Book Name:Pur Asrar Bhikari

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

پُر اَسرار بھکاری  [1]

شیطان لاکھ روکے مگر یہ رِسالہ(32صَفَحات) مکمَّل پڑھ لیجئے اِن شاءَ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  پڑھ کر آپ ہکّے بکّے رَہ جائیں گے  ۔

دُرُود شریف کی فضیلت

           سرکارِمدینۂ منوّرہ، سردارِمکّۂ مکرّمہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ  بَرَکت نشان ہے  : اے لوگو ! بے شک بروزِ قِیامت اسکی دَہشتوں اور حساب کتاب سے جلد نَجات پانے والا شخص وہ ہوگاجس نے تم میں سے مجھ پر دنیا کے اندر بکثرت دُرُودشریف پڑھے ہوں گے  ۔ (فردوسُ الاخبار ج۵ص۳۷۵ حدیث ۸۲۱۰ )   

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

        ایک صاحِب کا بیان ہے  : مدینۃُ الاوْلیاء ملتان شریف میں حضرتِ سَیِّدُنا غوث بہاؤ الحقِّ وَالدِّین زکریا مُلتانی قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی کے مزارِ پُر اَنوار پر سلام عرض کرنے کے لئے میں حاضِر ہوا، فاتِحہ کے بعد جب لوٹنے لگا تو ایک شخص پر میری نظر پڑی جو مشغولِ دُعا تھا ۔  میں ٹھِٹھک کر وَہیں کھڑارہ گیا ۔  دراز قد، مگر بدن نہایت ہی کمزور اور چہرے پر اُداسی چھائی ہوئی تھی ۔  چَونک کر کھڑے ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس کے گلے میں پانی کا ایک ڈَول لٹکا ہوا تھا جس میں اس نے اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیاں ڈَ بَو رکھی تھیں ، اُس کے چِہرے کو بَغور دیکھا تو کچھ آشنائی کی بُو آئی ۔  میں اس کے فارِغ ہونے کا انتِظار کرنے لگا، جب اُس نے دعا ختم کی تو میں نے اُس کو سلام کیا، اُس نے سلام کا جواب دے کر میری طر ف بَغور دیکھا اور مجھے پہچان لیا ۔  لمحہ بھر کے لئے اُس کے سُوکھے ہونٹو ں پرپِھیکی سی مُسکُراہٹ آئی اور فورًا ختم ہوگئی پھر حسبِ سابِق وہ اُداس ہوگیا ۔  میں نے اُس سے گلے میں پانی کا ڈَول لٹکانے اور اُس میں دائیں ہاتھ کی اُنگلیاں ڈَبَو ئے رکھنے کا سبب دریافت کیا ۔  اِس پر اُس نے ایک آہ ِسَرد، دلِ پُر دَرد سے کھینچنے کے بعد کہنا شُروع کیا :  

          میری ایک چھوٹی سی پرچُون کی دُوکان ہے ۔ ایک بار میرے پاس آکر ایک بِھکاری نے دستِ سُوال دراز کیا، میں نے ایک سِکَّہ نکال کر اُس کی ہتھیلی پر رکھ دیا، وہ دُعائیں دیتا ہوا چلا گیا ۔ پھر دُو سرے دن بھی آیا اور اِسی طر ح سِکَّہ لے کر چلتا بنا ۔  اب وہ روز روز آنے لگا اور میں بھی کچھ نہ کچھ اُس کو دینے لگا ۔  کبھی کبھی وہ میری دُ کان پر تھوڑی دیر بیٹھ بھی جاتا اور اپنے دُکھ بھرے اَفسانے مجھے سُناتا ۔  اُس کی داستا نِ غم نِشان سُن کر مجھے اُس پر بڑا تَر س آتا، یُو ں مجھے اُس سے کافی ہمدردی ہوگئی اور ہمارے درمیان ٹھیک ٹھاک یارانہ قائم ہوگیا ۔  دِن   گُزرتے رہے ۔ ایک بار خِلافِ معمول وہ کئی روز تک نظر نہ آیا مجھے اُس کی فِکر لاحِق ہوئی کہ ہو نہ ہو وہ بے چارہ بیمار ہوگیا ہے ورنہ اتنے ناغے تو اُس نے آج تک نہیں کئے میں نے اُس کا مکان تو دیکھا نہیں تھا البتّہ اتنا ضَرور معلوم تھا کہ وہ شہر کے باہَر ویرانے میں ایک جَھونپڑی میں تنہا رَہتا ہے ۔ خیر میں تلاش کرتا ہوا بِالآخِر اُس کی جَھونپڑی تک پہنچ ہی گیا ۔  جب اند ر داخِل ہوا تو دیکھاکہ ہر طر ف پُرانے چِیتھڑے بکھرے پڑے ہیں ، ایک طرف چند ٹُوٹے پُھوٹے بر تن رکھے ہیں ، اَلغَرَ ض دَر و دِیوار غُربت واِفلاس کے افسانے سُنا رہے تھے



   [1] کچھ عرصہ پہلے یہ واقِعہ بطورِ حقیقت ایک گجراتی اخبار میں شائع ہوا تھا ۔  میں نے اسے بے حد عبرتناک پایا، لہٰذا اپنی یاد داشت کے مطابِق نیز کچھ تصَرُّف کے ساتھ اپنے انداز میں تحریر کیا ہے تاکہ اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کے لئے خوب خوب سامانِ عبرت مُہَیّا ہو ۔  سگِ مدینہ عُفِی عنہُ



Total Pages: 10

Go To