Book Name:Main Sudharna Chahta hon

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

میں سُدھرنا چاہتا ہوں  ([1])

شیطان لاکھ سُستی دلائے یہ رسالہ مکمَّل پڑھ لیجئے ان شاءَ اﷲ عَزَّوَجَلَّ آپ اپنے دل میں مَدَنی اِنقِلاب برپا ہوتا محسوس فرمائیں گے ۔   

نفاق و نار سے نَجات

        حضرتِ سَیِّدُنا امام سخاوِی رَحْمَۃُ اللہ تعالٰی عَلَیْہ نَقل فرماتے ہیں  :  سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے ارشاد فرمایا :   ’’جس نے مجھ پر ایک باردُرُودِپاک بھیجا اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اُس پر دس رَحمتیں نازِل فرماتا ہے اور جو مجھ پر دس بار دُرُودِ پاک بھیجے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ  اُس پر سو رَحمتیں نازِل فرماتا ہے اور جو مجھ پر سو بار دُرُودِ پاک بھیجے اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اُس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھ دیتا ہے کہ یہ بندہ نِفاق اور دوزخ کی آگ سے بَری ہے اور قِیامَت کے دن اُس کوشہیدوں کیساتھ رکھے گا ۔ ‘‘(اَلْقَوْلُ الْبَدِیع ص ۲۳۳ مؤسسۃ الریان بیروت )

ہے سب دعاؤں سے بڑھ کر  دعا دُرُود و سلام

کہ دَفع کر تا ہے ہر اِک بلا دُرُود و سلام

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                صَلَّی اللہ تعالٰی عَلٰی مُحَمَّد

جنّت چا ہئے یا دوزخ؟

         امام ابو نُعَیم احمد بن عبداللہ اَصفہانی  قُدِّسَ سرُّہُ النُّورانی ( مُتَوَفّٰی 430 ھجری )  ’’حِلْیَۃُ الاْولیاء‘‘ میں نقل کر تے ہیں  : حضرتِ سیِّدُنا اِبراہیم  تَیمِیرَحْمَۃُ اللہ تعالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں  :  ایک مرتبہ میں نے یہ تَصَوُّر باندھا کہ میں جھنَّممیں ہوں اور آگ کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ، تُھوہَر(یعنی زہریلاکانٹے دار دَرَخت) کھا رہا ہوں اور دَوزَخیوں کا پِیپ پی رہا ہوں ۔ اِن تَصَوُّرات کے بعد میں نے اپنے نَفس سے اِستِفسار کیا :  بتا، تجھے کیا چاہیے ؟ (جہنَّم کا عذاب یا اس سے نجات ؟)نفس بولا : (نجات چاہئے اِسی لئے ) ’’ میں چاہتا ہوں کہ دنیا میں واپَس چلا جاؤں اور ایسے عمل کر وں  جس کی وجہ سے مجھے اِس دوزخ سے نَجات مل جائے ۔ ‘‘ اِس کے بعد میں نے یہ خیال جمایا کہ میں جنَّت میں ہوں ، وہاں کے پھل کھا رہا ہوں ، اسکی نہروں سے مَشْروب پی رہا ہوں اور حوروں سے ملاقات کر  رہا ہوں ۔ اِن تَصَوُّرات کے بعد میں نے اپنے نَفس سے پوچھا  : تجھے کس چیزکی خواہِش ہے ؟(جنَّت کی یا دوزخ کی ؟ ) نَفس نے کہا : (جنَّت کی اِسی لئے )میں چاہتاہوں کہ ’’دنیامیں جا کر  نیک عمل کر  کے آؤں تاکہجنَّت کی خوب نعمتیں پاؤں ‘‘ تب میں نے اپنے نَفس سے کہا :  فی الحال تجھے مُہلَت(مُہ ۔ لَت) ملی ہوئی ہے  ۔ ( یعنی اے نفس! اب تجھے خود ہی راہ  مُتَعَیَّن کر نی ہے کہ سُدھر کر  جنّت میں جانا ہے یا بگڑ کر  دوزخ میں !اب تو اسی حساب سے عمل کر ) (حِلْیَۃُ الْاَوْلیاء، ج۴، ص۲۳۵ رقم ۵۳۶۱دار الکتب العلمیۃ بیروت)

کچھ نیکیاں کما لے جلد آخِرت بنا لے

کوئی نہیں بھروسہ اے بھائی! زندگی کا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                صَلَّی اللہ تعالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



[1]      یہ بیان امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے تبلیغِ قراٰن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی  مرکز فیضانِ مدینہ (باب المدینہ) کراچی میں ہونے والے 27ویں  رَمضان المبارک(۱۴۲۳ھ)کے سنتوں بھرے اِجتِماع میں فرمایا ۔ ضَروری ترمیم کے ساتھ تحریراً حاضرِ خدمت ہے ۔        مجلسِ مکتبۃُ



Total Pages: 13

Go To