Book Name:Gustakhan e Rasol ka Aamli Boycott Kijiye

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنط

اَمَّا بَعْدُ!   فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم  ط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمط

گُستاخان رسول کا عملی بائیکاٹ کیجئے    )[1]    (

دُرود شریف کی فضیلت

دو جہاں کے تاجْوَر،    سلطانِ بَحروبَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:    بندہ جب تک مجھ پر دُرود پڑھتا رہتا ہے،   ملائکہ اُس پر رحمت نازل کرتے رہتے ہیں اب بندے کی مرضی ہے کہ وہ دُرود پاک کم پڑھے یا زیادہ ۔  ([2])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!          صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ابولہب کی گستاخی

جب سرزمینِ عرب پر آفتابِ نبوّت طُلُوع ہوا تو اس کی نورانیّت سے  سےکفر کی تاریکیاں چھٹنے  لگیں ،    لوگ آہستہ آہستہ معبودانِ باطلہ کو چھوڑ کر حلقہ بگوشِ اسلام ہونے لگےاور شِرک سے بیزار ہو کر اللہ واحد ویکتا کی عبادت  کرنے لگے لیکن ابھی تک اِعلانیہ دعوتِ اسلام کا آغاز نہیں ہوا تھا ۔  اسی دوران اللہربُّ العزّت جَلَّ جَلَالُہٗ کا حکم ہوا کہ اے محبوب!   آپ اپنے قریبی خاندان والوں کو ڈرائیے تو رسولِ اکرم ،   نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نےتمام قریش کو جمع کرکے انہیں دعوتِ اسلام پیش کی  چنانچہ حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ جب یہ آیتِ مبارکہ نازل ہوئی :     

وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ(۲۱۴)  (پ۱۹،    الشعرآء:   ۲۱۴)

ترجَمۂ کنز الایمان:   اور اے محبوب اپنے قریب تر رشتہ داروں کو ڈراؤ۔  

تو پیارے آقا،   مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے کوہِ صفا پر چڑھ کر قریش کی شاخوں کو پکارنا شروع کیا:   اے بنی فہر!   اے بنی عدی !   یہاں تک کہ لوگ جمع ہوگئے اور جو نہ آسکا اس نے اپنا نمائندہ بھیجا کہ جاکر دیکھے آخر بات کیا ہے۔ جب ابو لہب سمیت قریش کے دیگر لوگ آچکے تو  مبلغِ اعظم،    رسولِ اکرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا:   اگر میں یہ کہوں کہ وادی کے اس طرف ایک لشکرِ جرّار ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو  کیا تم لوگ  مجھے سچا مانو گے ؟  سب نے کہا :   جی ہاں !  ہم آپ کی تصدیق کریں گے کیونکہ ہم نے تو ہمیشہ آپ کو سچ بولتے ہی سُنا ہے ۔   فرمایا:   تو پھر میں تمہیں قیامت کے سخت عذاب سے ڈراتا ہوں جو سب کے سامنے ہے۔ اس پر (مَعَاذَ اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ) ابولہب بکواس کرنے لگا:    تم  ہمیشہ کے لئے تباہ ہو جاؤ کیا ہمیں اسی لئے جمع کیا تھا؟  تو اس وقت یہ آیات  نازل ہوئیں:   

تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ(۱) مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَؕ(۲)  (پ۳۰،    اللھب:   ۱۔ ۲)

 ترجَمۂ کنز الایمان:   تباہ ہوجائیں ابولہب کے دونوں ہاتھ اور وہ تباہ ہو ہی گیا اسے کچھ کام نہ آیا اس کا مال اور نہ جو کمایا۔  ([3])

مُفَسِّرِ شَہِیر،    حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان  نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  نور العرفان میں مذکورہ بالا آیات کے تحت فرماتے ہیں :   اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:   

 



[1]   مبلغِ دعوتِ اسلامی و نگرانِ مرکزی مجلسِ شورٰی حضرت مولانا حاجی ابو حامد محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ الْعَالِی نے یہ بیان ۷ جمادی الثانی۱۴۳۱ ہجری بمطابق 20 مئی 2010 عیسوی بروز جمعرات عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں فرمایا۔  ۱۴۲۸ ہجری بمطابق 2007 عیسوی کو بنگلہ دیش مورو میں کیا گیا ایک اور بیان گستاخوں کا انجام اسی میں ضمّ   کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد۶ذوالحجۃ الحرام ۱۴۳۵ ہجری بمطابق 2 اکتوبر2014 عیسوی کو تحریری صورت میں پیش کیا جارہا ہے ۔   (شعبہ رسائلِ دعوتِ اسلامی مجلس المدینۃ العلمیۃ)

[2]    مسند امام احمد ، حدیث عا مر بن ربیعة،  ۵   /    ۳۲۴ ،حدیث:۱۵۶۸۰

[3]    بخاری ،  کتاب التفسیر، باب ولا تخزنی یوم یبعثون، ۳    /   ۲۹۴، حدیث:۴۷۷۰



Total Pages: 19

Go To