Book Name:Seerat e Rasool e Arabi صلی اللہ تعالی علیہ وسلم

عربی  ‘‘   کا مطالعہ کافی ممد و معاون ہے، مولف نے بڑے دلکش انداز میں میٹھے میٹھے آقا  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی مبارک زندگی کے حالات قلمبند فرمائے ہیں اور آج تقریباًپون صدی گزرنے کے بعد بھی اس کتاب کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے ۔مزید سنتوں پر عمل کا جذبہ بڑھانے اور اس پر استقامت پانے کے لیے دعوتِ اسلامی کے سنتوں بھرے مَدنی ماحول سے وابستہ ہو جائیے ، مدنی قافلوں میں سفر اور روزانہ اپنا محاسبہ  (فکر مدینہ)  کرنے کو اپنا معمول بنا لیجئے !  ان شاء اللّٰہ عَزَّوَجَلَّدونوں جہاں میں اس کی برکتیں نصیب ہوں گی۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں سنتیں سیکھنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے نیز انہیں عام کرنے کا جذبہ مرحمت فرمائے !  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔

سیرت کے معنی

            لفظ ’’سِیْرَۃ  ‘‘  دراصل  سَارَ  یَسِیْرُ  سَیْرًا  وَ مَسِیْرًا سے نکلا ہے جس کے لغوی معنی ہیں : طریقہ،  چلنا،  نیز قصے اور واقعات بیان کرنے کو بھی سیرت کہتے ہیں ۔  (اردو دائرۂ معارف اسلامیہ، ج۱۱ ، ص۵۰۵)  سیرت کے اَولین اِصطلاحی معنی حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مغازی  (غزوات کے حالات)  اور سوانح حیات ہیں ۔  (اردو دائرۂ معارف اسلامیہ،  ج۱۱،  ص۵۰۶)

                قدیم محدثین وفقہاء ’’ مغازی وسیر ‘‘ کے عنوان کے تحت فقط غزوات اوراس کے متعلقات کو بیان کرتے تھے مگر سیرتِ نبویہ کے مصنفین نے اس عنوان کو اس قدرو ُسعت دے دی کہ حضور رحمت عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ولادت باسعادت سے وفاتِ اَقدس تک کے تمام مراحل حیات ، آپ کی ذات وصفات،  آپ کے دن رات اور تمام وہ چیزیں جن کو آپ کی ذات والا صفات سے تعلقات ہوں خواہ وہ انسانی زندگی کے معاملات ہوں یا نبو ت کے معجزات ہوں ان سب کو ’’ کتابِ سیرت  ‘‘  ہی کے ابواب وفصول اورمسائل شمار کرنے لگے۔اسی طرح خلفاء راشدین ہوں یا دوسرے صحابۂ کرام ،  اَزواجِ مطہرات ہوں یا آپ کی اولادِ عظام،  ان سب کی کتاب زندگی کے اَوراق پر سیرتِ نبوت کے نقش ونگار پھولوں کی طرح مہکتے ،  موتیوں کی طرح چمکتے اورستاروں کی طرح جگمگاتے ہیں ۔ اور یہ تمام مضامین سیرتِ نبویہ کے ’’ شجرۃ الخلد  ‘‘ ہی کی شاخیں ،  پتیاں ،  پھول اورپھل ہیں ۔ (سیرتِ مصطفیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، ص۳۹)

  دورِ تابعین اورسیرت نگاری

            امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے دور ِخلافت میں جب اَحادیث نبویہ کی کتابت کا عام طور پر چرچا ہوا تو دورِ تابعین میں ’’ محدثین  ‘‘ کے ساتھ ساتھ سیرت نبویہ کے مصنفین کابھی ایک طبقہ پیداہوگیا۔اب تک مغازی و سیر کی طرف توجہ نہیں کی گئی تھی حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے اس فن کی طرف خاص توجہ دی اور حکم ارشاد فرمایا کہ غزواتِ نبوی کا خاص حلقہ درس قائم کیا جائے چنانچہ حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ انصاری رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکو جو اس فن میں خاص کمال رکھتے تھے ، حکم دیا گیا کہ جامع مسجد دمشق میں لوگوں کو مغازی کا درس دیں ۔ اسی زمانے میں مشہور تابعی بزرگ امام زہری رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بھی تھے جوحدیث و فقہ میں کمال مہارت رکھتے تھے ان کا شمار امام بخاری کے شیوخ میں ہوتا ہے ، انہوں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی ہدایت پر کتاب المغازی لکھی ، جس کی وجہ سے سیرت و مغازی کا عام ذوق پیدا ہوا۔ ان کے تلامذہ بھی سیرت نگاری کی طرف مائل ہوئے اورسیرت نگاری کا سلسلہ شروع ہوا ۔اس طرح اس فن کی بدولت حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اخلاق وعادات جو حدیث کی کتب میں موتیوں کی طرح بکھرے ہوئے تھے اور ان میں کوئی تاریخی ترتیب نہیں تھی وہ ایک خاص ترتیب کے تحت ایک جگہ جمع ہوگئے ۔  (ماخوذ از: اردو دائرۂ معارف اسلامیہ، ج۱۱ ، ص۵۰۶)

گیارھویں صدی ہجری تک کے چند سیرت نگار

            وہ عاشقانِ رسول جو سیرت نویسی کی بدولت آسمانِ عزت وعظمت میں ستاروں کی طرح چمکتے اورچمنستان شہرت میں پھولوں کی طرح مہکتے ہیں ان خوش نصیب عالموں کی فہرست اتنی طویل ہے کہ ان کا حصروشمار ہماری طاقت واقتدار سے باہر ہے۔ جن محدثین،  مؤرخین اور مفسرین نے کثیر تعداد میں سیرت کی کتب پر کام کیا ہے ان سب کو تو یہاں ذِکر نہیں کیا جاسکتا مگر پھر بھی چند سیر کی کتب کے مصنفین کا ذکر ’’ ذِکْرُ الصَّالِحِیْنَ کَفَّارَۃٌ  ‘‘   (نیکوں کا ذکر گناہوں کا کفارہ ہے)  کی نیت سے کیا جاتا ہے۔ دورِ تابعین سے گیارہویں صدی تک چند مقتدر محدثین ومصنفین سیرت کے اَسماءے گرامی ملاحظہ فرمائیے۔ گیارہویں صدی کے بعد والے مصنفین کے ناموں اور ان کی کتب کو ہم نے اس فہرست میں ا س لئے جگہ نہیں دی کہ یہ لوگ درحقیقت اگلے مصنفین ہی کے خوشہ چین وفیض یافتہ ہیں :

            ٭…حضرت عُروَہ بن زُبیر تابِعی  (مُتَوفّٰی  ۹۲ھ )

                ٭…حضرت عامِر بن شَراحِیْل امام شَعْبی  (مُتَوفّٰی ۱۰۴ھ)

                ٭…حضرت اَبان بن امیر المؤمنین حضرت عُثمان   (مُتَوفّٰی  ۱۰۵ھ)

                ٭…حضرت وَہَب بن مُنَــبِّہ یََمَنی (مُتَوفّٰی  ۱۱۰ھ)                                                   

                ٭…حضر ت عاصِم بن عُمَر بن قَتادہ  (مُتَوفّٰی  ۱۲۰ھ)

                ٭…حضرت شُرَحْبِیْل بن سَعْد (مُتَوفّٰی ۱۲۳ھ)

                ٭…حضرت محمد  بن شِہاب زُہری (مُتَوفّٰی ۱۲۴ھ)

                ٭…حضرت اسمٰعیل بن عبدالرحمن سُدِّی  (مُتَوفّٰی ۱۲۷ھ)

                ٭…حضرت عبداللّٰہ بن ابوبکر بن حَزْم (مُتَوفّٰی  ۱۳۵ ھ)

                ٭…حضرت موسیٰ بن عُقْبَہ (صاحب المَغازی)  (مُتَوفّٰی  ۱۴۱ھ)

                ٭…حضرت مَعْمَر بن راشِد (مُتَوفّٰی ۱۵۰ھ)

                ٭…حضرت محمد  بن اسحاق  (صاحب المَغازی)  (مُتَوفّٰی۱۵۰ھ)

 



Total Pages: 284

Go To