Book Name:Nekiyan Chupao

پہلے اِسے پڑھ لیجیے!

اللہربُّ العالمین نے  اِنسانوں اور جنّوں  کو اپنی قدرتِ کامِلہ سے پیدا فرمایا کہ اس کی بندگی کریں ، انہیں عقل و شعور کے زیور سے نوازا کہ اچھائی  بُرائی میں تمیز کریں  اور ہر طرح کی نعمتیں عطا فرمائیں کہ شکرگزار بنیں مگر شیطان لعین اِنسان کا کُھلا دُشمن ہونے کی وجہ سے اِسی جستجو میں  رہتا ہے  کہ یہ  اپنے معبود ِحقیقی کی بندگی سے منہ موڑ کر اس کی نافرمانیوں میں مشغول رہے ۔ وہ  اپنے اس بُرےمقصد کی خاطر اوّلاً  تو لوگوں  کو نیکی کی طرف جانے  نہیں دیتا اور اگر کوئی شیطان کی چالوں کو ناکام بناتے ہوئے نیک عمل کرنے میں کامیاب ہوبھی جائے تو رِیاکاری ، تکبر ، حُبِّ جاہ  اور خود نُمائی  وغیرہ میں مبتلا کر کے اس کے اَعمال بَرباد کر دیتا ہے  اور بندہ اپنے زُعم میں نیک اَعمال کے سبب خوش فہمی میں مبتلا رہتا ہے  مگر بروزِ قیامت کفِ افسوس ملتا رہ جائے گا کہ  نیکیوں کا اَجر  تو دُنیا ہی میں ضائع کر چکا۔     

پیشِ نظر رسالے ’’ نیکیاں چھپاؤ ‘‘میں اِخلاص کا ذہن اور اپنی نیکیاں چھپانے کی بھرپور ترغیب دِلائی گئی ہےجسے المدینۃ العلمیۃ کا شُعبہ “ فیضانِ مدنی مذاکرہ “ پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے نیز اِس رسالے میں امیرِاہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے بیان ’’نیکیاں چھپاؤ ‘‘ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اسے نہایت توجہ سے پڑھیے اور شیطان کے مکر و فریب سے بچ کر  اِخلاص کے ساتھ  نیک اَعمال بجا لاتے ہوئے اُخْروی نَجات کے لیے کوشش کیجیے۔

مجلس المدینۃ العلمیہ            

(شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)        

22 شعبان المعظم ۱۴۳۷ھ / 30مئی 2016ء

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمط

نیکیاں چھپاؤ

شیطان لاکھ سُستی  دِلائے یہ رسالہ(۱۰۶ صفحات ) مکمل پڑھ لیجیے۔

اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ معلومات کا اَنمول خزانہ ہاتھ آئے گا۔

دُرُود شریف کی فضیلت

حضرتِسَیِّدُنا ابوبَکر بن مجاہد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْوَاحِد ایک دن اپنے طَلَبہ کو پڑھا رہے تھے کہ ایک شیخ پُرانے عِمامے ، پُرانی قمیص اور پُرانی چادر میں مَلبوس تشریف لائے۔ حضرتِ سَیِّدُنا شیخ ابوبَکر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْاَکْبَر ان کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو گئے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھایا۔ پھر ان کا اور ان کے بچوں کا حال دَرْیافت کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آج رات میرے گھر بچہ پیدا ہوا ہے۔ گھر والوں نے مجھ سے گھی اور شہد  مانگا ہے حالانکہ میرے پاس ایک ذرَّہ بھی نہیں۔ حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابوبَکر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْاَکْبَر فرماتے ہیں : میں(ان کی یہ بات سُن کر)پریشانی کی حالت میں سو گیا۔ میں نے خواب میں نبیٔ کریم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰو ۃِ  وَالتَّسْلِیْم کی زِیارت کی۔ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : غمگین کیوں ہو؟خلیفہ کے وزیر علی بن عیسٰی کے پاس جاؤ اور اُسے جا کر میرا  سلام کہنا اور یہ نشانی بتانا کہ تم جُمُعَہ کی راتمجھ پر ہزار مرتبہ دُرُود پڑھنے کے بعد سوتے ہو۔ اِس جُمُعَہ کی رات تم نے مجھ پر سات سو مرتبہ دُرُود پڑھا تھا کہ خلیفہ کا قاصِد آیا اور تمہیں بُلا کر لے گیا۔ پھر  واپس آ کر تم نے مجھ پر دُرُود  پڑھا حتّٰی کہ تم نے ہزار مرتبہ دُرُود شریف مکمل کر لیا۔ اُسے کہنا کہ سو دینار  نَومولود کے والد کو دے دو تاکہ یہ اپنی ضَرورت پوری کریں۔ (خواب سے بیدار ہونے کے بعد)حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر بن مجاہد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْوَاحِد ان کو ساتھ لے کر وزیر کے پاس پہنچ گئے۔ آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے وزیر سے کہا : اِن کورسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تیری طرف بھیجا ہے۔ وزیر کھڑا ہوا اور آپ(یعنی ابوبَکر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْاَکْبَر) کو اپنی جگہ پر بٹھا کر سارا ماجَرا دریافت کیا۔ آپ نے وزیر کے سامنے پورا واقِعہ بیان کر دیا۔ وزیر خوش ہوا اور اپنے غُلام کو   مال کی تھیلی نکالنے کا حکم  دیا۔ پھر اِس سے سو دِینار نکال کر نَومولود کے والِد کو دے دیئے۔ اِس کے بعد سو دِینار اور نکالے تاکہ حضرتِ سَیِّدُنا شیخ ابوبَکر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْاَکْبَر کو دے مگر آپ نے لینے سے اِنکار کر دیا۔ وزیر نے کہا : حضرت! اِس سچی



Total Pages: 43

Go To