Book Name:Hatho Hath Phuppi Say Sulah Karli

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ؕ

اَمَّا بَعْدُ فاَعُوْذُ بِاللہ  مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہ  الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ؕ

ہاتھوں   ہاتھ پُھوپھی سے صُلح کر لی

شیطٰن لاکھ سُستی دلائے  مگر آپ یہ رسالہ(25صَفحات)  مکمَّل

 پڑھ لیجئے اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّوَجَلَّ آپ کو مفید ترین معلومات ملیں   گی۔

درود شریف کی فضیلت

(صَلَّی اللہ  عَلٰی محمَّد کی فضیلت)

حضرتِ سیِّدُنا ابو المُظَفَّر محمد بن عبد اللہ  خَیّام سمر قندی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ  القَوِی فرماتے ہیں  : میں   ایک روز راستہ بھول گیا،اچانک ایک صاحب نظر آئے اور اُنہوں   نے کہا:’’میرے ساتھ آؤ۔‘‘ میں   ان کے ساتھ ہولیا۔ مجھے گمان ہوا کہ یہ حضرتِ سیِّدُنا خِضَر عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام ہیں  ۔ میرے اِستفسار (یعنی پوچھنے) پر اُنہوں   نے اپنا نام خِضَربتایا، ان کے ساتھ ایک اور بزرگ بھی تھے، میں   نے ان کا نام دریافت کیا تو فرمایا: یہ  اِلیاس(عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام) ہیں  ۔ میں   نے عرض کی : اللہ  عَزَّوَجَلَّ آپ پررَ حمت فرمائے، کیا آپ دونوں   حضرات نے سرورِ کائنات ،شَہنشاہِ موجودات، مَحبوبِ ربُّ الْاَرضِ وَالسَّمٰوت، احمدِمُجتَبیٰ، مُحَمَّدِ مصطَفٰےصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی زیارت کی ہے؟اُنہوںنے فرمایا: ہاں  ۔میں   نے عرض کی: سرکارِ مدینہصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے سُنا ہوا ارشادِ پاک بتایئے تاکہ میں   آپ سے رِوایت کر سکوں   ۔ اُنہوں   نے فرمایا کہ ہم نے رسولِ خدا صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو یہ فرماتے سنا کہجو شخص مجھ پردرود ِ پاک پڑھے اُس کا دل نفاق سے اِسی طرح پاک کیاجاتا ہے جس طرح پانی سے کپڑا پاک کیا جاتا ہے۔ نیز جو شخص    ’’صَلَّی اللہ  عَلٰی مُحَمَّد‘‘ پڑھتا ہے تو وہ اپنے اوپر رَحمت کے70دروازے کھول لیتا ہے۔                                                                (اَلْقَوْلُ الْبَدِ یع ص۲۷۷،جَذْبُ الْقلُوب ص۲۳۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ہاتھوں   ہاتھ پھوپھی سے صُلح کرلی

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آج کل بات بات پرلوگ رِشتے داریاں   کا ٹ کر رکھ دیتے ہیں   ، لہٰذا آپس میں   مَحَبَّت کی فضا قائم ہونے کی خواہش کی اچھی نیت کے ساتھ مزید ثواب کمانے کیلئے رشتے داروں   کے ساتھ حسنِ سلوک کے ضمن میں   نیکی کی دعوت پیش کرتے ہوئے مَدَنی پھول پیش کرنے کی سعی کرتا ہوں  :حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ ایک مرتبہ سرکارِ مدینہصَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی احادیثِ مبارَکہ بیان فرما رہے تھے،اِس دَوران فرمایا: ہر قاطِع رِحم(یعنی رشتے داری توڑنے والا) ہماری محفل سے اُٹھ جائے۔ ایک نوجوان اُٹھ کر اپنی پھوپھی کے ہاں   گیا جس سے اُس کا کئی سال پُرانا جھگڑا تھا،جب دونوں   ایک دوسرے سے راضی ہو گئے تو اُس نوجوان سے پھوپھی نے کہا :تم جا کر اس کا سبب پوچھو،  آخر ایسا کیوں   ہوا؟(یعنی سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ کے اعلان کی کیا حکمت ہے؟) نوجوان نے حاضر ہو کر جب پوچھا توحضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ  تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ میں   نے حضورِ انور صَلَّی اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے یہ سنا ہے:’’ جس قوم میں   قاطِعِ رِحم(یعنی رشتے داری توڑنے والا) ہو، اُس قوم پر اللہ  کی رَحمت کا نزول نہیں   ہوتا۔‘‘ 

(اَلزَّواجِرُ عَنِ اقْتِرافِ الْکبائِر ج۲ ص۱۵۳)

ساس بَہُو میں   صُلح کا راز

 



Total Pages: 11

Go To