Book Name:Aaqa Ka Pyara Kon?

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

قُربِ مُصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

          حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کافرمانِ تقرُّب نشان ہے : اَوْلَی النَّاسِ بِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَکْثَرُہُمْ عَلَیَّ صَلَاۃً  یعنی بروزِ قیامت لوگوں میں میرے قریب تَروہ ہوگا، جس نے دُنیا میں مجھ پر زیادہ دُرُودِ پاک پڑھے ہونگے۔(ترمذی، کتاب الوتر، باب ماجاء في فضل الصلاۃ علی النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ۲/ ۲۷، حدیث : ۴۸۴)

            حضرتِ سیِّدُنا علامہ عبد الرء ُوف مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں :  شفاعت اور مختلف بھلائیوں کا زیادہ حقدار وہ ہوگا جو دنیا میں دُرُود کی کثرت کرے گا کیونکہ دُرُود کی کثرت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے عقیدے میں پختگی، نیت اچھی اور محبت سچی ہے اور جس میں یہ ساری خصلتیں ہوں تو وہی قُرب کا زیادہ حقدار ہے۔

 (فیض القدیر، حرف الھمزۃ، ۲/ ۵۶۰، تحت الحدیث : ۲۲۴۹، ملخصا)

جبکہ  مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان   اِس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں :  قیامت میں سب سے (زیادہ) آرام میں وہ ہوگا جو حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ) کے ساتھ رہے اور حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  )  کی ہمراہی نصیب ہونے کا ذریعہ دُرود شریف کی کثرت ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ دُرود    شریف بہترین نیکی ہے کہ تمام نیکیوں سے جنت ملتی ہے اور اس سے بزمِ جنت کے دولہا صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم۔(مراٰۃ المناجیح ، ۲/  ۱۰۰)

اللّٰہ کی رَحمت سے تو جنَّت ہی ملے گی

اے کاش!  مَحَلَّے میں جگہ اُن کے ملی ہو                       (وسائلِ بخشش، ص۳۱۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                               صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(حکایت : 1)

دیدارکیسے ہوگا ؟

            حضرتِ سیِدناثوبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ    سرکارِمدینۂ منوّرہ، سردارِمکّۂ مکرّمہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ کمال درجے کی محبت رکھتے تھے۔ ایک روز اس قدر غمگین اور رنجیدہ حاضر ہوئے کہ چہرے کا رنگ بدلا ہوا تھا ، رسولِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دریافت فرمایا :  آج تمہارا رنگ کیوں بدلا ہوا ہے ؟عرض کی : نہ مجھے کوئی بیماری ہے اور نہ درد سوائے اس کے کہ جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سامنے نہیں ہوتے تو انتہا درجہ کی وحشت و پریشانی ہوجاتی ہے یہاں تک کہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاؤں، پھر جب آخر ت کو یاد کرتا ہوں تو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ وہاں میں کس طرح دیدار پاسکوں گا؟ آپ تو انبیاءِکرام کے ساتھ اعلیٰ ترین مقام میں ہوں گے اور  اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ   نے اپنے کرم سے مجھے جنت بھی دی تو اس مقامِ عالی تک رسائی کہاں؟ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی :

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىٕكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَۚ-وَ حَسُنَ اُولٰٓىٕكَ رَفِیْقًاؕ(۶۹) (پ۵، النساء : ۶۹)

ترجمہ کنزالایمان :  اور جو اللّٰہ  اور اس کے رسول کا حکم مانے تو اُسے ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللّٰہ نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیق اور شہیداور نیک لوگ یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں۔

(اور انہیں تسکین دی گئی کہ منزلوں میں فرق کے باوجود فرمانبرداروں کو باریابی اور معیت کی نعمت سے سرفراز فرمایا جائے گا۔ (خزائن العرفان، ص۱۷۴)

(تفسیر خازن ۱/ ۴۰۰ ، پ۵، النساء، زیرِ آیت ۶۹)

ہر وقت جہاں سے کہ انہیں دیکھ سکوں میں

   جنت میں مجھے ایسی جگہ پیارے خدا دے   (وسائلِ بخشش، ص۱۲۰)

 



Total Pages: 19

Go To