Book Name:Badshahon ki Haddiyan

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

بادشاہو ں کی ہڈیاں [1]

شیطٰن لاکھ سُستی دلائے (24صَفحات) کا یہ رسالہ  مکمَّل پڑھ لیجئے

اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ آپ اپنے دل میں مَدَنی انقلاب برپاہوتامحسوس فرمائیں گے ۔

   شفاعت کی بشارت

        رَحمت عالم ، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ شفاعت نشان ہے  : جو مجھ پر روزِ جمعہ دُرُود شریف پڑھے گا میں قیامت کے دن اُس کی شفاعت کروں گا ۔   (جَمْعُ الْجَوامِع لِلسُّیُوطی ج۷ ص۱۹۹حدیث ۲۲۳۵۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

     منقول ہے کہ ایک بادشاہ شکار کیلئے نکلا مگر جنگل میں اپنے مصاحبوں سے بچھڑ گیا ۔  اُس نے ایک کمزور اور غمگین نوجوان کو دیکھا جو انسانی ہڈیوں کو اُلٹ پلَٹ رہا ہے ، پوچھا :  تمہاری یہ حالت کیسے ہو گئی ہے ؟ اور اس سنسان بیابان میں اکیلے کیا کر رہے ہو؟ اُس نے جواب دیا :

 

میرا یہ حال اِس وجہ سے ہے کہ مجھے طویل سفردر پیش ہے ۔  دو مُوَکَّل( دن اور رات کی صورت میں ) میرے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور مجھے خوف زدہ کر کے آگے کو دوڑا رہے ہیں ۔ یعنی جو بھی دن اور رات گزرتے ہیں وہ مجھے موت سے قریب کرتے چلے جا رہے ہیں ، میرے سامنے تنگ و تاریک تکلیفوں بھری قَبْرہے ، آہ ! گلنے سڑنے کیلئے عنقریب مجھے زیرزمین رکھ دیا جائے گا ، ہائے !ہائے !وہاں تنگی و پریشانی ہوگی، وہاں مجھے کیڑوں کی خوراک بننا ہوگا، میری ہڈیا ں جدا جدا ہو جائیں گی اور اسی پر اِکتفا نہیں بلکہ اسکے بعدقیامت برپا ہوگی جو کہ نہایت ہی کَٹھِن مرحلہ ہوگا ۔ معلوم نہیں بعد ازاں میرا جنّت ٹھکانہ ہوگا یا مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ جہنَّم میں جانا ہوگا ۔ تم ہی بتاؤ، جو اتنے خطرناک مراحل سے دوچار ہو وہ بھلا کیسے خوشی منائے ؟ یہ باتیں سن کر بادشاہ رنج و ملال سے بے حال ہو کر گھوڑے سے اُترا اور اس کے سامنے بیٹھ کر عرض گزار ہوا  :  اے نوجوان!آپ کی باتوں نے میرا سارا چین چھین لیا اور دل کو اپنی گرفت میں لے لیا ، ذرا ان باتوں کی مزید وَضاحت فرما دیجئے !تو اُس نے کہا : یہ میرے سامنے جو ہڈیاں جمع ہیں انہیں دیکھ رہے ہو ! یہ ایسے باد شاہوں کی ہڈ یاں ہیں جنہیں دنیا نے اپنی زینت میں اُلْجھا کر فریب میں مبتلا کر دیا تھا، یہ خودتو لوگوں پر حکومت کرتے رہے مگر غفلت نے ان کے دلوں پرحکمرانی کی ، یہ لوگ آخرت سے غافل رہے یہاں تک کہ انہیں اچانک موت آگئی! ان کی تمام آرزوئیں دھر ی کی دھری رہ گئیں ، نعمتیں سلب کر لی گئیں ، قبروں میں ان کے جسم گل سڑ گئے اور آج انتہائی کَسْمپُرسیکے عالم میں انکی ہڈیاں بکھری پڑی ہیں ۔ عنقریب انکی ہڈیو ں کو پھر زندگی ملے گی اور ان کے جسم مکمَّل ہو جائیں گے ، پھر انہیں انکے اعمال کا بدلہ ملے گا، اور یہ نعمتوں والے گھر جنت یا عذاب والے گھر دوزخ میں جائیں گے ۔  اِتنا کہنے کے بعد وہ نوجوان بادشاہ  کی آنکھوں سے اَوجھل ہو کر معلوم نہیں کہاں چلا گیا! اِدھر خُدّام جب ڈھونڈتے ہوئے پہنچے تو بادشاہ کا چہرہ اُداس اور اس کی آنکھوں سے سیلِ اَشک رَواں تھا ۔ رات آئی تو بادشاہ نے لباسِ شاہی اتارا اور دو چادَریں جسم پر ڈال کر عبادت کیلئے جنگل کی طرف نکل گیا ۔  پھر اسکا پتا نہ چلا کہ کہاں گیا ۔ ( روضُ الرِّیاحِین ص ۲۰۰) اللّٰہُ ربُّ العزّت عَزَّوَجَلَّ کی ان سب پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو ۔

     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حکایت میں سفرآخرت کی طوالت اور اس میں پیش آنے والی حالت کا کس قدر رقت انگیز بیان ہے ۔  پراَسرار مبلغ نے بادشاہوں کی ہڈیاں سامنے رکھ کر قَبْر و حشر کی جو منظر کشی کی وہ واقعی عبرت ناک ہے ۔  قبرو حشر کا معاملہ نہایت ہولناک ہے مگر اِس سے قبل موت کا مرحلہ بھی انتہائی کَرْ بناکہے  ۔ اِس میں نزع کی سختیوں ، مَلَکُ الْموت عَلَیْہِ السَّلَام کو دیکھنے اوربرے خاتمے کے خوف جیسے انتہائی ہوش رُبا معاملات ہیں ۔ چنانچہ

کانٹے دار شاخ

     امیرُ المؤمنینحضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے تابِعی بزرگ حضرتِ سیِّدُنا کعبُ الْاَحْبار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار سے فرمایا : اے کعب(رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ )!ہمیں موت کے بارے میں بتاؤ! حضرتِ سیِّدُنا کعبُ الْاَحْبار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار نے عرض کی :    موت اُس ٹہنی کی مانند ہے جس میں کثیر کانٹے ہوں اور اُسے کسی شخص کے پیٹ میں داخل کیا جائے اور جب ہر کانٹا ایک ایک رگ میں پیوست ہو جائے پھر کوئی کھینچنے والا اُس شاخ کوزور سے کھینچے تو وہ( کانٹے دار ٹہنی)کچھ( گوشت کے ریشے وغیرہ)ساتھ لے آئے اور کچھ باقی چھوڑ دے ۔ (مصنّف ابن ابی شیبۃ ج ۸ ص ۳۱۲ حدیث ۱۲۲ )

     تلوار کی ہزار ضربیں

          حضرتِ علیُّ الْمرْتَضٰی، شیر خدا  کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم جہاد کی ترغیب دلاتے اور فرماتے ، اگر تم شہید نہیں ہوگے تو مرجاؤگے ! اُس ذات کی قسم !جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ، تلوار کی ہزارضربیں بھی میرے نزدیک بستر پر مرنے سے آسان ہیں ۔  (اِحیاء العلوم ج۵ص۲۰۹)

            خوفناک صورت

      ایک روایت میں ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا ابراھیم خلیلُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے  مَلَکُ الْموت عَلَیْہِ السَّلَام سے فرمایا : کیاتم مجھے وہ صورت دکھا سکتے ہو!جس سے کسی گناہ گار کی روح



[1]    یہ بیان امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے تبلیغِ قراٰن و سنت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کی تین روزہ سنّتوں بھرے اِجتِماع (باب الاسلام سندھ)  ۱، ۲، ۳ صفر المظّفر۱۴۲۴؁ھبروز اتوار (3 200ء صحرائے مدینہ باب المدینہ کراچی)میں فرمایا تھا ۔  کافی ترمیم و اضافے کے ساتھ تحریراً حاضرِ خدمت ہے ۔ مجلسِ مکتبۃُ المدینہ



Total Pages: 8

Go To