Book Name:Jawani Kaisay Guzarain

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط                                    

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط                                                 

جَوانی کیسے گزاریں ؟

(شیطان لاکھ سُستی دلائے یہ رِسالہ مُکَمّل پڑھ لیجئے۔ اِنْ شَآءَ اﷲعَزَّوَجَلَّاَجْر وثَواب کی دولت  پانے کے ساتھ ساتھ جَوانی کی عبادت اور  اِس کی قدْر و اَہَمِّیَّت جاننے کا موقَع ملے گا۔)

دُرُود شریف کی فضیلت

        شَہَنْشاہِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ، صاحِبِ مُعطّر پسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم کا فرمانِ عافِیّت نشان ہے : ’’اے لوگو!بے شک تم میں سے بروزِ قِیامت اُس کی دَہشتوں اور حِساب کِتاب سے جلد نجات پانے والا وہ شخص ہوگا، جس نے دُنیا میں مجھ پر کثرت سے دُرُود پڑھا ہو گا۔‘‘(جَمْعُ الجَوَامِع، ۹/ ۱۲۹، حدیث : ۲۷۶۸۶مختصراً)

حشْر  کی  تِیرَگیسِیاہی میں             نُور ہے، شمْعِ پُرضِیا ہے دُرُود

چھوڑیو مت دُرُود کو کافیؔ               راہِ جنّت کا رَہنُما ہے دُرُود

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!     صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

جَوانی کی تلاش

          حِکایَت بَیان کی جاتی ہے کہ ایک بوڑھا شخص کہیں سے گزَر رہا تھا، بڑھاپے کی وجہ سے اُس کی کمَراس قدر جھکی ہوئی تھی کہ چلتے ہوئے یوں لگتا تھا کہ یہ بوڑھا شخص زمین سے کچھ    تلاش کر رہا ہے۔ ایک نوجَوان کو مسخَری سوجھی اور کہنے لگا : بڑے میاں ! کیا تَلاش کررہے ہو؟  بات اگرچہ غصہ دلانے والی تھی مگر اُس بُوڑھے نے صبْر وبرداشت اورسمجھ د اری کا کمال مُظاہَرہ کیا اور طنْزکے اِس زہریلے کانٹے کے جواب میں فکْر اَنگیز مدَنی پھول پیش کرتے ہوئے فرمایا : ’’بیٹا! میں اپنی جَوانی تَلاش کررہا ہوں۔‘‘ تِیکھے جملے کا یہ خِلافِ توقُّع حیران کُن جواب سُن کر وہ نوجَوان چونکااور کہنے لگا :  بابا جی! آپ کی بات سمجھ نہیں آئی، کیا جوانی بھی کبھی ڈھونڈی جا سکتی ہے؟ اور کیا یہ ایک دفعہ گُم ہوکر پھر کبھی کسی کو ملی ہے؟ فرمایا :  بیٹا! یہی تَو اَفسوس ہے کہ جب جَوانی کی نِعمت میرے پاس تھی اُس وقْت اِس کی پاسداری نہ کرسکا اور آج جب میں اِس سے ہاتھ دھو بیٹھا تب اِس کی اَہَمِّیَّت(اَہَمْ-مِیْ-یَت)کا اِحساس ہوا۔کاش! مجھے جوانی کازمانہ  ایک بارپھر مل جاتا تَو ماضی میں ہونے والی غلَطیوں اور کوتاہیوں کی تَلافی کرتا اور خوب دل لگا کراللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرتا۔

اَ لَا لَیْتَ الشَّبَابَ یَعُوْدُ یَوْمًا

فَاُخْبِرُہُ بِمَا فَعَلَ الْمَشِیْبُ

یعنی ہائے کاش! میری جَوانی کبھی پلٹ کرآتی، تو میں اُس کو بتاتا کہ بڑھاپے نے میرے ساتھ کیا سُلوک کیا۔     پھر ایک آہِ سرد دلِ پُر درْد سے کھینچی اورکہا :  افسوس صد افسوس! میں اپنی جوانی کی دولت  لُٹا بیٹھا، لیکن!  ’’ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چُگ گئیں کھیت ۔‘‘میں نے جَوانی کی ناقدْری کی ، اُس وقْت نیکی کی نہ آخِرت کی کوئی تیاری کی اور یونہی میری جَوانی غفلت کے بستر پر سوتے گزر گئی۔

دن بھر کھیلوں میں خاک اُڑائی            لاج آئی نہ ذرّوں کی ہنسی سے

     شب بھر سونے ہی سے غرَض تھی            تاروں نے ہزار دانت پیسے  (حدائقِ بخشِش)

 



Total Pages: 19

Go To