتا ہے تو وہ اپنے اوپر رَحمت کے70دروازے کھول لیتا ہے۔  (القول البدیع ،  ص277 ، جذب القلوب ، ص235)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب _ _صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد

واہ کیا  بات ہے عاشقِ قرآن کی

                             حضرتِ ثابِت بُنانی  رحمۃُ اللہ علیہ  روزانہ ایک بار قرآن پاک کا ختم فرماتے تھے۔ آپ  رحمۃُ اللہ علیہ  ہمیشہ دن کوروزہ رکھتے اورساری رات عبادت فرماتے ، جس مسجِد سے گزر تے اس میں دو رَکعت (تَحِیَّۃُ المسجد) ضرور پڑھتے۔ تحدیثِ نعمت کے طور پر فرماتے ہیں : میں نے جامِع مسجِد کے ہرسُتُون کے پاس قرآنِ پاک کا ختم اور بارگاہ ِ الٰہی میں گِریہ کیا ہے ۔ نَماز اور تلاوتِ قرآن کے ساتھ آپ  رحمۃُ اللہ علیہ   کو خُصوصی  مَحَبَّت تھی ، آپ  رحمۃُ اللہ علیہ  پر ایسا کرم ہوا کہ رشک آتا ہے چُنانچِہ وفات کے بعددورانِ تدفین  اچانک ایک اینٹ سَرَک کر اندر چلی گئی ، لوگ اینٹ (Brick) اٹھانے کیلئے جب جُھکےتو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ آپ  رحمۃُ اللہ علیہ  قَبْر میں کھڑے ہو کر نَماز پڑھ رہے ہیں!آپ  رحمۃُ اللہ علیہ  کے گھر والوں سے جب معلوم کیا  گیا  تو شہزادی صاحِبہ نے بتایاکہ ابوجان رحمۃُ اللہ علیہ روزانہ دُعا کیا  کرتے تھے : ’’یااللہ! اگرتُو کسی کو وفات کے بعد قَبْر میں نَماز پڑھنے کی سعادت عطا فرمائے تو مجھے بھی مُشرَّف فرمانا۔ ‘‘ منقول ہے : جب بھی لوگ آپ  رحمۃُ اللہ علیہ  کے مزارِ پُراَنوار(Blessed tomb)کے قریب سے گزرتے تو قَبْرِ انور سے تِلاوتِ قرآن کی آواز آرہی ہوتی۔

(حلیۃ الاولیاء ، 2 / 362۔ 366 ملتقطا)

اللہ پاک کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔  اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  ۔

دَہَن مَیلا نہیں ہو تا بدن مَیلا نہیں ہو تا            خدا کے اولیا  کا توکفن مَیلا نہیں ہوتا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب_ _صَلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد

ایک حَرف کی دس نیکیا ں

قرآنِ مجید ، فُرقانِ حمید اللہ ربُّ الْانام کامبارَک کلام ہے ، اِس کا پڑھنا ، پڑھانا اورسننا سنانا سب ثواب کا کام ہے۔ قرآنِ پاک کا ایک حَرف پڑھنے پر  10نیکیوں کا ثواب ملتا ہے ، چُنانچِہ اللہ پاک کے آخری نبی ، مکی مَدَنی ، محمدِعربی     صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   کا فرمانِ عالی شان ہے : جو شخص کتابُ اﷲ کا ایک حَرف پڑھے گا ، اُس کو ایک نیکی ملے گی جو دس  نیکیوں کے برابر ہوگی۔ میں یہ نہیں کہتا کہ الٓمّٓ  ایک حَرف ہے ، بلکہ اَلِف ایک حَرف ، لام  ایک حَرف اور میم ایک حَرف ہے۔ (ترمذی ، 4 / 417 ، حدیث : 2919)

تلاوت کی توفیق دیدے الٰہی                         گناہوں کی ہو دور دل سے سیاہی

سورۃُ الْحَشْرکی آخری آیات پڑھنے کی فضیلت

     حضرت معقل بن یسار  رضی اللہ عنہ  سے  مروی ہے نبی کریم  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  نے فرمایا  : جو شخص صبح کے وقت تین بار اَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم کہے اور سورۂ حشر کی آخری تین آیات پڑھے تواللہ پاک اس کے لئے سترہزار فرشتے مقررکردیتاہے جوشام تک اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں اوراگر اس دن مرے تو شہید(Martyr) ہوگااورشام کو پڑھے تو صبح تک یہی فضیلت ہے۔   (ترمذی ، 4 / 423 ، حدیث : 2931)

سورۃُ الحشرکی آخری تین آیات

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِۚ-هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ(۲۲) هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُؕ-سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ(۲۳) هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰىؕ-یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠(۲۴)

 



Total Pages: 6

Go To