Book Name:Kalay Bicho

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

کالے بِچّھو

شیطان لاکھ سُستی دلائے یہ رسالہ آپ آخر تک پڑھ لیجئے

ان شاءَ اﷲعَزَّوَجَلَّ   ثواب و معلومات کا ڈھیروں خزانہ ہاتھ آئے  گا ۔

         دُرُود شریف کی فضیلت

          سرکار ِمدینہ، راحتِ قلب وسینہ، صاحبِ معطَّرپسینہ صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ وَالہٖ وَسلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’اے لوگو! بے شک بروزِ قِیامت اسکی دَہشتوں اورحساب کتاب سے جلد نَجات پانے والا شخص وہ ہوگا جس نے تم میں سے مجھ پر دنیا کے اندر بکثرت دُرود شریف پڑھے ہوں گے  ۔ ‘‘(فردوسُ الْاخبار ج۵ ص۳۷۵ حدیث ۸۲۱۰ دارالکتاب العربی بیروت)

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                              صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

         کہتے ہیں  : کوئٹہ کے ایک قریبی گاؤں میں کسی ’’کلین شیو‘‘ نوجوان کی لاوارِث لاش ملی ۔  ضَروری کاروائی کے بعد لوگوں نے مل جُل کر اُسے دفنا دیا ۔  اتنے میں مرحوم کے وُرَثا ڈھونڈتے ہوئے آ پہنچے اور اُنہوں نے لوگوں کے سامنے اپنی اس خواہِش کا اظہار کیا کہ ہم اپنے اِس عزیز کیقَبْر اپنے گاؤں میں بنانا چاہتے ہیں ۔ چنانچِہ قَبْرسے مِٹّی کھود کرہٹادی گئی اور جب چِہرہ کی طرف سے پتَّھر کی سِل ہٹائی گئی تو یہ دیکھ کر لوگوں کی چیخیں نکل گئیں کہ ابھی جس  نوجوان کو دَفن کیا تھا اُس کے چِہرے پر کالی داڑھی بنی ہوئی ہے اور وہ داڑھی کالے بالوں کی نہیں بلکہ کالے بِچّھوؤں کی ہے ۔ یہ لرزہ خیز منظر دیکھ کر لوگ اِستِغفار پڑھنے لگے اورجُوں تُوں قَبْربند کرکے خوف زدہ لوٹ گئے ۔  

مُردہ نکالنے کیلئے قَبْر کھودنا کیسا؟

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کوئٹہ والے واقِعہ میں لاش لے جانے کیلئے قَبْر کھودنے کا تذکرہ ہے اِس ضِمن میں یہاں یہ ضَروری مسئلہ ذِہن نشین فرما لیجئے ، بِلااِجازتِ شَرعی قَبْر کھودنا حرام ہے میرے آقا اعلیٰ حضرت امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں ، ’’ نبش (قبر کھودنا) حرام ، حرام ، سخت حرام اور میِّت کی اشد توہین و ہتکِ سِرِّرَبُّ الْعٰلمین ( یعنی اللہ تعالٰی کے راز کی توہین) ہے ‘‘ ۔ (فتاویٰ رضویہ  ج۹ص ۴۰۵) 

داڑھی مُنڈوا کر جوں ہی غسل خانہ میں داخل ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔ !

          ایک بارسگِ مدینہ عُفِی عنہ (راقم الحروف) کے سنّتوں بھرے بیان میں مذکورہ واقِعہ سن کر(بابُ المدینہ کراچی) کے ایک نوجوان نے خوفِ خدا  عَزَّوَجَلَّ کے سبب داڑھی سجالی، مگر گھر والے مانِع ہوئے اور شادی کے لالچ میں آکر اس نے بھی داڑھی مُنڈوا دی ۔  مگر کالے بچھوؤں والا واقِعہ اُس کے ذِہن سے نہیں ہٹتا تھا ۔  جب شیو کروانے کے بعد وہ غسل خانے میں داخِل ہوا تو یہ دیکھ کر خوف سے اس کی گھگھی بندھ گئی کہ وہاں ایک خوفناک کالا کیڑارینگ رہا تھا ۔  یہ دیکھ کر اس نے اُسی وَقت داڑھی مُنڈوانے سے توبہ کی اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ دوبارہ داڑھی بڑھانا شروع کردی ۔  

 



Total Pages: 8

Go To