Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

             حضرت علامہ مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس آیت سے معلوم ہوا کہ بدعت یعنی دین میں  کسی بات کا نکالنا اگر وہ بات نیک ہو اور اس سے رضائے الہٰی مقصود ہو تو بہتر ہے اس پر ثواب ملتا ہے اور اس کو جاری رکھنا چاہیے ،ایسی بدعت کو بدعتِ حَسنہ کہتے ہیں  البتہ دین میں  بری بات نکالنا بدعتِ سَیِّئہ کہلاتا ہے، وہ ممنوع اور ناجائز ہے اور بدعتِ سَیِّئہ حدیث شریف میں  وہ بتائی گئی ہے جو خلافِ سنت ہو، اس کے نکالنے سے کوئی سنت اُٹھ جائے ۔اس سے ہزار ہا مسائل کا فیصلہ ہوجاتا ہے جن میں  آج کل لوگ اختلاف کرتے ہیں  اور اپنی ہوائے نفسانی سے ایسے اُمورِخیر کو بدعت بتا کر منع کرتے ہیں  جن سے دین کی تَقْوِیَت و تائید ہوتی ہے اور مسلمانوں  کو اُخروی فوائد پہنچتے ہیں  اور وہ طاعات و عبادات میں  ذوق و شوق کے ساتھ مشغول رہتے ہیں  ،ایسے اُمور کو بدعت بتانا قرآنِ مجید کی اس آیت کے صریح خلاف ہے۔(خزائن العرفان، الحدید، تحت الآیۃ: ۲۷، ص۹۹۹)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۙ(۲۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والواللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ وہ اپنی رحمت کے دو حصے تمہیں  عطا فرمائے گا اور تمہارے لیے نور کردے گا جس میں  چلو اور تمہیں  بخش دیگا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان لانے والو!اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ تووہ اپنی رحمت کے دو حصے تمہیں  عطا فرمائے گا اور وہ تمہارے لیے ایک ایسا نور کردے گا جس کے ذریعے تم چلو گے اور وہ تمہیں  بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

{یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ: اے ایمان لانے والو!اللہ سے ڈرو۔} اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے اہلِ کتاب کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانے والو! رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے معاملے میں  اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس کے رسول محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لاؤ تو اللہ تعالیٰ تمہیں  دگنا اجر دے گا کیونکہ تم پہلی کتاب اور پہلے نبی پر بھی ایمان لائے او رنبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور قرآنِ پاک پر بھی ایمان لائے اور وہ قیامت کے دن تمہارے لیے پل صراط پر ایک ایسا نور کردے گا جس (کی روشنی) کے ذریعے تم چلو گے اور نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے سے پہلے کے تمہارے سب گناہ بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔( خازن ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۲۸ ،  ۴ / ۲۳۴)

اہلِ کتاب میں  سے ایمان لانے والوں  کے لئے دُگنا اجر:

             اس آیت کی نظیر یہ آیت ِمبارکہ ہے

’’ اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ(۵۲)وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ(۵۳)اُولٰٓىٕكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا ‘‘(قصص:۵۲-۵۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: جن لوگوں  کو ہم نے اس(قرآن) سے پہلے کتاب دی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں ۔اور جب ان پر یہ آیات پڑھی جاتی ہیں  توکہتے ہیں : ہم اس پر ایمان لائے، بیشک یہی ہمارے رب کے پا س سے حق ہے۔ ہم اس  (قرآن )سے پہلے ہی فرمانبردار ہو چکے تھے۔ان کو ان کا اجر دُگنا دیا جائے گاکیونکہ انہوں  نے صبر کیا۔

            اورحضرت ابو بردہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ  اپنے والد سے روایت کرتے ہیں  ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ ِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ تین آدمیوں  کے لئے دگنا اجر ہے۔(1)اہلِ کتاب میں  سے وہ شخص جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر (بھی) ایمان لایا۔(2)وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کا حق بجا لائے اور اپنے مالکوں  کے حقوق (بھی) پورے کرے۔(3)وہ آدمی جس کے پاس لونڈی ہو تو وہ اس سے وطی کرے اوراسے تہذیب و تعلیم کے زیور سے خوب آراستہ کرے ،پھر اسے آزاد کرنے کے بعد ا س کے ساتھ نکاح کر لے تو اس کے لئے دُگنا ثواب ہے۔( مشکاۃ المصابیح ،  کتاب الایمان ،  الفصل الاول ،  ۱ / ۲۳ ،  الجزء الاول ،  الحدیث: ۱۱)

لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠(۲۹)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ اس لیے کہ کتاب والے کافر جان جائیں  کہ اللہ کے فضل پر ان کا کچھ قابو نہیں  اور یہ کہ فضل اللہ کے ہاتھ ہے دیتا ہے جسے چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  تاکہ اہل ِکتاب جان لیں  کہ وہ اللہ کے فضل میں  سے کسی چیز پر قدرت نہیں  رکھتے اور یہ کہ سارا فضل اللہ کے ہاتھ میں  ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

{لِئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ: تاکہ اہلِ کتاب جان لیں ۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ جب اوپر والی آیت نازل ہوئی اور اس میں  اہل ِکتاب میں  سے مومنین کوسرکار ِدو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اوپر ایمان لانے پر دگنے اجر کا وعدہ دیا گیا تو اہل ِکتاب میں  سے کفار نے کہا’’ اگر ہم حضورِ اقدس  صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائیں  تو ہمیں  دگنا اجر ملے گا اور اگر ایمان نہ لائیں  تو ہمارے لئے ایک اجر جب بھی رہے گا ،اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اُن کے اس خیال کو رد کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ کتاب کو آخری نبی پر ایمان لانے کا حکم اس لئے دیا ہے تاکہ اہلِ کتاب جان لیں  کہ محمدمصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائے بغیروہ اللہ تعالیٰ کے فضل یعنی دُگنے اجر، نور اور مغفرت میں  سے کچھ نہیں  پاسکتے کیونکہ جب وہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان نہیں  لائے تو ان کا پہلے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر ایمان لانا بھی ان کے لئے مفید نہ ہوگا،اور وہ یہ بھی جان لیں  کہ سارافضل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں  ہے ،وہ اپنے بندوں  میں  سے جسے چاہتا ہے دیتا ہے کیونکہ وہ قادر اور مختار ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے۔( خازن ،  الحدید ،  تحت الآیۃ: ۲۹ ،  ۴ / ۲۳۴)


 



Total Pages: 250

Go To