Book Name:Doodh Pita Madani Munna

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دودھ پیتا مدَنی مُنّا

  (15سچّی کہانیاں) 

 دُرُود شریف کی  فضیلت

       فرمان مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خاطر آپس میں مَحَبَّت رکھنے والے جب آپس میں ملیں اور  ہاتھ ملائیں اور نبی   (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر دُرُودِ پاک بھیجیں تو ان کے جدا ہونے سے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔      (مُسْنَدِ اَبُو یَعْلٰی ج۳ ص۹۵حدیث۲۹۵۱)    

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

{۱}دودھ پیتے مَدنی مُنّے نے بات کی!

    رسولِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مکے شریف کے ایک گھر میں موجود تھے کہ ایک آدمی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں ایک منے   (Infantکو کپڑے میں لپیٹ کر لایا جو اسی دن پیدا ہواتھا۔  رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اُس منے سے پوچھا:میں کون ہوں؟وہ بولا:’’ آپ اللہکے رسول ہیں۔ ‘‘رسولِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’ تو نے سچ کہا،  اللہ تَعَالٰیتجھے برکت دے ۔ ‘‘  (معرفۃُالصّحابۃ ج ۴ ص ۳۱۴ رقم ۶۳۹۵) 

   میٹھے میٹھے مَدَنی منو اورمدنی منیو!  اللہ تَعَالٰینے ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ایسی شان عطا فرمائی ہے کہ دودھ پیتے مدنی منے نے بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے رسول ہونے کی گواہی دی۔ آئیے!  اللہ تَعَالٰیکے پیارے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اور بھی معجزے سنتے ہیں:

{۲} مَدَنی مُنّے کا ہاتھ جل گیا

     ہمارے پیارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابی حضرتِ محمد بن حاطب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میری امی جانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے مجھے بتایا:میں تمہیں لے کر   (ملک)   حبشہ سے آرہی تھی،   مدینے شریف سے کچھ دُور میں نے کھانا پکایا،  اُسی دَوران لکڑیاں ختم ہوگئیں،  میں لکڑیاں لینے گئی تو تم نے ہنڈیا   (Potکو کھینچا،  ہنڈیا تمہارے ہاتھ پر گرگئی اور تمہارا ہاتھ جل گیا۔ میں تمہیں لے کر محمدٌ رَّسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی:یا رسولَ اللہ

صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!  میرے ماں باپ آپ پر قربان! یہ محمد بن حاطب ہے۔  رسول اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تمہارے  سر پراپنا مبارَک ہاتھ پھیرا اور تمہارے لئے دعا کی ،  پھر تمہارے ہاتھ پر اپنا مبارک لعاب   (یعنی برکت والا تھوک )   لگایا۔ جب میں تمہیں لے کر وہاں سے اُٹھی تو تمہارا ہاتھ بالکل ٹھیک ہوچکا تھا۔    (مُسندِ اِمام احمد بن حنبلج ۵ ص



Total Pages: 15

Go To