Book Name:Qom e Loot Ki Tabahkariyan

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

قوم لوط کی تباہ کاریاں  [1]

شیطٰن لاکھ سُستی دلائے یہ بیان(45صفحات)آخر تک

پڑھ لیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّآپخوفِ آخِرت سے لرز اٹھیں   گے۔

 دُرُود شریف کی فضیلت

             اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ تَقَرُّب نشان ہے: بے شک بروزِ قِیامت لوگوں   میں   سے میرے قریب تر وہ ہو گا جو مجھ پر سب سے زیادہ دُرُود بھیجے۔ (تِرمِذی ج۲ ص۲۷ حدیث۴۸۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ابراہیم خلیلُ اللّٰہ کے بھتیجے

      حضرتِ سیِّدُنالوط عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامحضرتِ سیِّدُناابراہیمعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکے بھتیجے ہیں   ، آپعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سدوم کے نبی تھے۔ اور آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم  خَلِیْلُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکے ساتھ ہجرت کرکے مُلکِ شام میں   آئے تھے اور حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم  خَلِیْلُ اللّٰہعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی بَہُت خدمت کی تھی ۔ حضرتِ سیِّدُنا ابراہیمعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی دُعا سے آپ نبی بنائے گئے ۔                 (نورُالعرفان ص ۲۵۵)

دنیا میں   سب سے پہلے شیطان نے بد فعلی کروائی

               دنیا میں   سب سے پہلے بد فِعلی شیطان نے کروائی،وہ حضرتِ سیِّدُنا لُوطعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی قوم میں   اَمردِ حَسین یعنی خوبصورت لڑکے کی شکل میں   آیا اور ان لوگوں   کو اپنی جانب مائل کیا یہاں   تک کہ گندہ کام کروانے میں   کامیاب ہو گیا اور اِس کا اُن کو ایسا چَسکا لگا کہ اِس بُرے کام کے عادی ہو گئے اور نوبت یہاں   تک پہنچی کہ عورَتوں   کو چھوڑکر مَردوں   سے اپنی ’’خواہش ‘‘ پوری کرنے لگے۔ (ماخوذ از مُکاشَفَۃُ القلوب ص۷۶)

 سیِّدُنا لُوطعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے سمجھایا 

          حضرتِ سیِّدُنا لوطعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے ان لوگوں   کو اس فعلِ بد سے مَنع کرتے ہوئے جو بیان فرمایااِس کو پارہ 8 سُوْرَۃُ  الْاَعْرَافآیت نمبر 80 اور 81 میں   اِن اَلفاظ میں   ذِکر کیا گیا ہے:

اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ(۸۰)اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِؕ-بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ(۸۱)

ترجَمۂ کنزالایمان: کیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں   کسی نے نہ کی۔تم تو مَردوں   کے پاس شہوت سے جاتے ہو عورَتیں   چھوڑ کر، بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے۔

             حضرتِ سیِّدُنا لوطعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکے دنیا و آخِرت کی بھلائی پر مشتمل بیانِ عافیّت نشان کوسُن کر بے حیا قوم نے بجائے سرِتسلیم خم کرنے کے جو بے باکانہ جواب دیا اُسے پارہ 8 سُوْرَۃُ  الْاَعْرَافآیت 82میں   اِن لفظوں   کے ساتھ بیان کیاگیا ہے:

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْۚ-اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ(۸۲)

ترجَمۂ کنزالایمان: اور اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا مگریِہی کہنا کہ ان کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ تو پاکیزَگی چاہتے ہیں  ۔

قومِ لوط پر لرزہ خیز عذاب نازل ہو گیا

             جب قومِ لوط کی سرکشی اورخَصلتِ بدفعلی قابلِ ہدایت نہ رہی تو اللہ تَعَالٰی کا عذاب آگیا، چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامچند فرشتوں   کے ہمراہ اَمردِ حَسین یعنی خوبصورت لڑکوں   کی صورت میں   مِہمان بن کرحضرتِ سیِّدُنالوطعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکے پاس پہنچے ۔ ان مہمانوں   کے حُسن و جمال اور قوم کی بدکاری کی خصلت کے خیال سے حضرتِ سیِّدُنالوطعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنہایت مُشَوَّش یعنی فکرمند ہوئے۔ تھوڑی دیر بعد قوم کے بدفِعلوں   نے حضرتِ سیِّدُنالوطعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے مکانِ عالی شان کا مُحاصَرہ کرلیا اور ان مِہمانوں   کے ساتھ بدفِعلی کے بُرے ارادے سے دیوار پر چڑھنے لگے۔ حضرتِ سیِّدُنالوطعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے نہایت دل سوزی کے ساتھ ان لوگوں   کو سمجھایا مگر وہ اپنے بَد ارادے سے باز نہ آئے۔ آپعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکومُتَفَکِّرورنجیدہ دیکھ کر حضرتِ سیِّدُنا جِبریلعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے کہا:یا نبیَّ اللّٰہ ! آپ غمگین نہ ہوں  ، ہم فِرِشتے ہیں   اور ان بدکاروں   پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا عذاب لے کر اُترے ہیں  ،آپ مُؤمنین اور اپنے اَہل و عِیال کو ساتھ لے کر صُبح ہونے سے پہلے پہلے اِس بستی سے دُور نکل جایئے اور خبردار! کوئی شخص پیچھے مُڑ کر بستی کی طرف نہ دیکھے ورنہ وہ بھی اِس عذاب میں   گرفتار ہوجائے گا۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا لوطعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلاماپنے گھر والوں   اور مومنوں  کو ہمراہ لے کر بستی سے باہَر



[1]   یہ بیان امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے تبلیغِ قراٰن و سنت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ میں    (۲۹ذیقعدہ۱۴۳۲؁ھ/27-10-11) فرمایا تھا۔ترمیم و اضافے کے ساتھ تحریراً حاضرِ خدمت ہے۔     مجلسِ مکتبۃُ المدینہ



Total Pages: 12

Go To