Book Name:Naat khuwan aur Nazrana

کی پڑھوائی کے مقرر کر رکھے ہیں ، بِغیر پانچ روپیہ فیس کے کسی کے یہاں جاتا نہیں ۔

            میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جواباً ارشاد فرمایا : زید نے جو اپنی مجلس خوانی خُصوصاً را گ سے پڑھنے کی اُجرت مقرّر کر رکھی ہے ناجائز وحرام ہے اس کا لینا اسے ہر گز جائز نہیں ، اس کا کھاناصَراحۃً حرام کھانا ہے  ۔ اس پر واجِب ہے کہ جن جن سے فیس لی ہے یاد کرکے سب کو واپَس دے ، وہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارِثوں کو پھیرے ، پتا نہ چلے تو اتنا مال فقیروں پر تصدُّق کرے اور آیَندہ اس حرام خوری سے توبہ کرے تو گناہ سے پاک ہو ۔ اول تو سیِّدِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ذکر ِپاک خود عمدہ طاعات واَجَلّ عبادات سے ہے اور طاعت وعبادت پر فیس لینی حرام ([1]) ۔ ۔ ۔ ۔  ۔  ثانِیاً بیانِ سائل سے ظاہر کہ وہ اپنی شعِر خوانی وزَمْزَمہ سَنْجی ( یعنی راگ اور تَرَنُّم سے پڑھنے )کی فیس لیتا ہے یہ بھی محض حرام ۔ فتاوٰی عالمگیری میں ہے  :  گانا اور اشعار پڑھنا ایسے اعمال ہیں کہ ان میں کسی پر اُجرت لینا جائز نہیں  ۔ (فتاوٰی رضویہ ج۲۳ص۷۲۴ ۔  ۷۲۵ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور)

            جو نعت خواں اسلامی بھائی T.V. یا محفلِ نعت میں نعت شریف پڑھنے کی فیس وُصول کرتے ہیں اُن کیلئے لمحۂ فکریہ ہے ۔  میں نے اپنی طرف سے نہیں کہا، اہلسنّت کے امام، ولیٔ کامِل اور سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے عاشقِ صادِق کا فتویٰ جو کہ یقینا حکمِ شریعت پر مَبنی ہے ، وہ آپ تک پہنچانے کی جَسارت کی ہے ، حبِّ جاہ و مال کے باعث طیش میں آکر، تِیُوری (تِ ۔ یُو ۔ ری) چڑھا کر، بل کھا کر الٹی سیدھی  زبان چلا کر عُلَمائے اہلسنّت کی مخالَفت کرنے سے جو حرام ہے ، وہ حلال ہونے سے رہا، بلکہ یہ تو آخِرت کی تباہی کا مزید سامان ہے ۔

طے نہ کیا ہو تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

            ہو سکتا ہے کہ کسی کے ذِہن میں یہ بات آئے کہ یہ فتویٰ تو اُن کیلئے ہے جو پہلے سے طے کر لیتے ہیں ، ہم تو طے نہیں کرتے ، جو کچھ ملتا ہے وہ تبرُّکاً لے لیتے ہیں ، اس لئے ہمارے لئے جائز ہے ۔ اُن کی خدمت میں سرکارِ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ایک اور فتویٰ حاضِر ہے ، سمجھ میں نہ آئے تو تین بار پڑھ لیجئے :    

            تلاوتِ قراٰنِ عظیم بغرضِ ایصالِ ثواب وذِکر شریف میلادِ پاک حُضُور سیِّدِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ضَر ور مِنْجملہ عبادات وطاعت ہیں تو ان پر اِجارہ بھی ضَرور حرام ومَحْذُور(یعنی ناجائز) ۔ اور اِجارہ جس طرح صَریح عَقْدِ زَبان(یعنی واضِح قول و قرار) سے ہوتا ہے ، عُرفاًشَرْطِ مَعْرُوف ومَعْہُود ( یعنی رائج شدہ انداز ) سے بھی ہوجاتا ہے مَثَلاً پڑھنے پڑھوانے والوں نے زبان سے کچھ نہ کہا مگر جانتے ہیں کہ دیناہوگا(اور)وہ (پڑھنے والے بھی) سمجھ رہے ہیں کہ ’’کچھ ‘‘ملے گا ، اُنہوں نے اس طور پر پڑھا ، اِنہوں نے اس نیَّت سے پڑھوایا ، اجارہ ہوگیا، اور اب دو وجہ سے حرام ہوا، (۱)ایک تو طاعت (یعنی عبادت )پر اِجارہ یہ خود حرام ، (۲)دوسرے اُجرت اگرعُرفاًمُعَیَّن نہیں تو اس کی جَہالت سے اجارہ فاسِد ، یہ دوسرا حرام ۔   (مُلَخّص اَز :  فتاوٰی رضویہ ج۱۹ص ۴۸۶ ، ۴۸۷) لینے والا اور دینے والا دونوں گنہگار ہوں گے ۔ (ایضاًص۴۹۵) 

            اِس مبارَک فتوے سے روزِ روشن کی طرح ظاہِر ہو گیا کہ صاف لفظوں میں طے نہ بھی ہو تب بھی جہاں UNDERSTOOD ہو کہ چل کرمحفل میں قراٰنِ پاک ، آیتِ کریمہ ، دُرُود شریف یا نعت شریف  پڑھتے ہیں ، کچھ نہ کچھ ملے گا رقم نہ سہی’’ سوٹ پیس‘‘ وغیرہ کا تحفہ ہی مل جائے گا اور بانیِ محفل بھی جانتا ہے کہ پڑھنے والے کو کچھ نہ کچھ دینا ہی ہے ۔  بس ناجائز و حرام ہونے کیلئے اتنا کافی ہے کہ یہ ’’ اُجرت ‘‘ ہی ہے اورفَریقَین(یعنی دینے اور لینے والے ) دونوں گنہگار ۔    

قافِلۂ مدینہ اور نعت خواں

    سفر اور کھانے پینے کے اَخراجات پیش کر کے نعتیں سننے کی غَرَض سے نعت خواں کو ساتھ لے جانا جائزنہیں کیوں کہ یہ بھی اُجرت ہی کی صورت ہے ۔  لُطْف تو اِسی میں ہے کہ نعت خواں اپنے اَخراجات خود برداشت کرے ۔ بصورتِ دیگر قافِلے والے مخصوص مدّت کیلئے مطلوبہ نعت خواں کو اپنے یہاں تنخواہ پر ملازِم رکھ لیں ۔ مَثَلاً ذیقعدۃُ الحرام، ذُوالْحِجَّۃِ الْحرام اور محرَّمُ الْحرام  ان تین مہینوں کا اِس طرح اِجارہ (AGREEMENT) کریں کہ فلاں تاریخ سے لے کر فلاں تاریخ تک روزانہ  اتنے بجے سے لے کر اتنے بجے تک (مثلادوپہر تین سے لے کر رات نو بجے تک)اتنے گھنٹے (مثلا چھ گھنٹے ) کا آپ سے ہم نے ہر طرح کی خدمت کا کام اِجارہ کیا ۔  اب اِس دوران چاہیں تو اس سے کوئی سابھی جائز کام لے لیں یا جتنا وَقْت چاہیں چُھٹّی دیدیں ، حج پر ساتھ لے چلیں اور اَخراجات بھی آپ ہی برداشت کریں اور خوب نعتیں بھی پڑھوائیں ۔ یا درہے ! ایک ہی وَقْت کے اندر دو جگہ نوکری کرنایعنی اِجارے پر اِجارہ کرنا ناجائز ہے ۔  البتّہ اگر وہ پہلے ہی سے کہیں نوکری پر لگا ہواہے تواب سیٹھ کی اجازت سے دوسری جگہ کام کرسکتا ہے ۔  

 دَورانِ نعت نوٹیں چلانا

   سامعین کی طرف سے نعت شریف پڑھنے کے دوران نوٹیں پیش کرنا اور نعت خواں کاقَبول کرنا دُرُست ہے ، اگر فَریقَین میں طے کر لیا گیا کہ نوٹ لفافے میں ڈال کر دینے کے بجائے دورانِ نعت پیش کئے جائیں یا طے تو نہ کیا مگر دَلالۃً ثابِت (یعنی UNDERSTOOD) ہو کہ محفل میں بلانے والا نوٹ لٹائے گاتو اب اُجْرت ہی کہلائے  گی اور ناجائز ۔  بانیِ محفل جانتا ہے کہ نوٹیں نہیں چلائیں گے تو آیَندہ نعت خواں نہیں آئیں گے اور نعت خواں بھی اِسی لئے دلچسپی سے آتے ہیں کہ یہاں نوٹیں چلتی ہیں توکئی صورتوں میں یہ لین دین بھی اجرت بن جائے گا اور ثواب کی بجائے گناہ و حرام کا وَبال سر آئے گا لہٰذا نعت خواں غور کرلے کہ رضائے الٰہی مقصود ہے یا محض روپے کمانا؟ کاش ! اے کاش ! صدکروڑ کاش ! اخلاص کا دور دورہ ہو جائے ، اور نعت خوانی جیسی عظیم سعادت کو چند حقیر سکّوں کی خاطر برباد کرنے والی حِرص کی آفت ختم ہو جائے ۔

اُن کے سوا کسی کی دل میں نہ آرزو ہو

دنیا کی ہر طلب سے بیگانہ بن کے جاؤں

 



[1]    امام ، مؤَذِّن، مُعَلّمِ دینیات اور واعظ و غیرہ اِس سے مستثنٰیٰ ہیں ۔    ( ماخوذ از فتاوٰی رضویہ ج ۱۹ ص ۴۸۶ )



Total Pages: 7

Go To