Book Name:TV ki Tabah Kariyan

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

T.V کی تباہ کاریاں [1]

شیطٰن لاکھ سستی دلائے 48صفحات کا یہ بیان  مکمل پڑھ لیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ
 آپ اپنے دل میں    مَدَنی اِنقلاب برپا ہوتا محسوس فرمائیں   گے ۔

دُرُود شریف کی فضیلت

          حضرتِ سیِّدُنا امام محمد بن عبدا لرحمٰن سَخاوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنقل فرماتے ہیں ،  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّنے حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اﷲ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی طرف وَحی فرمائی کہ میں   نے تجھ میں   دس ہزار کان پیدا فرمائے ، یہاں   تک کہ تُو نے میرا کلام سنا اور دس ہزار زَبانیں   پیدا فرمائیں   جن کے ذَرِیعے تُو نے مجھ سے کلام کیا ۔  تُو مجھے بَہُت زِیادہ محبوب اور میرے نزدیک ترین اُس وقت ہوگا جب تُو میرا ذکر کرے گا اور محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) پر کثرت سے دُرُود بھیجے گا ۔  ‘‘  (القول البدیع ص۲۷۵ ۔ ۲۷۶ مؤسسۃ الریان بیروت)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

خوفناک کنکھجُورے

          ہند کے کسی شہر کی ایک مسجِد میں   کچھ سوگوار افراد گھبرائے ہوئے آئے اور نَمازیوں   سے کہنے لگے : ہمارے یہاں   میِّت ہوگئی ہے اور بڑا عجیب مُعاملہ ہے ، آپ حضرات برائے کرم آکر دعا فرمادیجئے ۔  جب سب گھر پہنچے تو ایک جوان عورت کی لاش کمرہ میں   رکھی تھی اور اُس کے چاروں   طرف بڑے بڑے خوفناک کنکھجور ے مُحاصَرہ کئے ہوئے تھے ! یہ وحشت ناک منظر دیکھ کرمارے خوف کے سب کی گِھگّی بندھ گئی، کسی سمجھدار شَخْص نے کہا :  یہ میِّت کا عذاب معلوم ہوتا ہے جو ہماری عبرت کیلئے ظاہِر کیا گیا ہے ! آؤ مل کر استِغفار کرتے ہیں   ۔  چُنانچِہ سب نے ملکر توبہ و استِغفار کرکے گڑگڑا کر اور رورو کر کافی دیر تک دعاء مانگی ۔  باِلآخر وہ خوفناک کنکَھجُور ے لاش کا گھیراؤ چھوڑ کر ایک طرف کونے میں   جمع ہوگئے ۔  ڈرتے ڈرتے میِّت کی تجہیز و تکفین کی ترکیب بنی ۔  نَمازِ جنازہ کے بعد جب میِّت کو قَبْر میں   اُتارا گیا تو بَہُت سارے خوفناک کَنکَھجور ے قَبْر کے ایک کونے میں   جمع تھے یہ دیکھ کر لوگوں   میں   خوف و ہراس پھیل گیا، جوں   توں   قَبْر کو بندکرکے لوگ وہاں   سے رُخصت ہوئے  ۔  

          تدفین کے بعد جب میِّت کی ماں   سے اُس کا عمل دریافت کیا گیا تو اُس نے کہا :  یہ T.V. دیکھنے کی بہت شوقین تھی ۔  ایک دن T.V. کے پروگرام میں   اس کا  پسندیدہ گانا آرہا تھا کہ اَذان شروع ہوگئی، میں   نے کہا :  بیٹی! اذان کا احتِرام کرو اور T.V. بند کردو ۔  اُس نے یہ کہہ کر T.V. بند کرنے سے انکار کر دیا کہ  ’’ امّی! اذان تو روزانہ ہوتی ہے مگر یہ پروگرام اور گانا کہاں   روز روز آتا ہے ! ‘‘  ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کو یہ عذاب اِسی سبب سے ہُوا ۔ واللّٰہُ تعالٰی اعلم و رسولہٗ اعلم عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

وزنی لاش

          رَمَضانُ المُبارَک کی ایک شام ماں   نے T.V. دیکھنے میں   مشغول اپنی بیٹی سے کہا :  آج افطار کیلئے مہمان آنیوالے ہیں  ، آؤ میرا ہاتھ بٹاؤ ۔  اُس نے جوابدیا :  امّی! آج ایک خُصُوصی پروگرام آرہا ہے میں   وہ دیکھ رہی ہوں   ۔  ماں   نے پھر حُکم دیا ۔  مگر اُس نے سُنی اَن سُنی کردی ۔  ماں  کی مُداخَلت سے بچنے کیلئے وہ اُوپر کے کمرہ میں   چلی گئی اور اندر سے کُنڈی لگا کر T.V. دیکھنے میں   مشغول ہوئی ۔  افطار کے وقت ماں   نے آوازیں   دیں   مگر جواب نہ ملا، اوپر جاکر دستک دی مگر جواب نَدارَد! اب وہ گھبرا گئی اور اس نے شور مچا کر گھر والوں   کو اکٹھّا کرلیا، بِالآخِر دروازہ توڑا گیا، یہ دیکھ کر سب کی چیخیں   نکل گئیں   کہ وہ جوان لڑکی T.V. کے سامنے اوندھے مُنہ پڑی ہے ، جب ہِلا جُلاکر دیکھا تو وہ مرچُکی تھی! کُہرام مچ گیا، جب لاش اُٹھانے لگے تو نہ اُٹھائی جاسکی ایسا محسوس ہوا کہ گویا ٹنوں   وزنی لاش ہے ! اِتِّفاق سے وہاں   سے ہٹانے کیلئے کسی نے T.V. کو اُٹھایا تو لاش ہلکی ہوگئی اور لوگوں   سے اُٹھ گئی! اب جب T.V. اُٹھاتے تو لاش اُٹھتی اور رکھ دیتے تو لاش وزْنی ہوجاتی ۔  بہرحال جُوں   تُوں   تجہیز و تکفین کے مراحِل طے ہوئے ۔  اب جنازَہ اُٹھانے لگے تو وہ کسی صورت سے نہ اُٹھا، جب T.V. اُٹھایا تب کہیں   اُٹھا! آخِرِکار ایک صاحِب آگے آگے T.V. اُٹھا کر چلے اور پیچھے پیچھے جنازہ ۔  نَمازِ جنازہ کے بعد تدفین ہوئی تو لاش باہَر نکل پڑی لوگ گھبرا گئے پھر جُوں   تُوں   اُتارا مگر ایسا ہی ہوا ۔  بالآخر جب T.V. قبر میں   رکھا تو لاش باہَر نہ نکلی ۔  لہٰذا T.V. کو بھی ساتھ ہی دَفن کر دیا گیا ۔  

یہ باتیں  عَقل میں   نہیں   آتیں  !

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ان واقِعات کو سُن کر ہوسکتا ہے کسی کے ذِہْن میں   یہ وَسوسہ آئے کہ یہ سب کس طرح ہوسکتا ہے یہ باتیں   عقْل میں   نہیں   آتیں   ۔  عرض یہ ہے ہر بات کوعَقل کی کسوٹی پر نہیں   رکھا جاتا ۔  ثواب و عذاب کا مُعامَلہ حق ہے ۔  ہوسکتا ہے  ’’ عَقل ‘‘  سے سوچنے والے کی سمجھ میں   مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّقبر و حشر اور جنّت و دوزخ کے مُعاملات بھی نہ



[1]     یہ بیان امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے تبلیغ قراٰن وسنت کی عا لمگیرغیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے تین روزہ سالانہ اجتماع (۲۴،۲۵،۲۶  رجب المرجب ۱۴۱۹ ؁ ھ    مدینۃ الاولیاء احمد آباد انڈیا ) میں   فرمایا۔ ضروری ترمیم کے ساتھ تحریرًا حاضرِ خدمت ہے۔ پیش کش:۔ مجلس مکتبۃ المدینہ



Total Pages: 10

Go To