Book Name:Aarabi kay Sawalat aur Arabi Aaqa kay jawabat

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

                                                    حکایت نمبر : 1  

بادْشاہ تَنْدرُسْت ہو گیا

        بادْشاہ ہارون رشید ایک مرتبہ بیمار ہوگیا ، بَہُت عِلاج کروایا مگر شِفا نہ مل سکی ، اسی حالت میں  چھ مہینے گزرگ ئے ۔ایک دن اسے پتا چلا کہ حضرت سَیِّدُنا شیخ شِبلی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  اس کے محل کے دروازے کے سامنے سے گزر رہے ہیں ، بادْشاہ نے اپنے پاس تشریف لانے کی درخواست کی ۔ جب حضرت سَیِّدُنا شَیْخ  شِبْلِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی تشریف لا ئے  تو اسے دیکھ کر فرمایا : ’’ فِکْر  نہ کرو! اللّٰہ   عَزَّوَجَلَّ   کی  رَحمت سے آج ہی آرام آجا ئے  گا۔‘‘پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ       نے دُرُود پاک پڑھ کر بادْشاہ کے جِسْم پر ہاتھ پھیرا تو وہ اسی وَقْت تندرست ہوگیا۔(راحت القلوب( فارسیص۵۰)

ہر دَرد کی دوا ہے صلِّ عَلٰی مُحَمَّد

تَعْوِیذِ ہر بَلا ہے صلِّ عَلٰی مُحَمَّد

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !   صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حکایت نمبر :۲

اَعرابی کے سوالات اور عَرَبی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے جوابات

        حضرتِ سیِّدُنا جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی لکھتے ہیں  :  حضرتِ سیدنا ابوالعباس مُسْتَغْفِرِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  طلبِ عِلْم کے  لئے مِصْر  گئے، وہاں  پرانہوں  نے حدیث  کے بہت بڑے عالم حضرت سیدنا ابوحامد مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  سے حدیث  خالد بن ولید(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  )سنانے کی درخواست کی تو انہوں  نے مجھے ایک سال کے روزے رکھنے کا حکم فرمایا۔ اُن کے اِس حکم پر عمل کے بعد حضرتِ سیدنا ابوالعباس مُسْتَغْفِرِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  دوبارہ حاضرِ خدمت ہو ئے  تو حضرت سیدنا ابوحامد مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  نے اپنی سند سے حدیث  خالد بن ولید(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ) سنا ئی  ۔چنانچہ حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک اَعرابی (یعنی عرب شریف کے دیہاتی) نے بارگاہِ رسالت مآب میں  حاضر ی دی اور عرض کی : دنیا وآخرت کے بارے میں  کچھ پوچھنا چاہتا ہوں  تورسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا : پوچھو! جو پوچھنا چاہتے ہو۔

آنے والے نے عرض کی : میں سب سے بڑا عالم بننا چاہتا ہوں  ۔

مدنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشادفرمایا : اللّٰہ سے ڈرو، سب سے بڑے عالم بن جا ؤگے ۔

عرض کی :  میں  سب سے زیادہ غنی بننا چاہتا ہوں  ۔

 ارشادفرمایا : قناعت اِختیار کرو، غنی ہوجاؤ گے۔

عرض کی :  میں  لوگوں  میں  سب سے بہتر بننا چاہتا ہوں  ۔

 ارشادفرمایا : لوگوں میں  سب سے بہتر وہ ہے جو دوسروں  کو نفع پہنچاتا ہو ، تم لوگوں  کی لئے نفع بخش بن جا ؤ ۔     

عرض کی :  میں  چاہتا ہوں  کہ سب سے زیادہ عدل کرنے والا بن جاؤں  ۔

 ارشادفرمایا : جو اپنے لیے پسند کرتے ہو وہی دوسروں  کی لئے بھی پسند کرو، سب سے زیادہ عادِل بن جا ؤگے۔

عرض کی :  میں  بار گاہِ الٰہی میں  خاص مقام حاصل کرنا چاہتا ہوں ۔

 ارشادفرمایا : ذکرُ اللّٰہ کی کثرت کرو، اللّٰہ  تَعَالٰی  کے خاص بندے بن جا ؤگے ۔

عرض کی :  اچھا اور نیک بننا چاہتا ہوں  ۔

 ارشادفرمایا : اللّٰہ  تَعَالٰی  کی عبادت یوں  کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہواور اگر تم اسے نہیں  دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں  دیکھ ہی رہا ہے۔

عرض کی :  میں  کامِل ایمان والا بننا چاہتا ہوں  ۔

 ارشادفرمایا : اپنے اخلاق اچھے کر لو، کامل ایمان والے بن جا ؤگے۔

عرض کی :  (اللّٰہ  تَعَالٰی  کا) فرمانبردار بننا چاہتا ہوں ۔

 ارشادفرمایا : اللّٰہ  تَعَالٰی  کے فرا ئض  کا اہتمام کرو، اس کے مُطِیع( وفرمانبردار) بن جا ؤگے۔

عرض کی :  (روزقیامت) گناہوں  سے پاک ہوکر اللّٰہ  تَعَالٰی  سے ملنا چاہتا ہوں ۔

 ارشادفرمایا :  غسلِ جنابت خوب اچھی طرح کیا کرو، اللّٰہ  تَعَالٰی  سے اس حال میں  ملو گے کہ تم پر کو ئی  گناہ نہ ہوگا۔     

عرض کی :  میں چاہتا ہوں  کہ روزِ قیامت میرا حشر نورمیں  ہو۔

 



Total Pages: 32

Go To