Book Name:Naik Bannay ka Nuskha

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

نیک بننے کا نسخہ)[1](

غالباً  شیطٰن  بیان کا یہ رسالہ (24صَفْحات) نہیں  پڑھنے دے گا مگر آپ پورا پڑھ کر شیطٰن کے وار کو ناکام بنادیجئے ۔

دُرُود شریف کی فضیلت

          ایک شخص نے خواب میں  ’’  خوفناک بلا ‘‘  دیکھی ، گھبرا کر پوچھا : تُوکون ہے؟ بلا نے جواب دیا: ’’  میں تیرے بُرے اعمال ہوں ۔ ‘‘ پوچھا: تجھ سے نَجات کی کیا صورت ہے؟ جواب ملا: دُرُود شریف کی کثرت ۔  ( اَلْقَولُ الْبَدِیع ص۲۵۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                 صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  اس حِکایت سے معلوم ہوا کہ دُرُود شریف کی کثرت بھی نیک بننے کا نُسخہ ہے۔اے کاش ! ہم اٹھتے بیٹھتے چلتے پھرتے ہر وقت دُرُود وسلام پڑھتے رہیں ۔

تُر بَت میں  ہوگی دید رسولِ اَنام  کی

عادت بنا رہا ہوں  دُرُود و سلام کی

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                 صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

قد آور سانپ

    حضرتِ سیِّدُنا مالک بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارسے کسی نے ان کی توبہ کا سبب پوچھا تو فرمایا : میں مَحکمۂ پولیس میں  سِپاہی تھا ، گناہوں  کا عادی اور پکّا شرابی تھا ۔ میری ایک ہی بچّی تھی اس سے مجھے بے حد پیار تھا۔ وہ دو سا ل کی عمر میں  فوت ہوگئی ، میں  غم سے نِڈھال ہوگیا ۔ اِسی سال جب شبِ برَائَ تْ آئی میں  نے نَمازِ عشا تک نہ پڑھی، خوب شراب پی اور نشے ہی میں مجھے نیند نے گھیر لیا۔ میں  خواب کی دنیا میں پَہُنچ گیا، کیا دیکھتا ہوں  کہ مَحشر برپا ہے ، مُردے اپنی اپنی قبروں  سے اُٹھ کرجَمْعْ ہو رہے ہیں  ، اِتنے میں  مجھے اپنے پیچھے سَر سَر ا ہٹ محسوس ہوئی ، مُڑکر جو دیکھا تو ایک قد آور سانپ منہ کھولے مجھ پر حملہ آور ہونے والا تھا!  میں  گھبرا کر بھاگ کھڑا ہوا، سانپ بھی میرے پیچھے پیچھے دوڑنے لگا، اِتنے میں  ایک نورانی چِہرے والے کمزوربُزُرْگ پر میری نظر پڑی، میں  نے ان سے فریاد کی،  ’’ اُنہوں  نے فرمایا: میں  بے حد کمزور ہوں  آپ کی مدد نہیں  کرسکتا ۔  ‘‘  میں  پھر تیزی کے ساتھ بھاگنے لگا، سانپ بھی برابر تَعاقُب میں  تھا، دوڑتے دوڑتے میں ایک ٹیلے پر چڑھ گیا،   ٹِیلے کے اُس طرف خو فناک آگ شُعلہ زَن تھی اور کافی لوگ اُس میں  جل رہے تھے ، میں  اُس میں  گرنے ہی والا تھا کہ آوازآئی: ’’ پیچھے ہٹ جاتُواس آگ کیلئے نہیں  ہے۔ ‘‘ میں  نے اپنے آپ کو سنبھالا دیا اور پلٹ کر دوڑنے لگا اور سانپ بھی پیچھے پیچھے تھا، وُہی کمزور بُزُرْگ مجھے پھر مل گئے اور رَو کر فرمانے لگے:  ’’  افسوس !  میں  بَہُت ہی کمزور ہوں  آپ کی مدد نہیں  کرسکتا، وہ دیکھئے سامنے جو گول پہاڑ ہے وہاں  مسلمانوں  کی  ’’ امانَتیں   ‘‘  ہیں ، وہاں  تشریف لے جائیے، اگرآپ کی بھی وہاں  کوئی امانت ہو ئی توَّ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ رِہائی کی کوئی صورت نکل



 [1] یہ بیان امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے تبلیغِ قرآن و سنت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک  دعوتِ اسلامی کے تین روزہ اجتماع (۲، ۳، ۴رجب المرجب ۱۴۱۹ ؁ ھ مدینۃ الاولیاء ملتان)میں فرمایا۔ ضروری ترمیم کے ساتھ تحریرًا حاضر خدمت ہے ۔        ۔مجلسِ مکتبۃُ المدینہ



Total Pages: 12

Go To