Book Name:Mendak Sawar Bicho

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

مینڈک سُوار بچّھو

 شیطٰن لاکھ سستی دلائے یہ رسالہ (29 صَفْحات) مکمَّل پڑھ لیجئے

اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ آفتوں پر صبر کی سوچ پروان چڑھے گی۔ 

دُرُود شریف کی فضیلت

دو جہاں کے سلطان ،   سَرورِ ذیشان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ مغفرت نشان ہے:   مجھ پر دُرُودِپاک پڑھنا  پُلْ صراط پر نور ہے،   جو روزِ جمعہ مجھ پر اَسّی بار دُرُودِپاک پڑھے اُس کے اَسی سال کے گناہ معاف ہوجائیں گے۔     (اَلْفِرْدَوْس بمأثور الْخِطاب ج۲ص۴۰۸ حدیث۳۸۱۴)

حضرتسیِّدُنا یوسُف بن حَسَن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں :  ایک مرتبہ میں حضرت سید نا ذُوالنُّون مصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِیکے ساتھ کسی تالاب کے کنارے حاضر تھا،   اچانک ہماری نظر ایک بَہُت بڑے بچھو پر پڑی،   اتنے میں ایک بڑا سامینڈک تالاب سے نکل پڑا!  بچھو اُس مینڈک پرسُوار ہوگیا! اب مینڈک تیرتا ہوا تالاب کے دو سرے کنارے کی طرف بڑھنے لگا ۔  یہ منظر دیکھ کر ہم تیزی سے تالاب کے اُس پارجا پہنچے،   کنارے پر پہنچ کرمینڈک نے بچھوکو اُتا ر دیا ،  بچھو تیزی سے ایک سمت چل دیا،  ہم بھی اس کے تعاقب میں (یعنی پیچھے پیچھے)  روانہ ہوئے،  کچھ دور جاکر ہم نے ایک لرزہ خیز منظر دیکھا ،   ایک نوجوان نشے کی حالت میں بے ہوش پڑا تھا،   اچانک ایک خوفناک سانپ کہیں سے آ نکلا اوراس نوجوان کے سینے پر چڑھ گیا اوراُس نے جوں ہی اُسے ڈسنا چاہا،   بچھو نے اُس پر حملہ کر دیا اور ایسا زہر یلا ڈنک ماراکہ خوفناک سانپ زہر کے اثر سے  تَلْمَلاتا ہوا (یعنی بے چین ہو کر)  نوجوان کے جسم سے دُور ہٹ گیااور تڑپ تڑپ کر مرگیا ،   بچھوتالاب کے کَنارے آ کر اُسی مینڈ ک پر سُوار ہو کر دوسرے کَنارے کی طر ف روانہ ہو گیا۔    وہ نوجوان ابھی تک نشے میں بے ہوش پڑا تھا۔    حضرتِ سیِّدُناذُوالنُّون مصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِینے اس کو ہلایا جلایاتو اس نے آنکھیں کھول دیں ،   آپ نے فرمایا:   اے نوجوان!  دیکھ خدائے رحمن عَزَّ وَجَلَّ نے کس طر ح تیری جان بچائی ہے!  اور مینڈک سُوار بچھو اور خوفناک سانپ کی انوکھی داستان سنائی اور مرا ہوا سانپ دکھایا۔ 

  نوجوان خوابِ غفلت سے جاگ اُٹھا،   توبہ کی اور اپنے پیارے پیارے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ کے دربارِ کرم بار میں عرض گزار ہوا:   ’’ اے خدائے رحمن عَزَّ وَجَلَّ! جب اپنے بندگانِ نافرمان کے ساتھ تیرے فضل و احسان کی یہ شان ہے،   تواپنے تابِعِ فرمان بندوں پر بارانِ رحمت کا کیا عالم ہو گا!  ‘‘ راوی فرماتے ہیں :    اس کے بعد وہ نوجوان ایک جانب چلدیا،  تو میں نے پوچھا:   ’’ کہا ں کا ارادہ ہے ؟  ‘‘  کہنے لگا اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ اب میں  (دنیاکی رنگینیوں سے دوررہتے ہوئے)   جنگلوں میں اپنے ربِّ رحمت عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کیا کرو ں گا۔    (عُیُونُ الْحِکایات ص ۱۰۲مُلَخَّصاً )  

اللہ کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  دیکھا آپ نے ! مینڈک سُوار بچھو نے کس طرح نشے میں دھت شرابی نوجوان کواللہ ربُّ العِزّت عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے خوفناک سانپ کی مصیبت سے بچایا!  یقیناربِّ رحمت عَزَّ وَجَلَّ کی حکمت کو سمجھنے سے ہم قاصِر ہیں ،   اُس کے ہر ہر کام میں حکمت ہوتی ہے،   کسی کو مصیبت میں مبتلا کرنا بھی حکمت تو کسی کو بے طلب مصیبت سے بچا لینا بھی حکمت ۔    بعض اوقات بندہ مصیبت میں پھنساہوتا ہے تو بارگاہِ خداوندی میں جھکتا اور اُس کی عبادت کی طرف رُخ کرتا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّجب  سر پر آ پہنچنے والی مصیبت سے حفاظت کر کے احسان فرماتا ہے تو بندۂ نافرمان تابِع فرمان ہو جاتا ہے،  جیسا کہ اِس حکایت  ’’ مینڈک سُوار بچھو‘‘ سے ظاہر ہوا۔ 

گناہوں کا ہے صُدور آہ!  ہر گھڑی یا رب!

کر عَفْو ہائے!  اَجَل سر پہ ہے کھڑی یا رب!

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



Total Pages: 12

Go To