Book Name:Ihtiram e Muslim

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

احترام مسلم[1]

شیطٰن لاکھ سُستی دلائے صرف(36صفحات)پر مشتمل یہ بیان مکمَّل پڑھ لیجئے

اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ اپنے دل میں  مَدَنی انقلاب برپاہوتاہوا محسوس فرمائیں  گے۔

 درود شریف کی فضیلت

            سرکار مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان تقرب نشان ہے :  ’’قیامت کے روز لوگوں  میں  میرے نزدیک تر وہ ہوگا جس نے مجھ پر زِیادہ دُرُودشریف پڑھے ہوں  گے۔‘‘( تِرمِذی ج۲ص۲۷حدیث۴۸۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب !                      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

کھو ٹا سِکّہ

         حضرت سیّدُنا شیخ ابو عبدُاللہ خیاط رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاس ایک آتش پرست کپڑے سلواتا اور ہر بار اُجرت میں  کھوٹا سکہ دے جاتا،  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ چپ چاپ لے لیتے۔ایک بار آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی غیر موجودَگی میں شاگرد نے آتش پرست سےکھوٹا سکہ نہ لیا ۔ جب واپس تشریف لائے اور معلوم ہوا تو شاگرد سے فرمایا :  تو نے کھوٹا دِرہم کیوں  نہیں  لیا ؟ کئی سال سے وہ مجھے کھوٹاسکہ ہی دیتارہا ہے اور میں بھی جان بوجھ کرلے لیتا  ہوں  تاکہ یہ وہی سکہ کسی دُوسرے مسلمان کو نہ دے آئے۔(اِحیاءُ الْعُلوم ج۳ ص۸۷ مُلَخَّصاً )

دعوتِ اسلامی کیا چاہتی ہے ؟  

             میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! دیکھا آپ نے  ! پہلے کے بزرگوں  میں  احترام مسلم کا جذبہ کس قدر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہوتاتھا۔کسی اَنجانے مسلمان بھائی کو اِتفاقی نقصان سے بچانے کیلئے بھی اپنا خسارہ گوارا کرلیا جاتا تھا ،  جبکہ آج تو بھائی ہی بھائی کو لوٹنے میں مصروف ہے۔تبلیغ قراٰن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک،   دعوت اسلامی دورِ اَسلاف کی یاد تازہ کرنا چاہتی ہے۔ ’’ دعوت اسلامی‘‘ نفرتیں  مٹاتی اور محبتوں  کے جام پلاتی ہے۔ہر اسلامی بھائی کو چاہیے کہ عاشقان رسول کے مَدَنی قافلوں  میں  سنتو ں کی تربیت کے لیے سفر اورروزانہ    ’’ فکر مدینہ‘‘ کے ذریعے مَدَنی اِنعامات کا رسالہ پر کر کے ہر مَدَنی ماہ کے پہلے دن اپنے یہاں  کے ذِمے دار کو جمع کروانے کا معمول بنائے۔اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ بطفیل مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اِحترامِ مسلم کا جذبہ بیدار ہوگا۔ اگر ایسا ہوگیا تو  اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمارا معاشرہ ایک بار پھر مدینۂ منوَّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً  کے دلکش و خوشگوار ،  خوشبودار وسدا بہار رنگ برنگے پھولوں  سے لدا ہوا حسین گلزار بن جائے گا۔    ؎    

طیبہ کے سوا سب باغ پامالِ فَنا ہوں  گے

دیکھو گے چمن والو جب عَہدِ خَزاں  آیا

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب !                      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

تین شخص جنّت سے (ابتِداءً) محروم

      والدین و دیگر ذوی الارحام(یعنی جن کے ساتھ خونی رشتہ ہودَرَجہ بدَر َجہ ) معاشرے میں  سب سے زیادہ احترام وحسن سلوک کے حقدار ہوتے ہیں ،   مگر افسوس کہ اس کی طرف اب دھیان کم دیا جاتا ہے ۔بعض لوگ عوام کے سامنے اگرچِہ انتہائی مُنْکَسِرُ المزاجو ملنسار گردانے جاتے ہیں  مگر اپنے گھر میں  



[1]   یہ بیان امیرِ اہلسنّتدَامَت بَرَکَاتُہُم الْعَالِیَہ نے تبلیغِ قراٰن و سنت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک  دعوتِ اسلامی کے تین روزہ بین الاقوامی اجتماع (۱۱،   ۱۲ ،   ۱۳ شعبان المعظم ۱۴۲۳؁ ھ بروز ہفتہ مدینۃ الاولیاء ملتان)میں فرمایا،   ترمیم کے ساتھ تحریراًحاضر خدمت ہے ۔    ۔مجلسِ مکتبۃُ المدینہ



Total Pages: 14

Go To