Book Name:Jhoota Chor

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

جھوٹا چور

درود شریف کی فضیلت

         حضرت عبدُ اللہبن سلامرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اپنے بھائی حضرت عثمانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے ملاقات کرنے گئے تو وہ بہت خوش دکھائی دئیے اور کہنے لگے: میں  نے آج رات خواب میںسرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکادیدارکیا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھے ایک ڈول  (یعنی برتن)  عطا فرمایا جس میں  پانی تھا،  میں  نے پیٹ بھر کر پیا جس کی ٹھنڈک ابھی تک محسوس کررہا ہوں۔ انہوں نے پوچھا: آپ کو یہ مقام کیسے حاصل ہوا؟ جواب دیا: نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر کثرت سے دُرُودِ پاک پڑھنے کی وجہ سے۔       (سَعادَۃُ الدَّارَیْن ص۱۴۹)

دیدار کی بھیک کب بٹے گی؟

منگتا ہے اُمّید وار آقا

 (ذوقِ نعت)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

[1] جھوٹا چور

ایک شخص نے اپنے چچا کے بیٹے  (Cousin)  کا مال چرالیا،  مالک نے چور کو حرمِ پاک میں  پکڑ لیا اور کہا :یہ میرا مال ہے ، چور نے کہا :تم جھوٹ بولتے ہو ، اُس شخص نے کہا: ایسی بات ہے تو قسم کھاکر دکھاؤ! یہ سن کر اُس چور نے (کعبہ شریف کے سامنے)  ’’  مقا م ابراہیم  ‘‘ کے پاس کھڑے ہو کر قسم کھا لی ،   یہ دیکھ کرمال کے مالک نے  ’’ رکن یمانی ‘‘  اور مقام ابراہیم کے درمیان کھڑے ہو کر دعا کیلئے ہاتھ اُٹھا لئے ، ابھی وہ دعا مانگ ہی رہا تھا کہ چورپاگل ہو گیا اور وہ مکہ شریف میںاِس طرح چیخنے چلانے لگا: ’’ مجھے کیا ہوگیا ! اورمال کو کیا ہوگیا !  !  اور مال کے مالک کو کیا ہو گیا! ! ‘‘ یہ خبر اللہ تَعَالٰی کے پیارے نبی  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دادا جان حضرتعَبْدُ المُطَّلِب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو پہنچی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تشریف لائے اور وہ مال جمع کر کے جس کا تھا،  اُس شخص کو دے دیا اور وہ اُسے لے کر چلا گیا ، جب کہ وہ چورپاگلوں  کی طرح  (بھاگتا اور)  چیختا چلاتا رہا ، یہاں  تک کہ ایک پہاڑ سے نیچے گر کر مرگیا اور  جنگلی جانور اُس کو کھا گئے۔ (اَخْبار مَکّۃ لِلاَزْرَقی ج۲ص۲۶مُلَخَّصًا)

چور کو دو سانپ نوچ نوچ کر کھائیں  گے

    میٹھے میٹھے مدنی منواور مدنی منیو!  نہ کبھی جھوٹ بولو،  نہ کبھی جھوٹی قسم کھاؤ اور نہ ہی کبھی کسی کی کوئی چیز چراؤ کہ اِس میں  دنیا میں  بھی تباہی ہے اور آخرت میں  بھی تباہی۔ حضرت مسروق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے روایت ہے: جو شخص چوری یاشراب خوری میں مبتلا ہو کرمرتا ہے اُس پرقَبر میں   دو سانپ مقرر کر دیئے جاتے  ہیں  جو اس کا گوشت نوچ نوچ کر کھاتے رہتے ہیں۔ (شَرْحُ الصُّدُور ص ۱۷۲مُلخّصًا)

{۲} ٹیڑھی لاٹھی  والا جھوٹا چور

 



Total Pages: 8

Go To