Book Name:Bhayanak Ount

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم

بھیانک اُونٹ [1]

شیطٰن لاکھ سُستی دلائے یہ بیان (32صفحات)  آخر تک پڑھ لیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ ثواب و معلومات کا ڈھیروں خزانہ ہاتھ  آئے گا۔

دُرُود ِپاک کی فضیلت

          مدینے کے سُلطان،  رَحمت ِعالَمِیان،  سَرورِ ذیشان،  محبوبِ رَحمٰن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عَظَمت نشان ہے: جسے کوئی مشکل پیش آئے اسے مجھ پر کثرت سے دُرُود پڑھنا چاہئے کیونکہ مجھ پر  دُرُودپڑھنا مصیبتوں اور بلاؤں کو ٹالنے والا ہے۔  (اَلْقَوْلُ الْبَدِ یع ص ۴۱۴،بستان الواعظین للجوزی ص۲۷۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

{۱} بھیانک اُونٹ

          کُفّارِ قریش ایک دن کعبۂ مُشرَّفہ میں جمع تھے،نبیِّ اکرم،  نورِ مُجَسَّم ،  شاہِ آدم و  بنی آدم ،  رسُولِ مُحتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بھی قریب ہی نَماز ادا فرما رہے تھے،  ابوجَہْل ایک بھاری پتھّر اُٹھا کر دُکھیادلوں کے چَین،  رحمتِ کونین،  رسولِ ثَقَلَین،  نانائے حَسَنَین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سرِ مُبارک کو معاذَاللّٰہ سَجدے کی حالت میں کُچلنے کے ناپاک ارادے سے آگے بڑھا اور جُوں ہی نزدیک پہنچا تو ایک دم بوکھلا کر پیچھے کی طرف بھاگا،  کُفّارِ ناہنجار نے حیر ت سے پوچھا:  اَبُوالْحَکَم! تجھے کیا ہوا؟  بولا: میں جُوں ہی قریب پہنچا میرے تو اَوسان ہی خطا ہوگئے،  میں نے دیکھا کہ ایک دَہشت ناک سَراور خوفناک گردن والا بھیانک اُونٹ مُنہ کھولے دانت کچکچاتا ہوا مجھے ہڑپ کرنے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے!ایسا بھیانک اُونٹ میں نے آج تک نہیں دیکھا۔  سرکارِ دو عالم،  نُورِ مجَسَّم،  شاہِ آدم و بنی آدم ،  رسولِ مُحتَشَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:  وہ جبرائیل (عَلَیْہِ السَّلَام ) تھے ،اگر ابوجہل اور نزدیک آتا تو اُسے پکڑلیتے۔  (اَلسِّیْرَۃُ النَّبَوِیَّۃ لابن ہشّام ص۱۱۷)

نورِخدا ہے کُفر کی حَرکت پہ خندہ زَن ۱؎ (۱؎  یعنی ہنسنے والا)

پھو نکوں سے یہ چراغ  بُجھایا نہ جا ئے گا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

واہ رے ! شانِ بے نیازی

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّ وَجَلَّکی شانِ بے نیازی بھی خوب ہے !کبھی اپنے محبوب مُبلِّغ کو دشمنوں کے ذَرِیعے مصائب وآلام میں مُبتَلا کرکے اِن کے خوب خوب دَرجات بُلند فرماتا ہے تو کبھی مُبلِّغ اعظم،  رحمتِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دشمن کو وار کرنے سے قبل ہی خوفزدہ کرکے یہ باوَر کرادیتا ہے کہ کہیں ہمارے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اکیلا مت سمجھ بیٹھنا!

آقائے مظلوم کو ستانے کا سبب

          ہمارے آقائے مظلوم،  سرورِ معصوم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر کُفّارِ بَداطوار کے ظُلم و ستم کا سبب صرف یِہی تھا کہ اب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کھل کر لوگوں کو نیکی کی دعوت پیش کرنے لگے تھے ،جب کہ ابتداء ً  سیِّدُ الْمُبلِّغین،رَحمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تین سال تک خُفیَۃً (یعنی چھپ کر)  اسلام کی دعوت دی،  پھراللہ عَزَّ وَجَلَّکی جانب سے عَلی الاعلان تبلیغ کا حکم ہوا۔  (ایضاً ص ۱۰۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



[1]     یہ بیان امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے تبلیغِ قراٰن و سنت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے اِجتِماع میں فرمایا تھا۔ترمیم و اضافے کے ساتھ تحریراً حاضرِ خدمت ہے۔ مجلسِ مکتبۃُ المدینہ

 



Total Pages: 11

Go To