Book Name:Faizan e Hafiz e Millat رحمۃ اللہ تعالی علیہ

نے فرمایا: شوالُ المکرم  سے اجمیر شریف آجائیں مدرسہ مُعینیہ میں داخلہ دلوا کر تعلیمی سلسلہ شروع کرادوں گا۔([1])

صدرُ الشریعہ کی  شفقت

شوالُ المکرم ۱۳۴۲ھ میں حافظِ ملترَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے چند ہم اَسباق  دوستوں کے ساتھ  اجمیر شریف پہنچے ان میں امام ُالنحو حضرت علامہ غلام جیلا نی میرٹھیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِیبھی شامل تھے۔چنانچہ صدر ُالشریعہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےسب کو جامعہ مُعینیہ میں داخلہ دلوادیا، تمام درسی کتابیں دیگر مُدرِّسین پر تقسیم ہوگئیں مگرحضرت صدرُ الشریعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ازراہِ شفقت  اپنی مصروفیات سے فارغ ہوکر تہذیب اوراُصُولُ الشَّاشی کا درس دیا کرتے۔علمِ منطق کی کتابحَمْدُ اللّٰه تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد حافظِ ملّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے معاشی پریشانی اور ذاتی  مصروفیت کی وجہ سے مزید تعلیم جاری نہ رکھنے کا ارادہ کیا اور دورۂ حدیث شریف پڑھنے کی خواہشظاہر کی تو حضرت صدرُ الشریعہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے شفقت سے فرمایا:آسمان  زمین بن سکتا ہے، پہاڑ اپنی جگہ سے  ہل سکتا ہےلیکن آپ کی ایک کتاب بھی رہ جائے ایسا  ممکن نہیں ۔چنانچہ آپ نے اپنا ارادہ مُلتوی کیا اور پوری دلجمعی کے ساتھ صدرُالشریعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی خدمت میں رہ کر مَنازلِ علم طے کرتے رہے بالآخر استادِمحترم قبلہ صدرُالشریعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی نگاہِ فیض سے ۱۳۵۱ھ بمطابق 1932ء میں دارُالعلوم منظرِ اسلام بریلی شریف سے دورۂ حدیث مکمل کیا اور دستار بندی ہوئی۔([2])

آپ کے اساتذۂ کرام

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ ماجد حضرت حافظ محمد غلام نور اور مولانا عبدالمجىد بھوجپورى رَحِمَھُمَا اللّٰہُتَعَالٰی  سے حاصل کی اس کے علاوہ جامعہ نعیمیہ (مراد آباد)میں حضرت مولانا عبدالعزىز خان فتح پورى، حضرت مولانا اجمل شاہ سنبھلى،  حضرت مولانا وَصى احمدسہسرامى اورجامعہ  مُعىنىہ عثمانىہ( اجمىر شرىف) میں حضرت مولانا مُفْتى امتىاز احمد،  حضرت مولانا حافظ سَىِّد حامد حسىن اجمىرى اورحضرت صدرُ الشرىعہ علامہ مُفْتی  امجد على اعظمى رَحِمَھُمُ اللّٰہُتَعَالٰی جیسے جلیلُ القدر اساتذہ سے  اکتسابِ علم کیا بالخصوص صدرُالشریعہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی نگاہِ فیض سے آسمانِ علم کے درخشاں ستارے  بن کر چمکے ۔([3])

صدرُ الشریعہ کے حکم کی تعمیل

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ     فارغُ التحصیل ہونے کے بعدکچھ عرصے  بریلی شریف (یوپی ہند) میں حضور صدرُ الشریعہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں رہے۔ شوال المکرم  ۱۳۵۲ھ میں حضرت صدرُ الشریعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے آپ کو مبارک پور(ضلع اعظم گڑھ یوپی) میں دَرس و تدریس کا حکم دیا توآپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  نے  عرض کی: حضور! میں ملازمت نہیں کروں گا۔ صدرُ الشریعہرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  نے فرمایا:میں نے ملازمت کا کب کہاہے؟ میں توخدمتِ دین کے لئے بھیج رہا ہوں۔([4])

کاش ! خدمت سنتوں کی میں سدا کرتا رہوں        اہلسنت کا میں سدا بن کر رہوں خدمت گار

                                                                                                (وسائل بخشش ص:۴۰۰)

مبارک پور میں آمد

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ۲۹ شوال المکرم ۱۳۵۲ھ بمطابق ۱۴ جنوری 1934ء کو مبارکپور پہنچےاور مدرسہ  اشرفیہ مصباحُ العلوم(واقع محلہ پرانی بستی) میں تدریسی خد مات میں مصروف ہوگئے۔ابھی  چند ماہ ہی گزرے تھے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے طرزِ تدریس اور علم و عمل کے چرچے عام ہوگئے اور تشنگانِ علم کا ایک سیلاب اُمنڈ آیا جس کی وجہ سے مدرسے میں جگہ کم پڑنے لگی اورایک  بڑی درسگاہ کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنی  جِدّو جُہدسے ۱۳۵۳ھ میں دنیائے اسلام کی ایک عظیم درسگاہ (دارُالعلوم)کی تعمیرکا آغازگولہ بازارمیں فرمایا جس کا  نام سلطانُ التارکین حضرت مخدوم سَیِّد اشرف جہانگیر سمنانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی کی نسبت سے ”دارُالعُلُوم اشرفیہ مصباح ُالعلوم “ رکھاگیا ۔ ([5])

دارُالعُلُوم  اشرفیہ سے اِسْتِعفا اورپھر واپسی

حضورحافظِ ملت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ شوال ۱۳۶۱ھ میں کچھ مسائل کی بناپر اِسْتِعْفا دے کر جامعہ عَربیہ ناگپور تشریف لے گئے، چونکہ آپ مالیات کی فَراہمی اور تعلیمی اُمور میں بڑی  مہارت رکھتے تھےلہٰذا آپ کے دارُالعلوم اَشْرفیہ سےچلے جانے کے بعدوہاں  کی تعلیمی اور معاشی حالت اِنتہائی خَستہ ہوگئی تو حضرت صدرُ الشریعہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے حکمِ خاص پر۱۳۶۲ھ میں ناگپور سے اِسْتِعْفادے کردوبارہ  مُبارکپور تشریف لے آئے اورتادم ِحیات دارُالعلوم اَشرفیہ مُبارکپور سے وابستہ رہ کر تدریسی و دینی خدمات کی انجام دہی میں مشغول رہے۔حافظِ ملت رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کی کوششوں سے مُفتیٔ اعظم ہند شہزادہ ٔ اعلیٰ حضرت مفتی محمد مصطفےٰ رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کے دستِ مبارک سے ۱۳۹۲ھ بمطابق 1972ء میں



[1]     مختصر سوانح حافظ ملت، ص ۲۴وغیرہ

[2]      حافظ ملت نمبر، ص۲۳۲ملخصاًوغیرہ

[3]     حیات حافظ ملت،ص۶۲،۶۳ملتقطاً

[4]     سوانح حافظ ملت، ص۲۷ ملتقطاً

[5]     سوانح حافظ ملت، ص۳۹ تا ۴۰ ،وغیرہ



Total Pages: 9

Go To