Book Name:Bareilly Say Madina

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

بریلی سے مدینہ

شیطٰن لاکھ سُستی دلائے مگربہ نیَّتِ ثواب یہ رِسالہ (20صَفْحات)  پورا پڑھ کر اپنی دنیا وآخِرت کا بھلا کیجئے۔

دُرُود شریف کی فضیلت

        حضرتِ  اُبَیّ بِن کَعب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عَرض کی کہ میں  (سارے وِرد، وظیفے چھوڑ دوں گااور) اپنا سارا وَقت دُرُود خوانی میں صَرف کرونگا۔ تو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:یہ تمہاری فِکروں کودُور کرنے کے لئے کافی ہوگا اور تمہارے گناہ مُعاف کر دئیے جائیں گے ۔ (تِرمِذِی  ج۴ص۲۰۷حدیث۲۴۶۵دار الفکر بیروت)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          یہ اُن دِنوں کی بات ہے جب میں بابُ المدینہ کراچی کے عَلاقہ کھارادر میں واقِع حضرت سیِّدُنا محمدشاہ دولہا بخاری سبزواری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ البَارِی کے مزار شریف سے مُلحَقہَ حیدَری مسجِدمیں تاجدارِ اہلسنّت ، شہزادۂ اعلیٰ حضرت، حضور مُفتیٔ اعظم ہند حضرتِ مولانا مصطَفٰے رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن کا مُتَبَرَّک عمامہ شریف سر پر سجا کر نَمازِ فَجْر پڑھایا کرتا تھا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ ایک ولئی کامِل کا عِمامہ شریف بارہا میرے ہاتھوں اور سر سے مَس ہوا ہے۔  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ میرے ہاتھوں اور سر کو جہنَّم کی آگ نہیں چھوئے گی اور جب ہاتھوں اور سر کو نہ چھوئے گی تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سارا ہی بدن محفوظ ر ہے گا۔ دراصل بات یہ ہے کہ مُتَذَکَّرہ حیدَری مسجِد میں اعلیٰ حضرت،  عظیم ُ البرکت،  امامِ اہلسنّت ،  مجدّدِدین و ملّت،  عالمِ شریعت،  واقِفِ اَسرارِ حقیقت،  پیر طریقت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن کے خلیفۂ مجاز مَدّاحُ الحبیب، صاحِبِ قبا لۂ بخشش حضرتِ مولانا جمیلُ الرّحمن قادِری رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ القَوِی کے فرزندِ اَرْجُمند حضرتِ علّامہ مولانا حمیدُ الرّحمن قادِری رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ القَوِی امامت فرماتے تھے۔ چُونکہ مسجِد سے آپ کا دولت خانہ تقریباً چھ سات کلو میٹر دُور تھا لہٰذا فجر کی امامت کی مجھے سعادت ملتی تھی اور اُن کا حُضُور مفتی ٔ اعظم ہِند رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ والا عمامہ شریف مجھے نصیب ہوجاتا،  جس سے میں بَرَکتیں حاصِل کیا کرتا۔ ایک بار حضرتِ مولانا حَمیدُ الرّحمن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ المَنّان نے اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کے فضائل بیان کرتے ہوئے مجھ سے فرمایا : میں اُن دِنوں چھوٹا بچّہ تھا اور مجھے اچّھی طرح یاد ہے کہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ مجھ سے بھی اور ہر بچّے سے ’’ آپ ‘‘  کہہ کر ہی گفتگو فرماتے تھے ،  ڈانٹنا،  جھاڑنا اور تُو تُکار آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کے مزاجِ مُبارک میں نہ تھا،  ایک جُمعرات کو میں بریلی شریف میں اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کے کاشانۂ رَحْمتـ پر حاضِر تھا کہ کوئی صاحِب ملنے آئے اور وہ وَقت عام مُلاقات کا نہیں تھا لیکن وہ ملنے پر مُصِر تھے۔ چُنانچِہ میں اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کے خاص کمرے میں پیغام دینے چلا گیا مگر کمرے میں تو کُجا پورے مکان میں اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کہیں نظر نہیں آئے۔     ہم حیران تھے کہ آخر کہاں گئے،  اِسی شَش و پَنج میں سب کھڑے تھے کہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ اچانک اپنے کمرۂ خاص سے برآمد ہوئے،  سب حیران رہ گئے اور پوچھنے لگے کہ جب ہم نے تلاش کیا تو آپ کہیں نظر نہ آئے مگر پھر آپ اپنے ہی کمرے سے باہَر تشریف لائے اس میں کیا راز ہے؟ لوگوں کے پَیہم اِصرار پر ارشاد فرمایا:  ’’  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّ  وَجَلَّ میں ہر جُمعرات کو اِس وَقت اپنے اسی کمرے یعنی بریلی سے مدینۂ منوَّرہ زَادَھَا اللہ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً حاضِری دیتا ہوں۔ ‘‘ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔    

  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

حرم ہے اُسے ساحتِ ہر دوعالم!

   جو دل ہوچکا ہے شکارِ مدینہ           (ذوقِ نعت)

 



Total Pages: 8

Go To