Book Name:Ghareeb Faiday Main hay

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

غریب فائدے میں    ہے

 {شیطان لاکھ سُستی دلائے یہ رِسالہ اوّل تا آخِر مُکَمّل  پڑھ لیجئے۔ اِن شآءَ اﷲعَزَّوَجلَّ ثواب کے خزانۂ  لاجواب کے ساتھ ساتھ غُربت کے فضائِل وبرکات کی معلومات بھی حاصِل ہوں    گی۔}

دُرودِ پاک کی فضیلت

        صحابیٔ مصطفٰیحضرتِ سیِّدُنا جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے والد ِ گرامی حضرتِ سیِّدُنا سَمُرَہ سُوَائی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ رِوایت فرماتے ہیں    کہ ہم سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم  کے دربارِ گُہربار میں    حاضر تھے کہ ایک شخص حاضِر ہو کر عرْض گُزار ہوا:  یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں    سب سے اچّھا عمَل کون سا ہے؟ تو محبوبِ خدا،  سرورِ انبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم نے اِرشادفرمایا:   ’’ سچ بولنا اور امانَت ادا کرنا۔ ‘‘   (راویٔ حدیث حضرتِ سیِّدُنا سَمُرَہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے  ہیں   )  میں    نے عرْض کی: یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہٖ وَ سَلَّم!  مزید کچھ اِرشاد فرمائیے ! فرمایا:   ’’ کثرتِ ذکْر اور مجھ پر دُرودِ  پاک پڑھنا کہ یہ عمَل  فقْر (یعنی غُربت )   کو دُور کرتا ہے۔ ‘‘  (القول البدیع، الباب الثانی فی ثواب الصلاۃ علی رسول اللہ الخ،  ص۲۷۳ مختصراً)  

بہرِ رَفعِ مرْض و زَحمت و رنج و کُلْفَت   ڈھونڈتے پھرتے ہیں    وہ لوگ کہاں    کا تعویذ

تم پڑھو صاحبِ لَولاک پرکثرت سے دُرُود   ہے عجب دردِ نِہاں   اور اَماں    کا تعویذ

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجھَہُ الْکَرِیم کی قناعت

 حضرت سیدنا سُوید بن غَفلہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں    کہ میں     امیر المؤمنینحضرت مولائے کائنات،  علی المرتضیٰ شیرِخدا  کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجھَہُ الْکَرِیم کی خدمت سراپا عظمت میں    دَارُالاَمارۃ کوفہ میں    حاضر ہوا۔ آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجھَہُ الْکَرِیم کے سامنے جو شریف کی روٹی اور دودھ کا ایک پیالہ رکھا ہوا تھا،  روٹی خشک اور اس قدر سخت تھی کہ کبھی اپنے ہاتھوں    سے اور کبھی گھٹنے پر رکھ کر توڑتے تھے۔ یہ دیکھ کر میں    نے آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجھَہُ الْکَرِیم کی کنیز فِضّہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا سے کہا،  آپ کو ان پر ترس نہیں    آتا؟ دیکھئے تو سہی روٹی پر بھوسی لگی ہوئی ہے ان کیلئے جو شریف چھان کر نرم روٹی پکایا کریں  ۔ تا کہ توڑنے میں    مشقت نہ ہو ۔فِضّہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا  نے جواب دیا،  امیرالمؤمنینکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجھَہُ الْکَرِیمنے ہم سے عہد لیا ہے کہ ان کے لئے کبھی بھیجو شریف چھان کر نہ پکایا جائے۔ اتنے میں  امیرالمؤمنین کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجھَہُ الْکَرِیم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا،  اے ابن



Total Pages: 14

Go To