Book Name:Garmi say hifazat kay Madani Phool

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

گرمی سے  حفاظت کے مَدَنی پھول

روزے میں آسانی کے نسخے

شیطٰن  لاکھ سستی دِلائے یہ رسالہ ) 18صَفحات ) پوراپڑھ کر اپنی دنیاو آخِرت کا بھلا کیجئے۔ 

دُرُود شریف کی فضیلت

      تابعی بزرگ  حضرتِ سیِّدُنا کعب الاحبار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےحضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی طرف وَحی فرمائی:  اے مُوسیٰ    (عَلَیْہِ السَّلَام) !کیا تم چاہتے ہو کہ محشرکی پیاس سے محفوظ رہو؟عرض کی:  اے میرے ربّ! ہاں ۔   فرمایا:  فَاَکْثِرِ الصَّلَاۃَ عَلٰی مُحَمَّدٍ یعنی حضرتِ محمدِمصطفٰے صَلَّی اللہُ   عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھو۔    (ابنِ عَساکِر ج۶۱ص۱۵۰ مُلَخَّصاً )

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیْب !                                                                                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

گرمی کا موسِم نعمت ہے

          اَلْحَمْدُ للہ عَزَّوَجَلَّگرمی کا موسِم بھی اللہ تَعَالٰی کی نعمت ہے اوراس میں بے شمار حکمتیں ہیں ۔   گرمی کی شدّت بڑھ جائے تو صبرسے کام لینا چاہئے ۔  سردی اورگرمی کو بُرا کہنا بَہُت معیوب ہے گرمی کے موسم کا گلہ شکوہ کرنے والا ایک طرح سے گرمی کو پیدا کرنے والے کی شکایت کر رہاہے گویا کہہ رہا ہے کہ دیکھو! اللہ تَعَالٰی نے گرمی بڑھا دی ہے !

آگ دیکھ کر بے ہوش ہو گئے! (حکایت)

          بندۂ مومن کو چاہئے کہ گرمی کی شدّت سے اپنے لئے عبرت کا سامان کرے ،  دُنیوی گرمی کے ذریعے محشر کی گرمی اور جہنَّم کی ہولناک آگ کو یاد کرنا چاہئے کہ آج جب دنیا کی معمولی گرمی سہی نہیں جا رہی توکل محشر میں وہ ہولناک گرمی اور آگ کیوں کر برداشت کی جاسکے گی!  دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ625 صَفْحات پر مشتمل کتاب، اللہ والوں کی باتیں  (جلد 2)  صَفحَہ177تا178پر ہے:  حضرت ِ سیِّدُنا بکر بن ماعز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ (تابعی بزرگ)  حضرت ِ سیِّدُنا ربیع بنخُثَیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاور ( صحابیِٔ رسو ل)  حضرت ِ سیِّدُنا عبدُاللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُدریائے فرات کے  کنارے چلتے ہوئے لوہاروں کے پاس سے گزرے۔   حضرت سیِّدُناربیع بن خُثَیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے جب بھٹّی کی آگ دیکھی تو (انہیں جہنَّم کی خوفناک آگ یاد آگئی اور) بے ہوش ہوکر زمین پر تشریف لے آئے۔    (ہم انہیں اٹھا کر ان کے گھر لے آئے) حضرت ِ سیِّدُنا عبدُاللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُان کی طر ف پلٹے اور انہیں آوازدی لیکن انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔   آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُتشریف لے گئے اورلوگوں کوعصرکی نمازپڑھاکر واپس تشریف لائے پھر آواز دی لیکن جواب نہ ملا۔   پھر تشریف لے گئے،  مغرب کی نماز پڑھاکر لوٹے اور آواز دی لیکن ربیع بن خُثَیمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی طرف سے پھر بھی کوئی جواب نہ ملا (پھر تشریف لے گئے،  عشا کی نَماز پڑھاکر لوٹے اور آواز دی لیکن ان کی طرف سے پھر بھی کوئی جواب نہ ملا)  حتّٰی کہ سحری کے وقت سردی کے باعث ہوش میں آئے۔    (الزہد للامام احمد بن حنبل ص۳۳۲ حدیث۱۹۳۰ ،  حِلْیَۃُ الْاولیاء ج ۲ ص ۱۲۹)  اللہُ رَبُّ العِزِّتْ کی ان سب پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔    اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیْب !                                                                                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

4800 اموات

     ہم دنیا و آخرت کی گرمی کی ہولناکیوں سے اللہ تَعَالٰی کی پناہ چاہتے ہیں ، بس عافیت ،  عافیت اور عافیت کے طلب گار ہیں ۔   ۱۴۳۶ھ  (2015ء)  میں پاکستان سخت گرمیوں کی لپیٹ میں آ گیا اوراِسی دَوران رَمَضانُ المبارَکبھی جلوہ گر ہوا تھا ،  ایک اطِّلاع کے مطابق ان دنوں صرف بابُ المدینہ  (کراچی)  کے اندر’’  



Total Pages: 7

Go To