Book Name:Bemar Abid

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

شیطٰن لاکھ سستی دلائے یہ رسالہ  (48 صَفْحات)  مکمَّل پڑھ لیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ بیماریبرداشت کرنے کا جذبہ دوبالا ہو گا۔  

  دُرُود شریف کی فضیلت

          سرکارِمدینہ،   راحتِ قلب وسینہ،  صاحبِ معطَّرپسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ باقرینہ ہے:    ’’اے لوگو!  بے شک بروزِ قِیامت اسکی دَہشتوں اورحساب کتاب سے جلد نجات پانے والا شخص وہ ہوگا جس نے تم میں سے مجھ پر دنیا کے اندر بکثرت دُرود شریف پڑھے ہوں گے۔    ‘‘  (اَلْفِرْدَوْس بمأثور الْخِطاب ج۵ص۲۷۷ حدیث۸۱۷۵)           

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بیمار عابد

        حضرتِ سیِّدُنا وَہْب بن مُنَبِّہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے منقول ہے:   دوعابِد یعنی عبادت گزار پچاس سال تکاللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرتے رہے ، پچا سویں سال کے آخِر میں ان میں سے ایک عابد سخت بیمار ہو گئے، وہ بارگاہِ ربِّ باری عَزَّ وَجَلَّ میں آہ وزاری کرتے ہوئےاس طرح مُلْتَجِی ہوئے (یعنی التجا کرنے لگے) :  ’’ اے میرے پاک پروردگار عَزَّ وَجَلَّ!  میں نے اتنے سال مسلسل تیرا حکم مانا،  تیری عبادت بجا لایا پھر بھی مجھے بیماری میں مبتلا کردیا گیا،  اس میں کیا حکمت ہے ؟  میرے مولیٰ عَزَّ وَجَلَّ!  میں توآزمائش میں ڈال دیا گیا ہوں ۔    ‘‘ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرشتوں کو حکم فرمایا: ان سے کہو،  ’’تم نے ہماری ہی امداد واحسان اور عطا کردہ توفیق سے ہماری عبادت کی سعادت پائی،  باقی رہی بیماری! تو ہم نے تم کو اَبرار کا رُتبہ دینے کے لئے بیمار کیا ہے۔    تم سے پہلے کے لوگ تو بیماری ومصیبتوں کے خواہش مندہوا کرتے تھے اورہم نے تمہیں بِن مانگے عطا فرمادی ۔    ‘‘ ( عُیُون الْحِکایات حصّہ ۲ ص۳۱۲ بتصرّف )

بیماری بہت بڑی نعمت ہے

          صَدرُالشَّریعہ، بَدرُالطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : بیماری بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے ، اس کے مَنافِع بے شمار ہیں ،  اگرچِہ آدمی کو بظاہر اس سے تکلیف پہنچتی ہے مگر حقیقۃً راحت و آرام کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہاتھ آتا ہے۔    یہ ظاہری بیماری جس کو آدمی بیماری سمجھتا ہے،  حقیقت میں روحانی بیماریوں کا ایک بڑا زبردست علاج ہے۔   حقیقی بیماری اَمراضِ رُوحانیہ  (مَثَلاً  دُنیا کی مَحَبَّت ،  دولت کی حرص ، بُخل ،  دل کی سختی وغیرہ) ہیں کہ یہ البتّہ بہت خوف کی چیز ہے اور اِسی کو مرضِ مُہلک  (مُہ۔   لِک۔    یعنی ہلاک کرنے والی بیماری)  سمجھنا چاہئے۔    (بہارِ شریعت ج ۱ص ۷۹۹)

یہ ترا جسم جو بیمار ہے تشویش نہ کر    یہ مَرَض تیرے گناہوں کو مِٹا جاتا ہے

اصل بربادکن امراض گناہوں کے ہیں         بھائی کیوں اِس کو فراموش کیا جاتا ہے (وسائلِ بخشش (مُرَمَّم)  ص۴۳۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

بیماری میں مومن اور منافق کا فرق

رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے بیماریوں کا ذِکرکرتے ہوئے فرمایا : مومِن  جب بیمار ہو پھر اچھا ہو جائے،  اس کی بیماری سابقہگناہوں سے کفّارہ ہو جاتی ہے اور آیِندہ کے لیے نصیحت اورمنافِق جب بیمار ہوا پھر اچھا ہوا،  اس کی مثال اونٹ کی ہے کہ مالک نے اسے باندھا پھر کھول دیا تو نہ اسے یہ معلوم کہ کیوں باندھا،  نہ یہ کہ کیوں کھولا!      ( ابوداوٗد ج۳ص۲۴۵ حدیث ۳۰۸۹ ملخّصًا)

 حدیثِ پاک کی شرح:

 



Total Pages: 20

Go To