Book Name:Pan Gutka

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

پان گٹکا

 شیطٰن لاکھ سُستی دلائے مگر بہ نیَّتِ ثواب یہ رِسالہ  (28صَفْحات)  پورا پڑھ کر اپنی دنیا و آخِرت کا بھلا کیجئے۔

دُرُود شریف کی فضیلت

نبیوں  کے سلطان ، رَحمتِ عالمیان ،  سردارِ دو جہان، مَحبوبِ رَحمن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے نَماز کے بعد حمد و ثنا ودُرُود شریف پڑھنے والے سے فرمایا :  ’’  دُعا مانگ قَبول کی جائے گی،  سُوال کر، دیا جائے گا۔ ‘‘  (نَسائی ص ۲۲۰حدیث۱۲۸۱)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مسلمان کی بھلائی چاہنا کارِ ثواب

          حضرت سَیِّدُنا جَرِیر بن عبدُاللّٰہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں :  میں  نے حضور تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے نَماز پڑھنے ، زکوٰۃ دینے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کرنے پر بَیعَت کی۔  ( بُخاری ج ۱ص۳۵حدیث۵۷) اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں:   ’’  ہر فردِاسلام کی خیرخواہی  (یعنی بھلائی چاہنا)  ہرمسلمان پر فرض ہے ۔  ‘‘   

(فتاوٰی رضویہ ج ۱۴ ص ۴۱۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مَسُوڑھوں  کے کینسر کے مریض کی حکایت

                          اندازاً چالیس سالہ آدَمی نے ایک بار سگِ مدینہ عُفِیَ عَنْہُکو بتایا : میرے مَسُوڑھوں  میں  کینسر ہوگیا ہے،  آپریشن بھی کرواچکا ہوں  مگر صِحّت نہیں  ملی،  دراصل میں  روزانہ20یا25 پان کھاتا اور ساتھ ہی ساتھ سگریٹ کی ایک آدھ ڈِبیا بھی پی جاتا تھا۔ میں  نے پوچھا:  اب پان سگریٹ کا استِعمال فرماتے ہیں  یا نہیں  ؟ تو وہ دونوں  ہاتھ سے کان پکڑنے لگے کہ ان چِیزوں  ہی نے تو مجھے برباد کیا اور موت کے دَہانے پر لاکھڑا کیا ،  اب ان کو کیسے استعمال کرسکتا ہوں !

 آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے پرہیزی ارشاد فرمائی

      میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  اِسی طرح کے اور بھی مریض دیکھے اور سنے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب ،  حبیبِ لبیب، طبیبوں  کے طبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بیماروں  سے ہمدردی فرماتے تھے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مختلف مواقِع پر مُعالَجات اور پرہیزی کی ہِدایات بھی ارشاد فرمائی ہیں ، چُنانچِہ حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ مُنذِر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں  :  (ایک دن)  نبیِّکریم ،  رَء ُوْفٌ رَّحیم عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلاةِ وَالتَّسْلِيْممیرے یہاں  تشریف لائے ،  حضرتِ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمبھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہمراہ تھے۔ ہمارے یہاں  کَھجوروں  کے خَوشے لٹکے ہوئے تھے۔ رسولِ کریم عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلاةِ وَالتَّسْلِيْم انہیں  تناوُل فرمانے لگے، حضرتِ علیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمبھی ساتھ کھانے لگے۔ پیارے پیارے آقا،  مکّی مَدَنی مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا :  ’’  اے علی ! ٹھہرو ،  ٹھہرو !  (یعنی تم ان کھجوروں  کو کھانے سے پرہیز کرو)  کیونکہ تم میں  ابھی نَقاہت ہے ‘‘   ( یعنی تم ابھی بیماری سے اٹھے ہو اور تم پر کمزوری کا اثر غالِب ہے اس لیے تمہارے لیے پرہیز ضَروری ہے) حضرتِ سیِّدَتُنا اُمِّ مُنذِررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : پھر میں  نے ان کے لیے چُقَندر اور جَوپکائے تو نبیِّکریم ،  رَء ُوْفٌ رَّحیم عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلاةِ وَالتَّسْلِيْم نے فرمایا :  ’’ اے علی ! تم اس میں  سے کھاؤکیونکہ یہ تمہارے لیے نَفع بَخش اورمُوافِق ہے۔      ( تِرمِذیج۴ص۳حدیث ۲۰۴۳)

ڈاکٹر کے مَنع کرنے کا انتِظار مت کیجئے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  خیر خواہی کرتے ہوئے آپ کو پان گُٹکے کے نُقصانات سے بچانے کے مقدّس جذبات کے تحت ان کے بعض ضَرَر رساں  (یعنی نقصان دِہ)  پہلوؤں  کی نشاندہی کرنے کی کوشِش کرتا ہوں ۔ زہے نصیب ! مَرَض کی آمد اور ڈاکٹر کے اِنتباہ  (Warning) سے قبل ہی مجھ گنہگار کے ہمدردانہ الفاظ پڑھ کر اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں حُصُولِ نفسانی خواہشات ،  غیرمُفید لذّات اورمُضِرّات  (یعنی نقصان پہنچانے والی چیزوں )  سے پرہیز اختیار فرمالیں ۔

تِری وحشتوں  سے اے دل! مجھے کیوں  نہ عار آئے

تُو اُنہیں  سے دُور بھاگے جنہیں  تجھ پہ پیار آئے

  (ذوقِ نعت)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

    یاربِّ مصطَفٰے عَزَّ وَجَلَّ      ! تیرے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اس فرمانِ عالیشان:  اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ  یعنی دین خیر خواہی کا نام ہے۔  ( مُسلِمص ۴۷حدیث ۵۵) کا واسِطہ مجھے اُمّتِ محبوب کی خیر خواہی کا دَرد نصیب فرما،  خیر خواہی میں  اَغلاط سے محفوظ کر اورشَرِیعت کے مطابق دیئے جانے والے میرے خیر خواہانہ مشورے ہاتھوں  ہاتھ لینے اور ان پر عمل کرنے کی مسلمانوں  کو سعادت عنایت فرما اور مجھے بھی عمل خیر کی توفیق بخش ۔

تُو تحریر میں  دیدے تاثیر یارب!                   قَلَم میں  اَثر ہو عطا یاالٰہی

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

 



Total Pages: 7

Go To