Book Name:Pulsirat ki Dehshat

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

پُلْ صراط کی دہشت ([1])

شیطٰن لاکھ سُستی دلائے یہ رسالہ(36صفحات) مکمَّل پڑھ لیجئے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ َّآپ اپنے دل میں مَدَنی انقلاب برپا ہوتا ہوا محسوس فرمائیں گے۔

 دُرُود شریف کی فضیلت

        فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ : مجھ پر دُرُودِپاک پڑھنا پل صراط پر نور ہے ، جو روزِ جمعہ مجھ پر80 بار دُرُودِپاک پڑھے اُس کے 80 سال کے گناہ معاف ہوجائیں گے۔

(اَلْجامِعُ الصَّغِیرص۳۲۰حدیث۵۱۹۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

پُلْ صراط کی دہشت (حکایت)

      حضرتسیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالحَفِیظکی ایک کنیز نے حاضر ہوکر عرض کی : میں نے خواب میں دیکھا کہ جہنَّم کو دَہکایا (یعنی بھڑکایا)گیا ہے اور  اُس کے اُوپر پُل صراط   رکھ دیا گیا ہے۔ اتنے میں اُموی خلفا کو لایا گیا۔ سب سے پہلے خلیفہ عبدالملک بن مروان کو حکم ہو ا کہ پُل صراط سے گزرو! وہ پُلْ صراط پر چڑھا ، مگر آہ! دیکھتے ہی دیکھتے دوزخ میں گر پڑا۔ پھر اُس کے بیٹے ولید بن عبدالملک  کو لایا گیا ، وہ بھی دوزخ میں جا گرا۔ اس کے بعد سلیمان بن عبدالملک کو حاضِر کیا گیا اور وہ بھی اسی طرح دوزخ میں گر گیا۔ ان سب کے بعد یا امیرَالمؤمنین! آپ کو لایا گیا ، بس اِتنا سننا تھا کہ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالحَفِیظ نے خوف زَدہ ہو کر چیخ ماری اور گر پڑے۔ کنیز نے پکار کر کہا : یاامیرَالمؤمنین! سنئے بھی تو… خداکی قسم! میں نے دیکھا کہ آپ نے سلامَتی کے ساتھ پُل صراط  پار کرلیا۔ مگر حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالحَفِیظ پُل صراط کی دَہشت سے بے ہوش ہو چکے تھے اور اِسی عالم میں اِدھر اُدھر ہاتھ پائوں مار رہے تھے۔

( اِحْیاءُ  الْعُلُوم  ج ۴ص ۲۳۱ مُلَخّصاً)

 اللّٰہُ ربُّ العزّت عَزَّوَجَلَّ کی ان سب پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔          اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

پُلْْ صِراط تلوار کی دھار سے زیادہ تیز  ہے

   اے عاشقانِ رسول!  یا د رہے! غیر نبی کا خواب شریعت میں حُجَّت یعنی دلیل نہیں ، کنیز کے خواب کی بنیاد پر اُن خلفا کو ہرگز ہرگز جہنَّمی نہیں کہہ سکتے ،  اللّٰہ پاک ہی ان کاحال جانتا ہے۔ حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالحَفِیظمیں خوفِ خدا کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ، صرف خواب سن کر پُل صراط کی دہشت سے بے ہوش ہو گئے! واقعی پُل صراط کا معاملہ بڑا ہی نازک ہے ۔ پل صراط بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہے اور یہ جہنّم کی پشت پر رکھا ہوا ہو گا ، خدا کی قسم! یہ سخت تشویش ناک مرحلہ ہے ، ہر ایک کو اس پر سے گزرنا پڑے گا ۔

پھر تیرا یہ ہنسنا کیسا؟(حکایت)

    حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ہنس رہا ہے ۔ فرمایا : اے جوان! کیا توپُل صراط سے گزر چکا ہے ؟ عرض کی : نہیں ۔ پھر فرمایا : کیا یہ جانتا ہے کہ تو جنت میں جائے گا یا دوزخ میں ؟  عرض کی : نہیں ۔ فرمایا : فَمَا ھٰذَا الضِّحْکُ؟ یعنی پھر تیرا یہ ہنسنا کیسا ہے؟ (یعنی جب ایسی مشکلات تیرے سامنے ہیں اور تجھے اپنی نجات کا بھی علم نہیں تو پھر کس خوشی پر ہنس رہا ہے ؟) اس کے بعد کسی نے کبھی بھی اُس کو ہنستے نہیں دیکھا۔  (اِحیاءُ الْعُلومج۴ص۲۲۷)

 اللّٰہُ ربُّ العزّت عَزَّوَجَلَّ کی ان سب پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔             اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

خوش ہونے والے پر حیرت

      حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں : ’’ تعجُّب ہے اُس ہنسنے والے پر جس کے پیچھے جہنَّم ہے اور حیرت ہے اُس خوشی منانے والے پر جس کے پیچھے موت ہے۔ ‘‘

(تَنبِیہُ الْمُغتَرِّیْن ص۴۱)

ہر ایک پُلْ صِرا ط سے گزرے گا

       اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتنا حفصہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے کہ حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ معظَّم ہے : جو غزوۂ بدرو حُدَیبِیہ میں حاضر تھے ،  اِنْ شَآءَ اللہ تَعَالٰی  وہ آگ میں داخل نہیں ہوں گے۔ میں نے عرض کی :  یارَسُولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللّٰہپاک نے یہ نہیں فرمایا  :

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَاۚ-كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ(۷۱) ۱۶ ، مریم : ۷۱)

ترجَمۂ کنزالایمان : اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو ، تمہارے رب کے ذمے پر یہ ضرور ٹھہری ہوئی بات ہے۔

آ پ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : کیا تم نے نہیں سنا  :

ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا(۷۲) ۱۶ ، مریم : ۷۲)

 



   [1]یہ بیان امیر اہل سنّت دامت برکاتہم العالیہ نے عاشقانِ رسول کی مَدَنی تحریک ، دعوتِ اسلامی کے تین دن کے سنتوں بھرے اجتماع (۱ ، ۲ ، ۳محرم الحرام۱۴۲۶ھ فروری 2005ء بابُ الاسلام سندھ) میں فرمایا۔ مَعَ ترمیم و اضافہ تحریراً حاضرِ خدمت ہے۔ 



Total Pages: 10

Go To