Book Name:Khanay ka Islami Tariqa

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دُرُود شریف کی فضیلت

             سرکارِمدینۂ منوّرہ، سردارِمکّۂ مکرّمہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ  بَرَکت نشان ہے :اے لوگو ! بے شک بروزِ قِیامت اسکی دَہشتوں اور حساب کتاب سے جلد نَجات پانے والا شخص وہ ہوگاجس نے تم میں سے مجھ پر دنیا کے اندر بکثرت دُرُودشریف پڑھے ہوں گے ۔ (فردوسُ الاخبار ج۵ص۳۷۵ حدیث ۸۲۱۰ دار الکتب العربی، بیروت )   

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                                   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

کھانے کی نیّت کر لیجئے

(1)کھانے سے مقصود حُصولِ لَذّت اور خواہِش کی تکمیل نہ ہو بلکہ کھاتے وقْت یہ نیّت کرلیجئے :’’میں اللّٰہعَزَّوَجَلَّکی عِبادت پر قوَّت حاصِل کرنے کیلئے کھا رہا ہوں  ۔ ‘‘یاد رہے ! کھانے میں عبادت پر قوّت حاصِل کرنے کی نیَّت اُسی صورت میں سچّی ہو گی جبکہ بھوک سے کم کھانے کا بھی ارادہ ہو ورنہ سِرے سے نیّت ہی بے معنیٰ ہو جائے گی کیوں کہ خوب ڈَٹ کر کھانے سے عبادت کیلئے قُوَّت حاصل ہونے کے بجائے مزید سُستی پیدا ہوتی ہے ۔ کھانے کی عظیم سُنَّت یہ ہے کہ بھوک لگی ہوئی ہوکہ بِغیر بھوک کے کھانے سے طاقت تو کیا آئے گی اُلٹا صحّت خراب اوردِل بھی سخت ہوجاتا ہے ۔ حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ، ایک روایت میں ہے :’’ سیر ہونے کی حالت میں کھانا برص پیدا کرتا ہے ۔     ( قُوت القلوب ج۲ ص ۳۲۶ مرکز اھلسنت برکاتِ رضا، ہند)

(2)ایسا دسترخوان بچھائیے جس پر کوئی حرف، لفْظ، عِبارت ، شِعریا کمپنی وغیرہ کا نام اُردو، انگریز ی کسی بھی زَبان میں نہ لکھا ہوا ہو ۔

روزی میں بَرَکت کا نسخہ

(3) کھاناکھانے سے پہلے اور بعد دونوں ہاتھ پُہنچوں تک دھونا سنّت ہے ،  کُلّیّاں کرکے مُنہ کا اگلا حصّہ بھی دھولیجئے مگر کھانے سے قَبل دھوئے ہوئے ہاتھ مت پُونچھئے ۔ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا:’’ کھانے سے پہلے اور بعد میں وُضو کرنا( یعنی ہاتھ مُنہ دھونا)رِزق میں کُشادَگی کرتا اور شیطٰن کو دُور کرتا ہے ۔ ‘‘ (کنزالعُمّال ج۱۵ص۱۰۶حدیث ۴۰۷۵۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت)

(4) اگر کھانے کیلئے کسی نے مُنہ نہ دھویا تو یہ نہیں کہیں گے کہ اِس نے سنّت ترک کر دی ۔ ہاں جُنُب ( یعنی بے غسلے ) نے اگر منہ نہ دھویا تو مکروہ ہے اور حیض والی کا بغیر دھوئے کھانا مکروہ نہیں ۔ ( بہارِ شریعت حصہ ۱۶ ص۲۰مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)

 (5)کھاتے وَقْت اُلٹا پاؤں بچھادیجئے اور سیدھا گُھٹنہ کھڑا رکھئے یا سُرین پر بیٹھ جایئے اور دونوں گُھٹنے کھڑے رکھئے یا دوزانوبیٹھئے ، تینوں میں سے جِس طرح بھی بیٹھیں گے سُنّت ادا ہوجائے گی ۔

پردے میں پردہ کی عادت بنایئے

(6) اسلامی بھائی ہو یا اسلامی بہن سبھی چادر یا کُرتے کے دامن کے ذَرِیعے پردے میں پردہ ضَرور کریں ورنہ کپڑے تنگ ہوئے یا کُرتے کادامن اٹھا ہو گا توگھر کے افراد وغیرہ بد نگاہی کے گناہ میں پڑ سکتے ہیں ۔ اگر ’’پردے میں پردہ ‘‘ممکِن نہ ہو تو دوزانو بیٹھئے کہ سنّت بھی ادا ہو جائے گی اور خود بخود پردہ بھی ہو جائے گا ۔ کھانے کے علاوہ بھی بیٹھنے میں پردے میں پردہ کی عادت بنایئے ۔

(7)چار زانو یعنی چوکڑی مار کر بیٹھے ہوئے کھانا سنّت نہیں  ۔ کہتے ہیں :اس سے پیٹ باہَر نکلتا ہے ۔

(8)پہلے لقمہ پر بِسمِ اللّٰہ دوسرے سے قبل بِسمِ اللّٰہ الرَّحمٰن اور تیسرے سے پہلے بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیْم پڑھئے ۔  ( اِحیاء العُلُوم ج۲ص ۶ دارصادر بیروت )

(9)بِسمِ اللّٰہ زَور سے پڑھئے تاکہ دوسروں کو بھی یاد آجائے ۔

(10)شُروع کرنے سے قبل یہ دُعا پڑھ لی جائے ، اگر کھانے پینے میں زَہر بھی ہوگا تو اِن شا ءاللّٰہ عَزَّوَجَلَّاَثَر نہیں کرے گا ۔ دُعا یہ ہے : بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَایَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْیٌٔ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَاء یَاحَیُّی یَاقَیُّوْم ۔          (الفردوس ج۱ص۲۸۲حدیث۱۱۰۶)

ترجمہ : اللہ تعالیٰ کے نام سے شُروع کرتا ہوں جس کے نام کی بَرَکت سے زَمین و آسمان کی کوئی چیز نُقصان نہیں پہنچا سکتی، اے ہمیشہ زندہ وقائم رہنے والے ۔

(11)اگر شُروع میں بِسمِ اللّٰہ پڑھنا بھول گئے تو دَورانِ طَعام یا دآنے پر اس طرح کہہ لیجئے :

    بِسمِ اللّٰہِِ اَوَّلَہٗ وَاٰخِرَہٗ    ترجمہ: اللہعَزَّوَجَلَّ کے نام سے کھانے کی ابتداء اور انتہاء  ۔

کھاتے ہوئے بھی ذِکرُاللّٰہ جاری رکھئے

(12)یا وَاجِدُجو کوئی کھانا کھاتے وَقت ہر نوالہ پر پڑھا کریگااِن شاء اﷲ عَزَّوَجَلَّ وہ کھانا اُس کے پیٹ میں  نُور ہوگا اور بیماری دُور ہوگی  ۔ یا

(13) ہر لقمہ سے قبل’’ اللّٰہ‘‘یا’’ بِسمِ اللّٰہ ‘‘کہتے جائیے تاکہ کھانے کی حرِص ذِکرُ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے غافِل نہ کردے  ۔ ہر دو لقمہ کے درمیان اَلحمدُ لِلّٰہ، یا واجِدُ  اور بِسمِ اللّٰہکہتے جایئے ، اِس طرح ہر لقمہ کا آغاز بِسمِ اللّٰہسے ، بیچ میں یا واجِدُ اور ختم ِ لُقمہ پرحَمد کی ترکیب ہو جائے گی ۔ (اگر کھانے میں کچّی پیاز ، کچّا لہسن ، کچّی مُولی وغیرہ کوئی بدبودار چیز شامل ہو تو  ادب کا تقاضاہے اب بدبودار مُنہ سے ذکراللہ



Total Pages: 7

Go To