Book Name:Qayamat ka Imtihan

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

قیامت کا امتحان)[1](

شیطٰن لاکھ سُستی دلائے یہ بیان(34صفحات) مکمَّل پڑھ لیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّآپ اپنے دل میں مَدَنی انقلاب برپاہوتاہوا محسوس فرمائیں گے۔

دُرُود شریف کی فضیلت

          شفیعُ الْمُذْ نِبِین رَحمَۃٌ لِّلْعٰلَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ دلنشین ہے :   ’’  جس نے صبح و شام مجھ پر دس دس باردُرُودِپاک پڑھابروزِقِیامت اُس کومیری شَفا عت نصیب ہوگی۔ ‘‘ ( مَجْمَعُ الزَّوائِد ج۱۰ ص۱۶۳ حدیث۱۷۰۲۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مَد َنی مُنّے کا خوف

      آدھی رات کو ایک چھوٹا بچّہ اچانک اُٹھ بیٹھا اور چیخ چیخ کر رونے لگا ۔ والد صاحب گھبرا کر بیدار ہوگئے اور بولے:  اے میرے لال !  کیا ہو گیا؟   بچہّ روتے ہوئے بولا : ’’ ابّا جان !  کل جُمعرات ہے لہٰذا استاد صاحِب پورے ہفتے کے اَسباق کا امتِحان لیں گے میں نے پڑھائی پر توجُّہ نہیں دی،  کل مجھے مار پڑے گی۔ ‘‘  یہ کہتے ہوئے بچّہ  ’’ ہائے ہُوں ، ہائے ہُوں ‘‘ کرنے لگا ۔اِس پر والِد صاحِب کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اپنے نفس کو مخاطَب کرکے کہنے لگے: اِس بچّے کو صرف ایک ہفتے کا حِساب دینا ہے اور استا د کو  چَکما(یعنی دھوکا) بھی دیا جا سکتا ہے اس کے باوُجُودیہ رورہا ہے اور مارے خوف کے اسے نیند نہیں آرہی اور آہ! آہ! آہ!  مجھے تو پُوری زندَگی کا حسا ب اُس واحدِ قھّارجَلَّ جلالُہٗ کو دینا ہے جسے کوئی چَکما (یعنی دھوکا) نہیں دے سکتا ،  مجھے قِیامت کا امتِحان درپیش ہے مگر میں غافِل ہوکر سورہا ہوں ، آخِرمجھے کوئی خوف کیوں نہیں آرہا! ۔( دُرَّۃ النّاصِحین ص۲۹۵بِتَغیُّر)

           میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اِس حکایت میں ہمارے لئے عبرت کے مُتَعَدَّد  مَدَنی پھول ہیں ، آپ بھی غور فرمائیے میں بھی سوچتا ہوں ۔ایک بچّہ ، اُس کی سوچ اور اس کے والِد کی مَدَنی سوچ دیکھئے! بچّہ مدرَسے کے  ’’ حساب ‘‘ کے خوف سے رورہا ہے اورباپ قِیامت کے حساب کی سختی کو یاد کرکے آبدیدہ ہے۔

کریم!  اپنے کرم کا صدقہ لئیمِ بے قَدر)[2](  کو نہ شرما

تُو اور گدا سے حساب لینا گدا بھی کوئی حِساب میں ہے

(یہ اعلیٰ حضرتکا مَقطع ہے،  دونوں جگہ رضاؔ کی جگہ سگِ مدینہ عفی عنہ نے اپنی نیَّت سے ’’    گدا ‘‘  کر دیا ہے)

ولیُّ اللہ کی دعوت کی حِکایت

           حضرتِ سَیِّدُنا حاتِمِ اَصَمّ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کو ایک مالدار شخص نے بَاِصرار دعوتِ طَعام دی ،  فرمایا:  میری یہ تین شَرطیں مانو توآ ؤنگا ، (۱) میں جہاں چاہوں گا  بیٹھوں گا (۲)جو چاہوں گا  کھاؤں گا  (۳)جو کہوں گا  وہ تمہیں کرنا پڑے گا ۔اُس مالدار نے وہ تینوں شرطیں منظور کرلیں ۔ ولیُّ اللّٰہکی زیارت کیلئے بَہُت سارے لوگ جَمْع ہوگئے۔وَقتِ مقرّرہ پر حضرتِ سَیِّدُنا حاتِمِ اَصَمّبھی تشریف لے آئے اور جہاں لوگوں کے جُوتے پڑے تھے وہاں بیٹھ گئے ۔ جب کھانا شُروع ہوا ، سَیِّدُنا حاتِمِ اَصَمّنے اپنی جھولی میں ہاتھ ڈال کرسُوکھی روٹینکال کر تناوُل فرمائی ۔جب سلسلۂ طَعام کا اختِتام ہوا ،  مَیزبان سے فرمایا:   ’’  چُولہا لاؤ اور اُس پر تَوَا رکھو، ‘‘ حکم کی تعمیل ہوئی، جب آگ کی تَپِش سے تَوا سُرخ انگا رہ بن گیا تو آپاُس پرننگے پاؤں کھڑے ہوگئے اور فرمایا:  



  [1]یہ بیان امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے باب المدینہ کراچی کے علاقے پیر کالو نی میں ہونے والے سنّتوں بھرے اِجتِماع  (اندازاً جمادی الاولی ۱۴۲۲ھ /  26-07-2001) میں فرمایا تھا۔ترمیم و اضافے کے ساتھ تحریراً حاضرِ خدمت ہے۔                  مجلسِ مکتبۃُ المدینہ

[2]  لئیمِ بے قدر یعنی نِکمّا کمینہ



Total Pages: 13

Go To